پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی وراثت کا لوہا منوانے کے لیے ایک بہت بڑا اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ حکومتِ پاکستان کے نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کے مطابق پاکستان نے باقاعدہ طور پر یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج عبوری فہرست میں ریکارڈ توسیع کرتے ہوئے اس میں 12 نئے قدیم، سائنسی اور ثقافتی مقامات کو شامل کر دیا ہے۔
اس بڑی ثقافتی پیش رفت کے بعد پاکستان کے نامزد کردہ مقامات کی مجموعی تعداد 25 سے بڑھ کر 37 ہو گئی ہے۔ یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے سیاحتی تشخص کو اجاگر کرنے، ثقافتی سفارت کاری کو مضبوط بنانے اور مستقبل میں ان مقامات کو یونیسکو کی حتمی عالمی جائیدادوں کی فہرست میں شامل کرانے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرے گا۔
تین مراحل میں ہونے والی شمولیت اور یونیسکو کا ریکارڈ
وزارتِ ثقافت و ورثہ کے مطابق ان 12 نئے مقامات کو یونیسکو کے ریکارڈ میں تین مختلف فیزز (مراحل) کے اندر شامل کیا گیا ہے:
پہلا مرحلہ: چترال کے خوبصورت خطے میں واقع زندہ مقامی روایات کے امین کیلاشہ ویلی کلچرل لینڈ اسکیپ کو باقاعدہ طور پر عبوری فہرست کا حصہ بنایا گیا۔
دوسرا مرحلہ: اس مرحلے میں صوبہ سندھ کے تین تزویراتی اور تاریخی قلعوں یعنی کوٹ ڈیجی قلعہ، نوکوٹ قلعہ اور عمرکوٹ قلعہ کو شامل کیا گیا۔
تیسرا مرحلہ: اس آخری فیز میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بقیہ 8 اہم ترین مقامات کو فہرست کا حصہ بنایا گیا۔
نئے شامل ہونے والے 12 تاریخی مقامات کی تفصیلی فہرست
یہ نئے مقامات پاکستان کے اندر پائے جانے والے گندھارا آرٹ، اسلامی طرزِ تعمیر، قدیم مینوفیکچرنگ اور سائنسی قلعہ بندیوں کی عکاسی کرتے ہیں:
خیبر پختونخوا کے مقامات: اس صوبے سے 5 مقامات شامل ہوئے ہیں جن میں آثارِ قدیمہ کا گور کھتری کمپلیکس، بازیرہ باریکوٹ، بھامالا بدھسٹ کمپلیکس، پشاور کا تاریخی سیٹھی ہاؤس اور مائی قمرو مسجد شامل ہیں۔
پنجاب کے قلعے اور مقبرے: پنجاب سے وفاقی محکمہ آثارِ قدیمہ کے زیرِ انتظام پہلی بار پھروالا قلعہ، روات قلعہ اور سلطان مقرب خان کے مقبرے کو اس باوقار عالمی فہرست میں جگہ ملی ہے۔
سندھ اور چترال کی ثقافت: سندھ کے تین تاریخی قلعے (کوٹ ڈیجی، نوکوٹ، عمرکوٹ) اور چترال کی کیلاش وادی۔
یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج عبوری فہرست میں توسیع کے معاشی اور سفارتی فوائد
پاکستان میں فی الوقت یونیسکو کے 6 مستقل عالمی ثقافتی مقامات موجود ہیں (جن میں موہنجوداڑو، ٹیکسلا، تخت بھائی، شاہی قلعہ لاہور، مکلی کا قبرستان اور روہتاس قلعہ شامل ہیں)۔ 1997 میں روہتاس قلعہ کی شمولیت کے بعد سے پاکستان کسی نئے مقام کو فائنل لسٹ میں رجسٹر کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
اس نئے اقدام کے دور رس فوائد درج ذیل ہوں گے:
سیاحت کا فروغ: عالمی سطح پر اسکیننگ اور تصدیق کے اس دور میں، یونیسکو کی لسٹ میں نام آنے سے غیر ملکی سیاحوں اور محققین کی بڑی تعداد پاکستان کا رخ کرے گی۔
فنڈنگ اور تحفظ: ان مقامات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی اداروں سے کسٹمز، تکنیکی سافٹ ویئر اور مالیاتی گرانٹس حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔
رانی گٹ اور بھنبھور کی نامزدگی: حکومت نے تصدیق کی ہے کہ خیبر پختونخوا کے آثارِ قدیمہ رانی گٹ اور سندھ کی قدیم بندرگاہ بھنبھور کے حتمی دستاویزات بھی یونیسکو کو جمع کرائے جا رہے ہیں۔
نیشنل ہیریٹیج ڈویژن کے مطابق، ان تمام 37 مقامات کا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے تاکہ نسلِ نو ان سے فائدہ اٹھا سکے۔






