شمالی علاقہ جات کی جنگلی حیات کے تحفظ، نایاب نسل کے جانوروں کی بقا اور مقامی کمیونٹیز کی معاشی خوشحالی کے لیے حکومتِ گلگت بلتستان نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ گلگت بلتستان کے محکمہ پارکس اینڈ وائلڈ لائف نے باقاعدہ طور پر نئے سیزن کے لیے گلگت بلتستان ٹرافی ہنٹنگ ریٹس اور جانوروں کے کوٹے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ سال 2026-27 کے اس مینوفیکچرڈ سیزن کے تحت غیر ملکی اور ملکی شکاریوں کے لیے استور مارخور، بلیو شیپ اور ہمالین آئی بیکس کے شکار کے پرمٹس کی نیلامی کی جائے گی۔
محکمہ وائلڈ لائف کے جاری کردہ آفیشل مینوئل کے مطاب ان پرمٹس کی اوپن بائیومیٹرک اور لائیو بولی 10 ستمبر 2026 کو فارسٹ کمپلیکس جوتیال، گلگت میں منعقد ہو گی۔ اس سال ٹرافی ہنٹنگ کا سیزن 15 اکتوبر 2026 سے شروع ہو کر 10 اپریل 2027 تک جاری رہے گا اور شکار کی اجازت صرف منظور شدہ اور رجسٹرڈ کنزرویشن ایریاز میں ہی ہو گی۔
استور مارخور اور نایاب پرجاتیوں کی بنیادی قیمتوں کا مینوئل
محکمہ جنگلی حیات نے اس سال کے ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 117 جانوروں کے پرمٹس نیلام کرنے کا ہدف فکس کیا ہے جس میں 3 استور مارخور، 14 بلیو شیپ (نیلی بھیڑ) اور 100 ہمالین آئی بیکس شامل ہیں۔
مختلف نایاب جانوروں کے لیے مقرر کردہ بنیادی قیمتوں کی تفصیل درج ذیل سائنسی پیرامیٹرز کے مطابق ہے:
استور مارخور : پاکستان کے اس قومی جانور کے پرمٹ کی بنیادی قیمت سب سے زیادہ یعنی 200,000 (دو لاکھ) امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے سیزن میں مارخور کا ایک پرمٹ ریکارڈ 370,000 ڈالر میں نیلام ہوا تھا۔
بلیو شیپ : اس سیزن کے لیے نیلی بھیڑ کے شکار کے پرمٹ کی شروعاتی یا بنیادی قیمت 25,000 امریکی ڈالر فکس کی گئی ہے۔
ہمالین آئی بیکس : پہاڑی بکرے (آئی بیکس) کے پرمٹ کی کم از کم بولی 11,000 امریکی ڈالر سے شروع ہو گی۔
حکام کے مطابق مارخور کے کل برآمدی کوٹے میں 4 پرمٹس شامل تھے لیکن پچھلے سیزن کا ایک غیر استعمال شدہ پرمٹ آگے منتقل کیے جانے کی وجہ سے اس بار صرف 3 نئے پرمٹس نیلامی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔
حاصل کردہ ریونیو کا 80 فیصد حصہ مقامی کمیونٹیز کو منتقل کرنے کا فارمولا
گلگت بلتستان کا یہ کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام پوری دنیا میں پائیدار تحفظ کی ایک بہترین اور کامیاب ترین مثال مانا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے سوفٹ ویئر اور ریونیو رولز کے تحت حاصل ہونے والی کل رقم کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
80% مقامی آبادی کا حصہ: نیلامی سے حاصل ہونے والی خطیر رقم کا 80 فیصد حصہ براہِ راست ان مقامی ویلیج کنزرویشن کمیٹیوں کو کیش لیس منتقل کیا جاتا ہے جہاں شکار کیا جاتا ہے۔ یہ فنڈز دیہی علاقوں میں اسکولوں، ہسپتالوں کی تعمیر، پینے کے صاف پانی اور جنگلی حیات کی چوری کو روکنے کے مینوئل پر خرچ ہوتے ہیں۔
20% سرکاری خزانہ: باقی ماندہ 20 فیصد رقم سرکاری ریوینیو کسٹمز کے مطابق قومی خزانے میں جمع کرائی جاتی ہے۔
چیف کنزرویٹر زاکر حسین نے بتایا کہ گزشتہ سال وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے پرمٹس کی فروخت سے 35 کروڑ (350 ملین) روپے جمع کیے تھے جبکہ اس سال کا ہدف 55 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔
پچھلے سیزن کا خسارہ اور امن و امان کی صورتحال کے اثرات
رپورٹ کے مطابق، پچھلے سال (2025-26) کے سیزن کے دوران گلگت اور اسکردو میں ہونے والے چند سیاسی احتجاجی مظاہروں اور امن و امان کی غیر متوقع صورتحال کی وجہ سے امریکی اور یورپی شکاریوں نے اپنے سفری منصوبے منسوخ کر دیے تھے۔ اس مینوئل تعطل کے باعث 2 مارخور، 5 بلیو شیپ اور 10 آئی بیکس کے پرمٹس استعمال نہیں ہو سکے جس سے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو تقریباً 20 کروڑ روپے کا مالیاتی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ تاہم اس سال فول پروف سیکیورٹی مینوئل اور کسٹمز کلیئرنس کے بہتر انتظامات کی بدولت ریکارڈ غیر ملکی سیاحوں اور شکاریوں کی آمد متوقع ہے۔






