پاکستان کے پاور انفراسٹرکچر، مالیاتی ریگولیٹری مانیٹرنگ اور میکرو اکانومی کے تزویراتی کوریڈورز سے ریوینیو اور ٹیرف انڈیکسنگ کے حوالے سے ایک ہنگامی، تشویشناک اور بڑا معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے دائر کردہ پٹیشن پر باقاعدہ سماعت مکمل کرنے کے بعد بجلی کی قیمتوں میں 1.73 روپے فی یونٹ کا اضافی ٹیرف بڑھانے کی منظوری کے ساتھ اپنا تفصیلی فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
آج 30 ستمبر 2026 کو نیپرا ہیڈ کوارٹرز سے موصول ہونے والے آفیشل ٹرانزیکشن لاگز کے مطابق اس نئے ٹیرف رول کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ مانیٹرنگ فریم ورک لائیو ہو چکا ہے۔ سی پی پی اے کے کارپوریٹ مینیجرز کی جانب سے پیش کیے گئے ڈیٹا اور فنانشل کیلکولیشنز کا آڈٹ کرنے کے بعد نیپرا کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی حتمی نوٹیفکیشن لائیو کر دے گی۔ اس پریمیم اضافے کے بعد ملک بھر کے صالحین بشمول کے الیکٹرک کے صارفین پر مجموعی طور پر 29.5 ارب روپے کا خطیر اور ہالٹ معاشی بوجھ مینوفیکچر کیا جائے گا جس کا بنیادی سبب آئی پی پیز کو کی جانے والی اربوں روپے کی کیش لیس ادائیگیاں ہیں۔
اگست کا پاور جنریشن لاگ اور مہنگے ترین ایل این جی سورسز کا آڈٹ
سی پی پی اے کے مینیجرز کی جانب سے پورٹل پر اپ لوڈ کی گئی دستاویزی شیٹ کے مطابق اگست کے مہینے میں ملک کے اندر کل بجلی کی پیداوار 14.464 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی جس کی اوسط پیداواری لاگت 8.82 روپے فی یونٹ آٹو لاک ہوئی۔
ملکی بجلی کی مینوفیکچرنگ اور پیداواری مکس کا بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن ٹیبل کے مطابق وضع کیا گیا ہے:
| بجلی کی پیداوار کا سورس لاگ | کل پیداواری انڈیکس شیئر | یونٹ لاگت کے ٹیرف رولز |
| ہائیڈرو پاور (پن بجلی) | 37.84 فیصد (سب سے بڑا سورس) | لوکل کونسل رولز کے مطابق کم ترین |
| درآمدی کوئلہ | 15.59 فیصد | بین الاقوامی لاجسٹک ریٹس پر سنک |
| مقامی کوئلہ | 10.86 فیصد | تھر کول بلاک ون کے ٹرانزیکشن لاگز |
| ایل این جی | 8.48 فیصد (مہنگا ترین سورس) | 45.92 روپے فی یونٹ کی ریکارڈ بلندی |
| مقامی گیس (Local Gas) | 7.04 فیصد | گھریلو اور صنعتی گیس سپلائی چین |
آئی پی پیز کے کلاؤڈ کلیمز اور پرانی ایڈجسٹمنٹس کا فنانشل فریم ورک
سماعت کے دوران سی پی پی اے نے مختلف پاور پلانٹس کے 20.7142 ارب روپے کے بقایاجات اور ایڈجسٹمنٹ کلیمز کا تفصیلی آڈٹ پیش کیا۔ اس اسمارٹ فائنینشل سسٹم کے تحت چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے لیے 1.3246 ارب روپے، توانیر ایران کے لیے 528.1 ملین روپے اور پنجاب تھرمل پاور کے لیے 183.8 ملین روپے کے کلیمز کو کلاؤڈ ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔
اس کے ساتھ ہی آر ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس کے لیے جولائی اور اگست کے مہینوں کا 10.6168 ارب روپے کا عارضی پروویژنل چالان بھی اس فنڈ پول میں شامل کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ماضی کی کچھ ادائیگیاں جیسے جولائی 2026 کے لیے 10.7432 ارب روپے اور جون 2026 کے لیے 2.2274 ارب روپے کے مینوئل کلیمز کو سسٹم سے فیز آؤٹ کر کے صارفین کو جزوی ریلیف دینے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ یہ پورا اسمارٹ اور پیپر لیس ریگولیٹری رخ اگرچہ صارفین کے لیے معاشی دباؤ مینوفیکچر کرے گا، لیکن یہ ملکی کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس کو بہتر بنانے اور آئی ایم ایف کے مروجہ کونسل رولز کو پورا کرنے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج مستقل طور پر برقرار رہے۔






