صحرائے چولستان کی پہچان اور فنِ تعمیر کا شاہکار قلعہ ڈیراور (Derawar Fort) ایک طویل عرصے کے بعد اپنی اصل شان و شوکت کے ساتھ سیاحوں کے لیے تیار ہے۔ حکومتِ پنجاب اور محکمہ آثارِ قدیمہ نے مئی 2026 میں قلعے کے بڑے حصے کی بحالی کا کام مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نویں صدی کے اس عظیم الشان قلعے کی دیواروں اور برجوں کو محفوظ بنانے کے لیے جدید ترین تکنیک استعمال کی گئی ہے تاکہ اسے آنے والی نسلوں کے لیے بچایا جا سکے۔ تاہم اس بار قلعے کی سیر کے لیے انتظامیہ نے کچھ سخت قواعد و ضوابط وضع کیے ہیں جن کا جاننا ہر سیاح کے لیے ضروری ہے۔
قلعہ ڈیراور کی بحالی: ایک تاریخی سنگِ میل
قلعہ ڈیراور اپنی 40 بلند و بالا دیواروں (Bastions) کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ پچھلے چند برسوں میں موسمی حالات اور دیکھ بھال کی کمی کی وجہ سے اس کی دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی تھیں۔ محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب کے مطابق اس بحالی منصوبے میں قلعے کے مرکزی دروازے، شاہی قبرستان کے ملحقہ حصوں اور اندرونی بیرکوں کی مرمت کی گئی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد بہاولپور میں سیاحت کو عالمی سطح پر فروغ دینا ہے۔
سیاحوں کے لیے 3 نئے اور لازمی قوانین
اگر آپ مئی 2026 یا اس کے بعد قلعہ ڈیراور کی سیر کا ارادہ رکھتے ہیں تو ان تین نئے قوانین کی پابندی لازمی ہے:
ایڈوانس آن لائن بکنگ اور انٹری فیس
اب قلعے میں داخلہ پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیاد پر نہیں ہوگا۔ رش کو کنٹرول کرنے اور قلعے کی ساخت کو انسانی بوجھ سے بچانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر سیاحوں کی تعداد مقرر کر دی گئی ہے۔
سیاحوں کو پنجاب ٹورزم کے آفیشل پورٹل سے ای-ٹکٹ (E-Ticket) حاصل کرنا ہوگا۔ بغیر بکنگ کے کسی بھی فرد کو قلعے کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
فوٹو گرافی اور ڈرون کیمروں پر پابندی
اگرچہ عام موبائل فون سے تصاویر لینے کی اجازت ہے لیکن پیشہ ورانہ فوٹو گرافی اور ڈرون کے استعمال کے لیے نئے رولز بنائے گئے ہیں۔
قلعے کے حساس حصوں کی ڈرون فوٹو گرافی ممنوع ہے۔ کمرشل شوٹنگ کے لیے محکمہ آثارِ قدیمہ سے کم از کم 7 روز پہلے تحریری اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
. ماحولیاتی تحفظ اور ‘نو پلاسٹک’ زون
چولستان کے صحرا اور قلعے کے اندر صفائی کو برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔
قلعہ ڈیراور کو ‘پلاسٹک فری زون’ قرار دے دیا گیا ہے۔ سیاحوں کو اپنے ساتھ پلاسٹک کی بوتلیں یا تھیلے لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
قلعہ ڈیراور تک رسائی اور سفری معلومات
بہاولپور شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ قلعہ اب پکی سڑک کے ذریعے منسلک ہے۔ سیاحوں کی سہولت کے لیے ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب (TDCP) نے بہاولپور سے خصوصی شٹل سروس بھی شروع کر دی ہے۔ قلعے کے قریب واقع تاریخی ‘جامع مسجد ڈیراور’ بھی سیاحوں کے لیے ایک لازمی مقام ہے۔
مزید تازہ ترین اپڈیٹس اور اہم معلومات کے لیے Urdu Khabar کو ضرور فالو کریں۔






