پاکستان کے پبلک ڈیٹ مینجمنٹ، مرکزی فنانشل کوریڈورز اور میکرو اکانومی کے تزویراتی زونز سے ایک اہم اور سب سے بڑا معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت نے مالیاتی سال 2026-27 کے لیے اپنے مجموعی مالیاتی فریم ورک اور قرضوں کی حکمتِ عملی کا حتمی سالانہ پلان لائیو کر دیا ہے۔ اس نئے پلان کے تحت حکومت نے آئندہ مالیاتی سال کے لیے مجموعی فنانشل فنڈز کی ضروریات کا حجم 28.647 ٹریلین روپے پر آٹو لاک کیا ہے۔
30 ستمبر 2026 کو ڈیٹ مینجمنٹ آفس کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ریگولیٹری مینوئل کے مطابق اس تاریخی اقدام کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر پاکستان سالانہ قرضہ پلان کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک فعال ہو چکا ہے۔ اس اسمارٹ پراجیکٹ کے تحت حکومت نے ڈالر کا ایکسچینج ریٹ 290 روپے پر فرض کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ 7.02 ٹریلین روپے کے بڑے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے زیادہ تر انحصار مینوئل بیرونی فنڈز کے بجائے سوفٹ وئیر بیسڈ ملکی قرضوں پر کیا جائے گا تاکہ ملکی کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس کو طویل مدتی استحکام فراہم کیا جا سکے۔
قلیل مدتی ٹی بلز پر انحصار میں کمی اور سکوک بانڈز کا آڈٹ
وفاقی فنانس سیکرٹری کی زیرِ نگرانی تیار کردہ اسٹرکچرل مینوفیکچرڈ پلان کے مطابق حکومت اب قلیل مدتی مارکیٹ ٹریژری بلز کے پرانے لوپ ہولز کو ختم کر کے طویل مدتی سیکیورٹیز کی طرف شفٹ ہو رہی ہے تاکہ ری فنانسنگ رسک کو 100 فیصد بلاک کیا جا سکے۔
اس نئے اسمارٹ فائنینشل فریم ورک کے تین کلیدی پیرامیٹرز درج ذیل مارک ڈاؤن ٹیبل کے مطابق وضع کیے گئے ہیں:
| فنانشل انسٹرومنٹ لاگ | متوقع نیٹ اجرا گراف | آپریشنل مانیٹرنگ پروٹوکول |
| پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز | مثبت $4.58 ٹریلین روپے | فکسڈ ریٹ بانڈز کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہوگا اور 20 سالہ نیا بانڈ متعارف ہوگا۔ |
| حکومتِ پاکستان اجارہ سکوک | مثبت $3.785 ٹریلین روپے | ہائبرڈ، 3 ماہ اور 6 ماہ کے قلیل مدتی اسلامی بانڈز کا مجموعی اجرا 6.6 کھرب ہوگا۔ |
| مارکیٹ ٹریژری بلز | منفی $2.592 ٹریلین روپے | شارٹ ٹرم بلز پر انحصار کم کر کے ان کے انڈیکس کو منفی زون میں منتقل کیا جائے گا۔ |
21.6 ٹریلین روپے کی قرضہ میچورٹیز اور آئی ایم ایف کی مانیٹرنگ
ڈیٹ مینجمنٹ آفس کے لائیو ڈیٹا لاگز کے مطابق جون 2026 کے اختتام تک پاکستان کا کل عوامی قرضہ 86.7 ٹریلین روپے کے ریکارڈ گراف کو چھو رہا ہے جس میں 59.4 ٹریلین روپے ملکی اور 27.3 ٹریلین روپے بیرونی قرضہ ہے۔ مالیاتی سال 2027 کے دوران حکومت کو مجموعی طور پر 21.627 کھرب روپے کی میچورٹیز (واجب الادا قرضے) پے کرنی ہیں جن میں 17 ٹریلین روپے کے ملکی اور 4.5ٹریلین روپے کے بیرونی ری پیمنٹس شامل ہیں۔
بیرونی محاذ پر حکومت نے مجموعی طور پر 13.378 ارب ڈالرز کی لکویڈیٹی حاصل کرنے کا ہدف لاک کیا ہے جس میں 7 ارب ڈالر کے چینی و سعودی باہمی ڈپازٹس کا رول اوور بھی سنک کیا جائے گا۔ یہ پورا پیپر لیس اور کیش لیس پلان آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کی شرائط کے عین مطابق مینوفیکچر کیا گیا ہے جو بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج اور معاشی ساکھ مستقل طور پر فروغ دے گا۔






