خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (KPITB) نے صوبے میں ٹیکنالوجی کے فروغ اور ڈیجیٹل بااختیاری کے لیے کے پی کے کا اے آئی ٹریننگ پلان باقاعدہ طور پر لانچ کر دیا ہے۔ یہ جامع منصوبہ "ڈیجیٹل کے پی 2030 روڈ میپ” کا حصہ ہے جس کا مقصد صوبے کے ہر طبقے بشمول اساتذہ، سرکاری ملازمین، نوجوانوں اور عام شہریوں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور جدید ترین ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔ کے پی حکومت اس انقلابی پروگرام کے تحت صوبے کو پاکستان کا پہلا اے آئی ہب بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
اس منصوبے کے تحت نہ صرف نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سکھائی جائے گی بلکہ سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے گورننس سسٹم کو بھی اے آئی سے جوڑا جا رہا ہے۔
اے آئی انوویشن ہب اور دو سالہ تربیتی پروگرام کے اہم اہداف
کے پی آئی ٹی بورڈ نے اس حکمتِ عملی کے تحت ایک خصوصی اے آئی انوویشن ہب قائم کیا ہے۔ اس دو سالہ پراجیکٹ کے بنیادی اہداف درج ذیل ہیں:
اساتذہ کی تربیت: پہلے مرحلے میں سرکاری اسکولوں کے 1,500 اساتذہ کو ڈیجیٹل اور اے آئی لٹریسی کی لائیو ٹریننگ دی جائے گی تاکہ وہ کلاس رومز میں جدید ترین طریقوں سے پڑھا سکیں۔
سرکاری افسران کی استعداد کار: مختلف محکموں کے 1,000 سرکاری افسران کو اے آئی لیڈرشپ اسکلز سکھائی جائیں گی جس سے ڈیٹا کی بنیاد پر پالیسی سازی اور عوامی شکایات کا ازالہ آسان ہوگا۔
اسکول آف اے آئی (School of AI): صوبے میں ایک مخصوص اسکول قائم کیا جا رہا ہے جہاں 2,000 سے زائد طلبہ اور پبلک سرونٹس کو اے آئی کی پریکٹیکل تعلیم دی جائے گی۔
اسکولوں میں چھٹی سے بارہویں جماعت تک اے آئی لازمی مضمون
خیبر پختونخوا پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے سرکاری اسکولوں میں کلاس 6 سے کلاس 12 تک آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو ایک لازمی مضمون (Compulsory Subject) کے طور پر شامل کرنے کی منظوری دی ہے۔
اسکولوں میں اس جدید نصاب کو کامیابی سے نافذ کرنے کے لیے حکومت صوبے بھر میں 7,555 نئے آئی ٹی اساتذہ بھرتی کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام سرکاری اسکولوں میں آئی ٹی لیبارٹریز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو تیزی سے اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ طلبہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق کوڈنگ، مشین لرننگ اور ڈیٹا سائنس کے بنیادی اصول سکھائے جا سکیں۔
نوجوانوں کے لیے 5 ارب روپے کا ڈیجیٹل اسکلز فنڈ
صوبائی حکومت نے نوجوانوں کو فری لانسنگ اور عالمی مارکیٹ کے قابل بنانے کے لیے 5 ارب روپے کا خطیر بجٹ مختص کیا ہے۔ اس فنڈ کی مدد سے 84,000 سے زائد نوجوانوں کو درج ذیل شعبوں میں بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز کروائی جائیں گی:
جنریٹو اے آئی (Generative AI) اور ایجنٹک اے آئی (Agentic AI)
سائبر سیکیورٹی (Cybersecurity) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ
موبائل ایپ اور ویب ڈویلپمنٹ
ڈیٹا سائنس اور مشین لرننگ
اس پروگرام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ کے پی کے کا یوتھ گھر بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے کام کر سکے گا، جس سے صوبے کی معیشت اور زرمبادلہ میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
پبلک سیکٹر میں اے آئی پر مبنی گورننس کا نفاذ
کے پی کے کا اے آئی ٹریننگ پلان صرف تعلیم تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ صوبائی حکومت کے 50 سے زائد محکموں کو پیپر لیس اور سمارٹ بنانے کی مہم کا حصہ ہے۔ کے پی آئی ٹی بورڈ پشتو، اردو اور انگریزی زبانوں میں ملٹی لنگوئل اے آئی چیٹ باٹس تیار کر رہا ہے تاکہ عام شہری سرکاری پورٹلز پر اپنی زبان میں آسانی سے رہنمائی حاصل کر سکیں اور شکایات درج کروا سکیں۔
ٹیکنالوجی کے اس دور میں خیبر پختونخوا کا یہ اقدام پاکستان کو چوتھے صنعتی انقلاب (4th Industrial Revolution) میں شامل کرنے کی طرف ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس پروگرام کی رجسٹریشن اور مزید تفصیلات کے لیے شہری کے پی آئی ٹی بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔






