ملک میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے، بجلی کی بچت اور وفاقی حکومت کے نئے کفایت شعاری اقدامات کے تحت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت میں رات 8 بجے کاروباری مراکز بند کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اور ضلعی انتظامیہ کے مشترکہ فیصلے کے مطابق ان نئے قوانین کا اطلاق آج رات سے ہی یقینی بنایا جائے گا تاکہ گرڈ پر موجود بجلی کے اضافی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ تجارتی سرگرمیوں کے اوقاتِ کار کو محدود کر کے ماہانہ کروڑوں روپے مالیت کا ایندھن اور بجلی بچائی جا سکتی ہے۔ تاجر برادری کی جانب سے کچھ تحفظات کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور دکانیں سیل کرنے جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔
رات 8 بجے بند ہونے والے کاروباری مراکز کی مکمل فہرست
توانائی بچت مہم اور اسلام آباد مارکیٹ لاک ڈاؤن کے دائرہ کار میں تمام غیر ضروری اور بڑے تجارتی شعبے شامل کیے گئے ہیں۔ یکم جون کی رات سے نافذ العمل ہونے والے ان احکامات کے تحت درج ذیل کاروبار رات ٹھیک 8 بجے بند کرنے کے پابند ہوں گے:
شاپنگ مالز اور سپر مارکیٹس: وفاقی دارالحکومت کے تمام چھوٹے بڑے شاپنگ مالز، کمرشل پلازے اور میگا سپر اسٹورز رات 8 بجے اپنی لائٹس اور کاروباری سرگرمیاں بند کر دیں گے۔
ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹس: جناح سپرفسٹ، سپر مارکیٹ، بلیو ایریا، اور صدر سمیت تمام مقامی تجارتی مراکز اور ہول سیل مارکیٹیں اس قانون کے تحت آئیں گی۔
الیکٹرانکس اور کپڑوں کے بازار: کپڑے، جوتے، کاسمیٹکس اور الیکٹرانکس کی تمام دکانیں نوٹیفکیشن کے مطابق وقت کی پابندی کرنے کی پابند ہیں۔
ریسٹورنٹس، شادی ہالز اور تفریحی مقامات کے لیے خصوصی اوقاتِ کار
کھانے پینے کے مراکز اور تفریحی صنعت کو ریٹیل سیکٹر کے مقابلے میں تھوڑی رعایت دی گئی ہے تاہم ان کے لیے بھی سخت ڈیڈ لائنز مقرر کی گئی ہیں تاکہ توانائی کی بچت کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔
ریسٹورنٹس اور کیفے: اسلام آباد کے تمام ریسٹورنٹس، فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹس، اور چائے کے کیبنز کو رات 10 بجے تک کام کرنے کی اجازت ہوگی۔ رات 10 بجے کے بعد ہر قسم کے آؤٹ ڈور اور ان ڈور ڈائننگ پر مکمل پابندی ہوگی۔
شادی ہالز اور مارکیز: وفاقی دارالحکومت میں موجود تمام میرج ہالز اور پبلک گیدرنگ ہالز کو رات 10 بجے تک اپنے پروگرام ختم کرنے ہوں گے جس کے بعد ہالز کی لکڑی اور سرچ لائٹس بند کرنا لازمی ہوگا۔
سینما ہاؤسز اور تھیٹرز: تفریحی مراکز اور سینما ہالز کے آخری شوز کو بھی اس طرح ری شیڈول کیا جائے گا کہ وہ رات 10 بجے تک مکمل طور پر آف ہو جائیں۔
ہنگامی خدمات اور نئی پابندیوں سے مستثنیٰ شعبے
عوام الناس کی سہولت اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ لازمی اور ہنگامی خدمات سے وابستہ شعبوں پر اس لاک ڈاؤن کا اطلاق نہیں ہوگا اور وہ 24 گھنٹے کھلے رہ سکتے ہیں۔
ان مستثنیٰ شعبوں میں درج ذیل شامل ہیں:
فارمیسیز اور میڈیکل اسٹورز: تمام ادویات کی دکانیں اور ہسپتالوں کے اندر موجود فارمیسیز۔
ہسپتال اور لیبارٹریز: سرکاری و نجی ہسپتال، کلینکس اور بلڈ بینک۔
پیٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز: ایندھن کی فراہمی کو برقرار رکھنے کے لیے پیٹرول پمپس کھلے رہیں گے تاہم انہیں اپنی اضافی لائٹس بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بیکریاں اور تندور: بنیادی غذائی ضروریات کے پیشِ نظر بیکریوں اور روٹی کے تندوروں کو مخصوص رعایت حاصل ہوگی۔
قانون کی خلاف ورزی پر سزائیں اور انتظامیہ کے اقدامات
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور مجسٹریٹس کو فیلڈ میں رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ انتظامیہ پولیس فورس کے ہمراہ رات 8 بجے کے بعد مختلف تجارتی زونز کا دورہ کرے گی۔
جو دکانیں یا شاپنگ مالز مقررہ وقت کے بعد کھلے پائے گئے ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے اور بار بار خلاف ورزی کی صورت میں دکان کے مالک کو گرفتار یا کاروبار کو غیر معینہ مدت کے لیے سیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے شہریوں اور تاجروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قومی مہم میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔






