پاکستان میں بینک چارجز کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے بینکاری شعبے (Banking Sector) میں شفافیت لانے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے وژن 2026 کے تحت ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے تمام تجارتی اور اسلامی بینکوں نے یکم جون سے اپنے چارجز کے شیڈول (SOC) کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ نئے قواعد و ضوابط کا مقصد آن لائن فنڈز ٹرانسفر (IBFT)، بائیو میٹرک کیش نکلوانے اور مختلف اکاؤنٹس کی بیلنس لمٹس کو ریگولیٹ کرنا ہے تاکہ صارفین پر اضافی مالی بوجھ بھی نہ پڑے اور بینکنگ انفراسٹرکچر بھی مضبوط ہو۔
اگر آپ بھی موبائل ایپ، اے ٹی ایم (ATM)، یا انٹرنیٹ بینکنگ استعمال کرتے ہیں تو یکم جون سے لاگو ہونے والے ان نئے چارجز کا پتہ ہونا آپ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ڈیجیٹل فنڈز ٹرانسفر (IBFT) اور راست (Raast) فیس کا بریک ڈاؤن
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی بنیادی گائیڈ لائنز کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کو فروغ دینے کے لیے انٹرا بینک (ایک ہی بینک کے اکاؤنٹس کے درمیان) فنڈز ٹرانسفر کو مکمل طور پر مفت رکھا گیا ہے۔ تاہم، دوسرے بینکوں میں رقم بھیجنے (Inter-Bank Funds Transfer) پر اب ایک منظم شیڈول لاگو کر دیا گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان کے آفیشل ‘راست’ پلیٹ فارم کے ذریعے کی جانے والی تمام پرسن ٹو پرسن (Type P2P) ٹرانزیکشنز یکم جون کے بعد بھی بالکل مفت رہیں گی اور ان پر کوئی اضافی چارجز یا ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس روایتی ڈیجیٹل بینکنگ چینلز کے ذریعے ہر اکاؤنٹ پر ماہانہ 25,000 روپے تک کی رقم منتقل کرنے پر کوئی فیس چارج نہیں کی جائے گی۔ لیکن اگر کسی بھی اکاؤنٹ سے ایک ماہ میں 25,000 روپے سے زائد کی ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی جائیں گی، تو بینکوں کو کل رقم کا 0.1 فیصد یا 200 روپے (جو بھی کم ہو) چارج کرنے کی اجازت ہوگی۔
بینک اکاؤنٹ بیلنس لیمٹس اور فری بینیفٹس کی شرائط
تجارتی بینکوں نے اپنے پریمیم اور کرنٹ اکاؤنٹس پر مفت سروسز (مثلاً فری چیک بک، فری بینکرز چیک، اور فری ڈیبٹ کارڈ) حاصل کرنے کے لیے اوسط ماہانہ بیلنس (Monthly Average Balance) کی حدود کو برقرار رکھا ہے یا ان میں ترمیم کی ہے۔
اسان اکاؤنٹ اور اسان ڈیجیٹل اکاؤنٹ جیسے بنیادی اکاؤنٹس پر کم از کم بیلنس برقرار رکھنے کی کوئی شرط یا جرمانہ لاگو نہیں ہوتا تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو بینکنگ نیٹ ورک میں شامل رکھا جا سکے۔ دوسری طرف پریمیم بینکنگ اکاؤنٹس کے کسٹمرز کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس میں روزانہ یا ماہانہ اوسط بیلنس (جیسے 500,000 یا 1,000,000 روپے) برقرار رکھیں۔ اگر کوئی صارف یہ حد برقرار رکھنے میں ناکام رہتا ہے، تو کارڈز اور پریمیم سروسز پر ماہانہ 3,500 سے 3,750 روپے تک کے چارجز لاگو کر دیے جائیں گے۔
اے ٹی ایم ٹرانزیکشنز اور بائیو میٹرک فیس کا نیا اسٹرکچر
یکم جون کے بعد سے اے ٹی ایم اور برانچ لیس بینکنگ کے کچھ دیگر چارجز کو بھی اپ ڈیٹ کیا گیا ہے جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
اے ٹی ایم پر بغیر کارڈ کے صرف انگوٹھے کے نشان (Biometric Verification) کے ذریعے کیش نکلوانے پر اب 15 سے 18 روپے فی سیشن چارجز پلس فیڈ لاگو ہوں گے۔ اسی طرح موبائل ایپ کے ذریعے اے ٹی ایم اسکرین پر موجود QR کوڈ اسکین کر کے کیش نکلوانے پر تقریباً 20 روپے فی ٹرانزیکشن فیس مقرر کی گئی ہے جبکہ اس کی رسید پرنٹ کرنے پر ساڑھے 4 روپے سے زائد کے چارجز کٹیں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں موجود اے ٹی ایمز پر اگر کوئی غیر ملکی ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ استعمال کر کے کیش نکلوایا جائے گا تو بینک 5 سے 6 امریکی ڈالر فی ٹرانزیکشن وصول کریں گے۔
وفاقی ایکسائز ڈیوٹی (FED) اور کسٹمر نوٹیفیکیشنز
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام کمرشل بینکوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ شیڈول آف چارجز (SOC) میں شامل تمام کٹوتیاں کسٹمرز پر واشگاف الفاظ میں واضح کریں۔ہر ڈیجیٹل ٹرانزیکشن، فنڈز ٹرانسفریا کیش ودڈرال کے فوری بعد بینک کسٹمر کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر بالکل مفت ایس ایم ایس (SMS)، ای میل یا ایپ نوٹیفکیشن بھیجنے کا پابند ہے جس میں ٹرانزیکشن کی رقم کے ساتھ ساتھ کاٹی گئی فیس کی تفصیل بھی درج ہونی چاہیے۔ صارفین کو یاد رکھنا چاہیے کہ بینکنگ شیڈول میں بتائے گئے تمام چارجز پر حکومتِ پاکستان کے مروجہ قوانین کے مطابق وفاقی ایکسائز ڈیوٹی (FED) یا سیلز ٹیکس الگ سے لاگو ہوتا ہے۔






