محرم الحرام کا چاند اسلامی ہجری کیلنڈر کے نئے سال (ہجری 1448) کے آغاز کا تعین کرتا ہے، جو ہرسال کی طرح قمری نظام کے تحت چاند نظر آنے سے مشروط ہوتا ہے۔ پاکستان میں مذہبی تہواروں اور نئے ہجری سال کی تاریخوں کا باقاعدہ تعین مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے آفیشل اجلاس میں کیا جاتا ہے۔ فلکیاتی حسابات اور سائنسی تخمینوں کے مطابق جون 2026 کا مہینہ اسلامی کیلنڈر کے اختتام اور نئے سال کی آمد کا گواہ بننے جا رہا ہے۔
پاکستان بھر میں تمام مسالک کے ماننے والے حکومتِ پاکستان اور سکیورٹی نافذ کرنے والے ادارے اب سے ہی نئے ہجری سال کے آغاز اور بالخصوص محرم الحرام کے پہلے عشرے کے دوران سکیورٹی اور عزاداری کے انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔
پاکستان میں یکم محرم الحرام 2026 کی متوقع تاریخ
ہجری کیلنڈر کا بارہواں اور آخری مہینہ ذوالحج اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ماہرینِ فلکیات اور محکمہ موسمیات کے پیشِ نظرپاکستان میں محرم الحرام کا چاند دیکھنے کے لیے زونل اور مرکزی رویتِ ہلال کمیٹیوں کا اجلاس پیر 15 جون 2026 کی شام کو طلب کیے جانے کا قوی امکان ہے
چاند کی عمر اور فلکیاتی پیرامیٹرز کے مطابق:
اگر 15 جون کو چاند نظر آ جاتا ہے تو پاکستان میں پہلی محرم الحرام اور نئے اسلامی سال کا باقاعدہ آغاز منگل 16 جون 2026 کو ہوگا
چاند نظر نہ آنے کی صورت میں ذوالحج کا مہینہ 30 دن کا ہوگا جس کے بعد یکم محرم الحرام بدھ 17 جون 2026 کو ہوگی۔ تاہم زیادہ تر فلکیاتی نقشے 16 جون کو ہی پہلی محرم قرار دے رہے ہیں
یومِ عاشورہ (10 محرم) اور وفاقی تعطیلات کی تفصیلات
محرم الحرام کا مہینہ اپنے اندر بے پناہ تاریخی اور مذہبی اہمیت سمیٹے ہوئے ہے۔ نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثاروں کی کربلا میں عظیم قربانی کی یاد میں ملک بھر میں مجالس اور جلوسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
اگر یکم محرم الحرام متوقع تاریخ یعنی 16 جون کو ہوتی ہے تو عاشورہ کی ٹائم لائن کچھ یوں بنے گی:
تاسوعا (9 محرم الحرام): نویں محرم کا مرکزی جلوس اور مجالس بدھ 24 جون 2026 کو منعقد ہوں گی۔
یومِ عاشورہ (10 محرم الحرام): دسواں محرم الحرام جمعرات 25 جون 2026 کو ہوگا جو کہ ملک میں انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔
سرکاری چھٹیاں: حکومتِ پاکستان کے باقاعدہ سالانہ کیلنڈر کے مطابق 9 اور 10 محرم الحرام (24 اور 25 جون) کو ملک بھر میں عام تاتیلات (Public Holidays) ہوں گی جس کے دوران تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، بینک اور دفاتر بند رہیں گے۔
وزارتِ مذہبی امور اور سکیورٹی انتظامات کا فریم ورک
وزارتِ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر امن و امان قائم رکھنے کے لیے مشاورت شروع کر دی ہے۔ محرم الحرام کا چاند نظر آتے ہی ملک بھر کے حساس شہروں (جیسے کراچی، لاہور، راولپنڈی، ملتان اور پشاور) میں دفعہ 144 نافذ کی جا سکتی ہے اور جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے فوج اور رینجرز کی خدمات بھی طلب کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، وزارتِ داخلہ کی جانب سے 9 اور 10 محرم کو حساس راستوں پر موبائل سروسز کو جزوی طور پر معطل رکھنے کی حکمتِ عملی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔






