پاکستان میں کھیلوں کے گرتے ہوئے معیار کو دوبارہ بحال کرنے اور گورننس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ وزارتِ بین الصوبائی رابطہ (IPC) نے تقریباً دو دہائیوں کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کی قومی اسپورٹس پالیسی 2026 کا نیا مسودہ تیار کر کے تمام قومی اسپورٹس فیڈریشنز کو ارسال کر دیا ہے تاکہ ان سے حتمی فیڈ بیک لیا جا سکے۔
یہ نئی مجوزہ پالیسی سن 2005 کی پرانی پالیسی کی جگہ لے گی جس کا مقصد اسپورٹس بورڈز اور فیڈریشنز کے درمیان دہائیوں سے جاری تنازعات کو ختم کرنا اور کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر بہترین سہولیات فراہم کرنا ہے۔
اسپورٹس فیڈریشنز کی خودمختاری اور احتساب کا نیا فریم ورک
اس مجوزه پالیسی کا سب سے اہم اور بنیادی پہلو نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز (NSFs) اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) کو خودمختاری دینا ہے۔ ماضی میں پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) اور مختلف فیڈریشنز کے درمیان صدارتی مدت اور انتظامی کنٹرول پر شدید تنازعات رہے ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان پر پابندیوں کے خطرات بھی منڈلاتے رہے ہیں۔
پاکستان کی قومی اسپورٹس پالیسی 2026 کے تحت اب:
تمام اسپورٹس فیڈریشنز کو بین الاقوامی قوانین اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (IOC) کے چارٹر کے مطابق کام کرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔
خودمختاری کے ساتھ ساتھ کارکردگی پر مبنی کڑا احتساب (Performance-based accountability) لاگو کیا جائے گا۔
وزارتِ بین الصوبائی رابطہ ہر سہ ماہی (Quarterly) میں فیڈریشنز کی کارکردگی کا جائزہ لے گی اور سالانہ رپورٹ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) اور وفاقی کابینہ کو پیش کی جائے گی۔
نیشنل اسپورٹس ڈویلپمنٹ فنڈ اور مالیاتی ڈھانچہ
مالیاتی بحران ہمیشہ سے پاکستانی کھلاڑیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پالیسی میں ایک خصوصی نیشنل اسپورٹس ڈویلپمنٹ فنڈ (National Sports Development Fund) قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس فنڈ کے لیے مالی وسائل درج ذیل ذرائع سے اکٹھے کیے جائیں گے:
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خصوصی فنڈز۔
کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR)، اسپانسرشپ اور میڈیا رائٹس۔
صوبوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کا کم از کم 2 فیصد حصہ کھیلوں کی ترقی کے لیے مختص کریں۔
MAJOR DEVELOPMENT IN PAKISTAN SPORTS.
— Faizan Lakhani (@faizanlakhani) May 29, 2026
Pakistan is set for a major reset in sports governance as the federal govt moves ahead with the proposed National Sports Policy 2026, after nearly two decades, aiming to overhaul how sport is run in the country. The draft proposes sweeping… pic.twitter.com/7Jvs9lB04E
اٹھارویں ترمیم کے تحت وفاق اور صوبوں کا نیا کردار
سال 2010 میں آئین کی 18ویں ترمیم کے بعد کھیل صوبائی موضوع بن چکا ہے۔ نئی اسپورٹس پالیسی اس آئینی حقیقت کو تسلیم کرتی ہے اور وفاق کا کردار صرف بین الاقوامی نمائندگی، اسٹریٹجک فنڈنگ اور کوآرڈینیشن تک محدود کرتی ہے۔
اس ضمن میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور کھیلوں کے تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک نیشنل اسپورٹس کوآرڈینیشن کونسل (National Sports Coordination Council) تشکیل دی جائے گی جس میں وفاقی و صوبائی وزراء، پی او اے، پی ایس بی، فیڈریشنز اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے نمائندے شامل ہوں گے۔
| کلیدی ستون | مجوزہ اقدامات |
| گورننس اور خودمختاری | تمام اسپورٹس فیڈریشنز کو مکمل انتظامی خود مختاری دی جائے گی، تاہم اسے ہر سہ ماہی (quarterly) کارکردگی کے سخت آڈٹ اور مالی جائزے سے مشروط کیا جائے گا۔ |
| کھلاڑیوں کی ویلفیئر | کھلاڑیوں کے محفوظ مستقبل کے لیے باقاعدہ روزگار کے کنٹریکٹس، ماہانہ وظائف، جامع میڈیکل انشورنس اور ریٹائرمنٹ پنشن اسکیموں کا اجراء۔ |
| گراس روٹ اور ڈیجیٹلائزیشن | اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر ‘نیشنل ٹیلنٹ پاتھ وے’ کا آغاز اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کو مانیٹر کرنے کے لیے ایک مرکزی ‘نیشنل ڈیجیٹل اسپورٹس پلیٹ فارم’ کا قیام۔ |
گراس روٹ لیول پر ٹیلنٹ پاتھ وے اور کھلاڑیوں کی ویلفیئر
پاکستان کی قومی اسپورٹس پالیسی 2026 میں پہلی بار کھلاڑیوں کے بنیادی حقوق اور اسکول و کالج کی سطح پر کھیلوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
نیشنل ٹیلنٹ پاتھ وے سسٹم: اسکول، کالج اور ڈسٹرکٹ لیول پر لازمی کھیلوں کے مقابلے منعقد کروائے جائیں گے تاکہ دیہی اور شہری علاقوں سے نیا ٹیلنٹ سامنے لایا جا سکے۔
پلیئرز ویلفیئر: کھلاڑیوں کے استحصال کو روکنے کے لیے باقاعدہ اسپورٹس کنٹریکٹس، ماہانہ وظائف (Stipends)، میڈیکل انشورنس اور پنشن اسکیمیں متعارف کرائی جائیں گی۔
ڈیجیٹلائزیشن: ملک بھر کے کھلاڑیوں اور اسپورٹس فیڈریشنز کا ڈیٹا یکجا کرنے کے لیے ایک نیشنل ڈیجیٹل اسپورٹس پلیٹ فارم قائم کیا جائے گا۔






