حکومت پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے نئے وفاقی بجٹ میں جہاں مختلف شعبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار کی ہے وہی موبائل فون صارفین اور امپورٹرز کے لیے بھی سخت ترین قوانین متعارف کروائے ہیں۔ آئی ایم ایف (IMF) کی سخت شرائط کو پورا کرنے اور ملکی خزانے کو سہارا دینے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے اشتراک سے موبائل فونز پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹی کے نئے سلیبز نافذ کر دیے گئے ہیں۔
اس نئے بجٹ کے نفاذ کے بعد پاکستان میں موبائل فون کی قیمتیں ایک بار پھر عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس مضمون میں ہم نئے پی ٹی اے ٹیکس سلیبز اور اس کے نتیجے میں اسمارٹ فونز کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کر رہے ہیں۔
نئے پی ٹی اے (PTA) ٹیکس سلیبز اور ڈیوٹی کا نیا ڈھانچہ
بجٹ 2026 میں حکومت نے موبائل فونز کی امپورٹ پر عائد ٹیکسز کو مزید منظم اور سخت کر دیا ہے۔ اب ٹیکس کی کٹوتی موبائل فون کی اصل ڈالرز میں مالیت (C&F Value) کے مطابق کی جائے گی۔ نئے سلیبز کو درج ذیل تین بڑی کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے:
بجٹ فرینڈلی فونز (100 ڈالرز تک): ایسے فونز جن کی قیمت 100 امریکی ڈالر (تقریباً 28,000 روپے) تک ہے ان پر فکسڈ سیلز ٹیکس اور پی ٹی اے ڈیوٹی میں 15 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔
مڈ رینج اسمارٹ فونز (100 سے 500 ڈالرز): اس کیٹیگری میں آنے والے تمام مقبول اسمارٹ فونز پر اب 25 فیصد تک مجموعی امپورٹ ٹیکس لاگو ہوگا جس میں 18 فیصد اسٹینڈرڈ جی ایس ٹی (GST) بھی شامل ہے۔
فلیگ شپ اور لگژری فونز (500 ڈالرز سے زائد): آئی فون (iPhone) اور سیمسنگ کی فلیگ شپ (Samsung Galaxy S-Series) ڈیوائسز پر کسٹمز ڈیوٹی کو بڑھا کر فلیٹ 35 سے 40 فیصد تک کر دیا گیا ہے جس سے ان کی پی ٹی اے رجسٹریشن فیس ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔
اس کے علاوہ جو لوگ بیرون ملک سے اپنے ساتھ ذاتی استعمال کے لیے موبائل فون لا رہے ہیں ان کے لیے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ (CNIC) پر رجسٹریشن کے ٹیکسز میں بھی 10 سے 20 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔
بجٹ 2026 کے بعد متوقع پی ٹی اے ٹیکس اور قیمتوں کا موازنہ
نئے بجٹ کے بعد مختلف برانڈز کے فونز پر پی ٹی اے ٹیکس اور ان کی مجموعی قیمتوں میں ہونے والا ممکنہ اضافہ درج ذیل جدول (Table) سے سمجھا جا سکتا ہے:
| موبائل فون کا ماڈل / کیٹیگری | متوقع نیا پی ٹی اے ٹیکس (پاسپورٹ پر) | قیمت پر اثر اور اوسط اضافہ |
| بنیادی اور کی پیڈ فونز (Low-end) | 3,500 روپے | 1,000 سے 2,000 روپے اضافہ |
| مڈ رینج (Infinix, Tecno, Redmi) | 18,000 سے 28,000 روپے | 5,000 سے 8,000 روپے اضافہ |
| اپر مڈ رینج (Samsung A-series, Vivo) | 45,000 سے 65,000 روپے | 12,000 سے 15,000 روپے اضافہ |
| آئی فون 15 اور 16 سیریز (Flagship) | 145,000 سے 175,000 روپے | 30,000 سے 45,000 روپے تک بھاری اضافہ |
عام صارفین اور موبائل مارکیٹ پر قیمتوں کے اثرات
ان نئے ٹیکس سلیبز کے نفاذ کے بعد مارکیٹ میں ایک زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔ پاکستان کی بڑی موبائل مارکیٹوں جیسے کراچی کے صدر الیکٹرانکس مارکیٹ، لاہور کے ہال روڈ اور اسلام آباد کے سنگاپور پلازہ میں اسمارٹ فونز کی فروخت میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔
سب سے زیادہ نقصان مڈ رینج فونز خریدنے والے صارفین کو ہوا ہے کیونکہ 40,000 روپے والا فون اب ٹیکسز کے بعد 48,000 روپے سے تجاوز کر رہا ہے۔ فلیگ شپ فونز خصوصاً ایپل آئی فون کے خریداروں کو اب فون کی اصل قیمت کے برابر یا اس سے بھی زائد پی ٹی اے ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے نان پی ٹی اے (Non-PTA) فونز اور عارضی جی ایس ایم بلاکنگ بائی پاس (جیسے ڈیوائسز کی آئی ایم ای آئی کلوننگ) کے غیر قانونی رجحان میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
لوکل مینوفیکچرنگ اور میڈ ان پاکستان فونز کا مستقبل
اس تاریک صورتحال میں واحد امید کی کرن پاکستان میں مقامی طور پر اسمبل ہونے والے (Local Assembled) موبائل فونز ہیں۔ حکومت نے بجٹ 2026 میں مقامی پلانٹس کے لیے امپورٹڈ پرزہ جات (CKD Kits) پر کچھ رعایات کو برقرار رکھا ہے۔
انفینکس، ٹیکنو، ریل می اور سیمسنگ کے کچھ مڈ رینج ماڈلز جو پاکستان کے اندر تیار ہو رہے ہیں ان پر امپورٹڈ فونز جتنا بھاری ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ اس لیے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آپ بجٹ کے بعد نیا فون خریدنا چاہتے ہیں تو مکمل امپورٹڈ (CBU) فونز کے بجائے میڈ ان پاکستان اسمارٹ فونز کا انتخاب کریں کیونکہ ان کی قیمتیں اب بھی امپورٹڈ ڈیوائسز کے مقابلے میں کافی حد تک مستحکم ہیں۔






