موجودہ جیو پولیٹیکل منظرنامے اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی تزویراتی صف بندیوں کے درمیان، پاکستان نے حال ہی میں ایک انتہائی دور رس اثرات کا حامل فیصلہ کرتے ہوئے سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے 14 ملکی سعودی بحری دفاعی اتحاد میں بطور بانی رکن شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ریاض میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد اس اسٹریٹجک اتحاد کے چارٹر کی منظوری دی گئی جس کا بنیادی مقصد بحیرہ احمر (Red Sea)، خلیج عدن (Gulf of Aden)، اور آبنائے باب المندب (Bab al-Mandeb Strait) جیسے دنیا کے حساس ترین سمندری تجارتی راستوں کو غیر ریاستی عناصر، قزاقوں اور ڈرون حملوں سے محفوظ بنانا ہے۔
بظاہر یہ اقدام پاکستان کے ایک دیرینہ برادر اسلامی ملک کے ساتھ دفاعی تعاون کی روایتی کڑی نظر آتا ہے لیکن اس گہرے سمندری اسٹریٹجک معاہدے نے پاکستان کے تھنک ٹینکس، دفاعی ماہرین اور خارجہ پالیسی کے تجزیہ کاروں کے درمیان ایک سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ عالمی طاقتوں کی بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشمکش کے دوران اس کثیر الملکی فوجی بلاک کا حصہ بننا پاکستان کی بحری خودمختاری کے لیے ایک نئی طاقت بنے گا یا یہ اسلام آباد کو مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ اور لامتناہی علاقائی تنازعات کے دلدل میں دھکیل دے گا؟
بحیرہ احمر کی اہمیت اور پاکستان کا معاشی مفاد
کسی بھی ملک کی بحری خودمختاری کا سب سے پہلا اصول اس کے اقتصادی مفادات اور سمندری تجارتی راستوں کا تحفظ ہوتا ہے۔ پاکستان اس حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتا کہ اس کی معیشت کا دارومدار اور توانائی (خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات) کا ایک بہت بڑا حصہ خلیج فارس اور بحیرہ احمر کے راستوں سے ہو کر ہی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں اور بین الاقوامی آئل ٹینکرز پر کیے جانے والے ڈرون اور میزائل حملوں نے عالمی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان حملوں کے باعث بحری انشورنس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا جس کا براہِ راست اثر پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور افراطِ زر کی شکل میں دیکھنے کو ملا۔ اس تناظر میں، پاکستان کا اس اتحاد کا حصہ بننا کسی جارحانہ عزائم کا حصہ نہیں، بلکہ اپنی معاشی بقا اور سمندری سپلائی چین کو بلا تعطل برقرار رکھنے کی ایک عملی ضرورت ہے۔ پاک بحریہ طویل عرصے سے کمبائنڈ ٹاسک فورس (CTF-150/151) کے تحت بین الاقوامی پانیوں میں بحری قزاقی کے خلاف آپریشنز کا وسیع تجربہ رکھتی ہے اس لیے اس نئے اتحاد میں پاکستان کا کردار ایک پیشہ ورانہ اور تکنیکی محافظ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
علاقائی توازن اور غیر جانبداری کا چیلنج
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی اصول ہمیشہ سے مشرقِ وسطیٰ کے دو بڑے حریفوں، یعنی سعودی عرب اور ایران کے مابین ایک محتاط توازن برقرار رکھنا رہا ہے۔ ماضی میں جب یمن جنگ کے دوران سعودی عرب نے پاکستان سے فوج مانگی تھی، تو پاکستان کی پارلیمنٹ نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے اس جنگ میں براہِ راست فریق بننے سے انکار کر دیا تھا اور غیر جانبداری کو ترجیح دی تھی۔
موجودہ سعودی بحری دفاعی اتحاد میں شمولیت اس توازن کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ سعودی وزارتِ دفاع نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ اتحاد خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ کسی خاص ریاست کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بنایا گیا لیکن جیو پولیٹیکل حقیقت یہ ہے کہ بحیرہ احمر میں سیکیورٹی خطرات کا براہِ راست تعلق ایران نواز حوثی نیٹ ورک سے ہے۔ ایسی صورت میں، اگر پاک بحریہ کے جنگی جہاز بحیرہ احمر میں کسی ایسے حملے کو ناکام بناتے ہیں جس کے تار علاقائی طاقتوں سے جڑے ہوں، تو پاکستان کے لیے اپنی روایتی سفارتی غیر جانبداری قائم رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ بحری خودمختاری کا مطلب صرف اپنی حدود کی حفاظت نہیں بلکہ یہ فیصلہ کرنے کی آزادی بھی ہے کہ آپ کے بحری اثاثے کس کے خلاف اور کہاں استعمال ہوں گے۔
کیا متحدہ عرب امارات اور عمان کی دوری ایک پیغام ہے؟
اس اتحاد کے تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالی جائے تو ایک اور اہم نکتہ سامنے آتا ہے جو پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہو سکتا ہے۔ خلیج کے دو انتہائی اہم اور تزویراتی بحری اہمیت کے حامل ممالک یعنی متحدہ عرب امارات (UAE) اور سلطنتِ عمان نے اس اتحاد کے بانی دستخط کنندگان میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا بحیرہ احمر اور ہارن آف افریقہ (Horn of Africa) میں اپنا ایک وسیع بحری اور تجارتی اثر و رسوخ ہے جبکہ عمان آبنائے ہرمز کے دھانے پر واقع ہونے کے باعث ہمیشہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان ایک سفارتی پل کا کردار ادا کرتا آیا ہے۔ ان دونوں اہم خلیجی ممالک کا اس اتحاد کے بانی مینو سے دور رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ خلیج کے اندر بھی اس اتحاد کے طویل مدتی مقاصد اور اس کی کمانڈ کے ڈھانچے کو لے کر شکوک و شبہات موجود ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا آگے بڑھ کر اس کا بانی رکن بننا یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم نے اس فیصلے کے تزویراتی نقصانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے؟ یا ایک بار پھر ہماری معاشی مجبوریاں اور مالیاتی پیکیجز کے حصول کی خواہش ہماری دفاعی پالیسی پر حاوی ہو گئی ہے؟
خودمختاری کا تحفظ اور اسمارٹ نیول ڈپلومیسی کی ضرورت
پاکستان کی بحری خودمختاری کو برقرار رکھنے اور اس اتحاد سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا واحد حل اسمارٹ نیول ڈپلومیسی میں پنہاں ہے۔ پاکستان کو اس اتحاد کے اندر رہتے ہوئے اپنے کردار کی حدود کو پہلے دن سے ہی واضح اور تحریری طور پر طے کرنا ہوگا۔
دفاعی دائرہ کار: پاکستان کو یہ پوزیشن برقرار رکھنی چاہیے کہ اس کی بحری فورسز صرف اور صرف بین الاقوامی پانیوں میں تجارتی جہاز رانی کی آزادی اور قزاقی کے خاتمے کے لیے آپریشنز کا حصہ بنیں گی۔
علاقائی خودمختاری کا احترام: پاک بحریہ کسی بھی ایسی کارروائی یا بلاک پولیٹکس کا حصہ نہیں بنے گی جو کسی خودمختار ملک کی ارضیاتی سالمیت کے خلاف ہو۔
انٹیلی جنس شیئرنگ پر توجہ: فوجی کارروائیوں میں براہِ راست الجھنے کے بجائے پاکستان کو ریاض میں قائم مشترکہ کمانڈ سینٹر میں انٹیلی جنس شیئرنگ، کلومیٹر مانیٹرنگ اور تکنیکی معاونت تک خود کو محدود رکھنا چاہیے، جہاں اس کی مہارت مسلمہ ہے۔
آخری تجزیے میں دی ریڈ سی بلیو پرنٹ پاکستان کے لیے ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ اگر اسے حکمت، دور اندیشی اور سخت سفارتی شرائط کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ پاک بحریہ کے بین الاقوامی قد کاٹھ میں اضافہ کرے گا بحری راستوں پر ہمارے معاشی مفادات کا تحفظ کرے گا اور سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تزویراتی تعلقات کو نئی جلا بخشے گا۔ لیکن اگر اس شمولیت کے پسِ پردہ صرف مختصر مدتی معاشی مفادات ہوئے اور ہم نے مشرقِ وسطیٰ کے تزویراتی جال کو نظر انداز کر دیا تو یہ فیصلہ ہماری بحری خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا سمجھوتہ بھی بن سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اسلام آباد اس اتحاد میں اپنے پتے انتہائی احتیاط سے کھیلے تاکہ ملکی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی آنچ نہ آئے۔






