پاکستان اور ازبکستان نے پاک ازبکستان تجارتی معاہدہ کے تحت وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے مابین تجارتی روابط کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک انقلابی اور تاریخی منصوبہ تیار کیا ہے- دونوں ممالک نے دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت کو تیز تر، محفوظ اور شفاف بنانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی کسٹمز اور کارگو ٹریکنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے اسٹریٹجک ڈیجیٹل اقدام کا بنیادی مقصد کسٹمز کلیئرنس کے روایتی اور سست طریقہ کار کو ختم کرنا، اسمگلنگ کی روک تھام کرنا اور تجارتی سامان کی ایک ملک سے دوسرے ملک منتقلی کے دوران لائیو مانیٹرنگ کو یقینی بنانا ہے۔ یہ منصوبہ حالیہ پاک ازبکستان تجارتی معاہدہ کے اگلے فیز کا حصہ ہے، جو دونوں برادر ممالک کے معاشی مفادات کو یکجا کرے گا۔
اے آئی کسٹمز اور کارگو ٹریکنگ سسٹم: یہ کیسے کام کرے گا؟
پاکستان کسٹمز اور ازبکستان کی اسٹیٹ کسٹمز کمیٹی کے مابین ہونے والے معاہدے کے مطابق، اس سمارٹ سسٹم کو دونوں ممالک کے مرکزی تجارتی روٹس بالخصوص واہگہ، طورخم، چمن اور ازبکستان کی سرحدوں پر واقع کسٹمز اسٹیشنز پر نافذ کیا جائے گا۔
اس ٹیکنالوجی کے تین اہم ستون درج ذیل ہیں:
اسمارٹ الیکٹرانک لاکس : پاکستان کی بندرگاہوں (کراچی اور گوادر) سے ازبکستان جانے والے کارگو کنٹینرز پر اے آئی سے لیس الیکٹرانک لاکس لگائے جائیں گے، جو ریئل ٹائم لوکیشن فراہم کریں گے۔
خودکار دستاویزی پڑتال : آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے الگورتھمز دونوں ممالک کے کسٹمز ڈیٹا کو آپس میں سنکرونائز کریں گے جس سے سامان کی رسیدوں اور کلیئرنس کی دستاویزات کی انسانی مداخلت کے بغیر جانچ پڑتال ممکن ہو سکے گی۔
پریڈیکٹو انالیٹکس: یہ سسٹم کارگو کے روٹ، وزن اور ٹائم کا تجزیہ کر کے کسی بھی مشکوک سرگرمی یا روٹ کی تبدیلی پر فوری الرٹ جاری کرے گا، جس سے مال چوری ہونے یا اسمگلنگ کا خطرہ صفر ہو جائے گا۔
پاک ازبکستان تجارتی معاہدہ: وسطی ایشیا تک رسائی کا تیز ترین ذریعہ
ازبکستان ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے یعنی اس کی کوئی اپنی بندرگاہ نہیں ہے۔ پاکستان کے وزیرِ تجارت اور امپورٹ ایکسپورٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی کراچی، قاسم اور گوادر بندرگاہیں ازبکستان سمیت تمام وسطی ایشیائی ریاستوں (سی آئی ایس ممالک) کے لیے سستا ترین اور مختصر ترین سمندری راستہ فراہم کرتی ہیں۔
اس جدید اے آئی ٹریکنگ سسٹم کی بدولت اب کسٹمز کا وہ کام جو پہلے کئی دنوں میں مکمل ہوتا تھا محض چند گھنٹوں میں ہو جایا کرے گا۔ اس سے نہ صرف تاجروں کے لاجسٹکس اخراجات میں واضح کمی آئے گی بلکہ دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم بھی سالانہ اربوں ڈالر تک پہنچنے کی راہ ہموار ہوگی۔ پاکستان ازبکستان کو چمڑے کی مصنوعات، آلاتِ جراحی، ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل کا سامان برآمد کرتا ہے جبکہ وہاں سے کاٹن، کوئلہ اور خشک میوہ جات درآمد کیے جاتے ہیں۔
علاقائی رابطے اور سیکیورٹی کا نیا فریم ورک
یہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن صرف تجارت تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پورے خطے کے امن و امان اور اقتصادی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ افغانستان کے راستے ہونے والی ٹرانزٹ ٹریڈ میں ماضی میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے یہ نظام ایک ڈھال کا کام کرے گا۔ پاکستان کسٹمز کے ویب بیسڈ ون کسٹمز (WeBOC) سسٹم کو ازبک کسٹمز پورٹل کے ساتھ براہِ راست جوڑ دیا جائے گا، جس سے دونوں ممالک کی کسٹمز انٹیلیجنس آپس میں لائیو ڈیٹا شیئر کر سکے گی۔ اس شفافیت سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور لاجسٹکس کمپنیوں کا اعتماد بحال ہوگا اور پاکستان خطے کے مرکزی تجارتی حب کے طور پر ابھرے گا۔






