وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27ء کا سالانہ وفاقی بجٹ اگلے ہفتے بدھ، 10 جون 2026ء کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جبکہ پاکستان بجٹ 2026 سے متعلق باقاعدہ تصدیق بھی کر دی گئی ہے۔
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد اس حتمی تاریخ کا اعلان سامنے آیا. قبل ازیں یہ بجٹ 5 جون کو پیش ہونا تھا لیکن آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ مالیاتی اور ٹیکس اہداف پر تفصیلی مذاکرات اور اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کے باعث شیڈول میں یہ تبدیلی کی گئی
انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے سخت ترین ریونیو اہداف کو پورا کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اس بار ٹیکسوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر رہا ہے. اس کا سیدھا اور براہِ راست اثر عام آدمی کی جیب اور گھر کے ماہانہ راشن پر پڑنے کا امکان ہے. اگر آپ بھی مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں تو پاکستان بجٹ 2026 کے لاگو ہونے کے بعد اپنے گروسری بجٹ میں درج ذیل 3 بڑی تبدیلیاں دیکھنے کے لیے تیار ہو جائیں.
ڈبہ بند دودھ اور ڈیری مصنوعات پر جی ایس ٹی (GST) کا ممکنہ نفاذ
پاکستان میں مڈل کلاس گھرانوں کے گروسری بجٹ کا ایک بڑا حصہ ڈیری مصنوعات یعنی دودھ، مکھن اور پنیر وغیرہ پر خرچ ہوتا ہے. آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت پر یہ مسلسل دباؤ ہے کہ وہ تمام مروجہ استثنیٰ ختم کر کے اسٹینڈرڈ جنرل سیلز ٹیکس (GST) لاگو کرے.
تجارتی اور معاشی ماہرین کے مطابق ڈبہ بند دودھ (Tetra Pack Milk) اور پیکڈ دہی و مکھن پر موجودہ ٹیکس کی شرح کو بڑھا کر یا نئے سرے سے 18 فیصد اسٹینڈرڈ سیلز ٹیکس کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے.
اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو بازار میں ملنے والے ڈبہ بند دودھ کے ایک لیٹر کے ڈبے پر 30 سے 50 روپے تک کا فوری اضافہ ہو سکتا ہے جس سے چائے، بچوں کے دودھ اور روزمرہ ناشتے کا بجٹ شدید متاثر ہو گا.
پروسیسڈ فوڈ، پیکیجڈ مصالحہ جات اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافہ
گھر کے باورچی خانے میں استعمال ہونے والی تیار یا نیم تیار اشیاء (Processed Foods) جیسے کہ پیکیجڈ دالیں، برانڈڈ مصالحے، نوڈلزاور چکن نگٹس وغیرہ پہلے ہی مہنگائی کی زد میں ہیں. پاکستان بجٹ 2026 میں ان پر مزید ریونیو اقدامات متوقع ہیں.
برانڈڈ فوڈ کمپنیوں کے مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین ٹیکسز میں اضافے کے ساتھ ساتھ امپورٹڈ خوردنی تیل (Palm Oil / Soybean Oil) پر کسٹمز ڈیوٹی بڑھائے جانے کی تجویز زیرِ غور ہے.
اس اقدام کے نتیجے میں گھی اور کوکنگ آئل کی فی لیٹر قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو سکتا ہے. اس کے علاوہ بچوں کے پسندیدہ برانڈڈ اسنیکس اور پیکیجڈ مصالحوں کے ڈبوں کی قیمتیں بھی 10 سے 15 فیصد تک اوپر جا سکتی ہیں.
اسٹیشنری، پینسل اور گھریلو صفائی کے سامان پر 18 فیصد سیلز ٹیکس
گروسری کی دکان سے صرف کھانے پینے کا سامان ہی نہیں خریدا جاتا بلکہ بچوں کی کاپیاں، پینسلیں اور گھر کی صفائی کا سامان (جیسے ڈش واشنگ بار، سرف اور صابن) بھی اسی ماہانہ بجٹ کا حصہ ہوتے ہیں.
آئی ایم ایف کی ڈیمانڈز کے تحت فنانس بل 2026ء میں اسٹیشنری کے سامان (بشمول اسکول کی کاپیاں، ڈرائنگ بکس، اور پینسلیں) پر سیلز ٹیکس کو بڑھا کر مکمل 18 فیصد کرنے کی تجویز کو کلیئرنس مل چکی ہے.
اسکول جانے والے بچوں کے والدین کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہو گا. ایک طرف صابن اور سرف مہنگے ہونے سے ماہانہ کلیننگ بجٹ بڑھے گا تو دوسری طرف بچوں کی پڑھائی کے بنیادی لوازمات خریدنا بھی مزید مہنگا ہو جائے گا.
نئے بجٹ کا شیڈول اور اہم ترین تاریخیں
قومی اسمبلی کے ذرائع اور وزارتِ خزانہ کے مطابق بجٹ کی پیشکش کا نیا سرکاری شیڈول درج ذیل ہے:
8 جون 2026ء: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم اجلاس ہوگا جس میں میکرو اکنامک فریم ورک کی منظوری دی جائے گی.
9 جون 2026ء: پاکستان کا آفیشل معاشی سروے (Economic Survey 2025-26) جاری کیا جائے گا جس میں سال بھر کی معاشی کارکردگی کے اعداد و شمار پیش ہوں گے.10 جون 2026ء: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں باقاعدہ فنانس بل یا وفاقی بجٹ تقریر پیش کریں گے






