پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے ٹیرف اور مسلسل مہنگائی سے بچنے کے لیے سولر پینل انسٹالیشن پاکستان میں ایک زبردست سرمایہ کاری بن چکی ہے۔ تاہم نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے قوانین میں حالیہ ترامیم کے بعد اب سولر سسٹم لگوانا پہلے جیسا نہیں رہا۔ نیپرا نے روایتی 1:1 نیٹ میٹرنگ کو مرحلہ وار ختم کر کے نیٹ بلنگ (Net Billing) کا نیا نظام متعارف کروا دیا ہے، جس کے تحت گرڈ کو فروخت کی جانے والی بجلی کی قیمت (Buyback Rate) کو کم کر کے تقریباً 11 سے 13 روپے فی یونٹ کر دیا گیا ہے جبکہ گرڈ سے خریدی جانے والی بجلی اب بھی 40 سے 55 روپے فی یونٹ مل رہی ہے۔
اس نئے معاشی منظر نامے میں، اگر آپ سولر سسٹم لگاتے وقت جدید ترین قوانین اور تکنیکی اصولوں کو مدنظر نہیں رکھیں گے، تو آپ کی لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوب سکتی ہے۔ ذیل میں وہ 5 بڑی اور مہنگی غلطیاں بیان کی جا رہی ہیں جن سے آپ کو لازمی بچنا چاہیے۔
1۔ نیٹ بلنگ کے دور میں سسٹم کا سائز ضرورت سے زیادہ بڑا رکھنا
پرانے نیٹ میٹرنگ قوانین کے تحت لوگ زیادہ سے زیادہ پینلز لگاتے تھے تاکہ وافر بجلی بیچ کر منافع کما سکیں۔ لیکن 2026 کے نیٹ بلنگ قوانین کے تحت گرڈ کو سستی بجلی بیچنے کا marginal فائدہ بہت کم ہو چکا ہے۔
نقصان: اگر آپ ضرورت سے بڑا سسٹم ڈیزائن کریں گے تو اضافی بجلی صرف 11 روپے میں بکے گی جس سے آپ کے سسٹم کی واپسیِ سرمایہ (Payback Period) کا وقت طویل ہو جائے گا۔
حل: اب سولر سسٹم کا سائز زیادہ سے زیادہ برآمد کے بجائے دن کے وقت ذاتی استعمال (Daytime Self-Consumption) کے مطابق ڈیزائن کریں۔
2۔ منظور شدہ لوڈ (Sanctioned Load) کی حد کا خیال نہ رکھنا
نیپرا کے نئے ضوابط کے مطابق کوئی بھی صارف اپنے بجلی کے میٹر کے منظور شدہ لوڈ (Sanctioned Load) سے زیادہ کا سولر سسٹم انسٹال نہیں کر سکتا۔
نقصان: اگر آپ کا منظور شدہ لوڈ 5 کلوواٹ (kW) ہے اور آپ نے 10 کلوواٹ کا سسٹم لگا لیا تو ڈسٹری بیوشن کمپنی (DISCO) آپ کی نیٹ میٹرنگ کی درخواست کو فوری طور پر مسترد کر دے گی۔
حل: سسٹم لگانے سے پہلے اپنے بجلی کے بل پر درج "Sanctioned Load” چیک کریں۔ اگر لوڈ کم ہو تو پہلے اپنے متعلقہ ادارے (جیسے LESCO, IESCO, MEPCO وغیرہ) سے لوڈ بڑھانے کی درخواست کریں۔ (یاد رہے کہ حکومت نے حال ہی میں 25 کلوواٹ تک کے صارفین کے لیے براہِ راست نیپرا سے لائسنس لینے کی شرط ختم کر کے ریلیف دیا ہے)۔
3۔ پینلز کا غلط رخ (Orientation) اور جھکاؤ کا زاویہ
پاکستان میں متبادل توانائی کے ماہرین کے مطابق سولر پینلز سے زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کے لیے ان کا رخ درست ہونا اور موسم کے لحاظ سے زاویہ درست ہونا لازمی ہے۔
نقصان: پینلز کو مشرق، مغرب یا کسی سائے دار جگہ (Shaded Area) پر لگا دینے سے ان کی کارکردگی 30 سے 40 فیصد تک گر جاتی ہے۔
حل: جغرافیائی پوزیشن کے لحاظ سے پاکستان میں سولر پینلز کا رخ ہمیشہ جنوب (South Face) کی طرف ہونا چاہیے اور جھکاؤ کا زاویہ (Tilt Angle) عام طور پر 15 سے 20 ڈگری کے درمیان ہونا چاہیے تاکہ سورج کی شعاعیں براہِ راست پڑیں۔
4۔ غیر تصدیق شدہ انورٹر اور حفاظتی آلات کا استعمال
نیپرا اور ڈسکوز (DISCOs) نے گرڈ کی حفاظت کے لیے تکنیکی معیار انتہائی سخت کر دیے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کی منظوری کے لیے مخصوص پروٹیکشن آلات کا ہونا لازمی ہے۔
نقصان: اگر آپ کا انورٹر بائی ڈائریکشنل مطابقت وولٹیج ریگولیشن اور اینٹی آئی لینڈنگ (Anti-Islanding) کی بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز (جیسے IEC 62116 یا UL 1741) پر پورا نہیں اترتا، تو معائنے کی ٹیم اسے نامظور کر دے گی۔ اسی طرح سرج پروٹیکشن ڈیوائسز (SPD) اور ڈی سی بریکرز (DC MCBs) نہ ہونے پر گرڈ کنکشن نہیں دیا جائے گا۔
حل: صرف وہی انورٹر اور بریکرز خریدیں جو حکومت اور نیپرا کی منظور شدہ آلات کی فہرست (Approved Equipment List) میں شامل ہوں۔
5۔ غیر رجسٹرڈ اور سستے انسٹالرز سے وائرنگ کروانا
پیسے بچانے کی خاطر کسی عام الیکٹریشن یا غیر تصدیق شدہ لوکل وینڈر سے سولر سیٹ اپ لگوانا سب سے مہنگی غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔
نقصان: نیٹ میٹرنگ کے لیے اپلائی کرنے کے لیے متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ (AEDB) یا متعلقہ ڈسکو سے "ایکٹو انسٹالر” کا دستخط شدہ سنگل لائن ڈایاگرام (Single-Line Diagram) لازمی ہوتا ہے۔ غیر رجسٹرڈ وینڈر کی فائل سرکاری طور پر قبول نہیں کی جاتی۔ اس کے علاوہ ناقص وائرنگ شارٹ سرکٹ اور آگ لگنے کا سبب بن سکتی ہے۔
حل: ہمیشہ AEDB کے تصدیق شدہ کیٹیگری ہولڈر سولر انجینئرز سے ہی تنصیب کا معاہدہ کریں۔






