اقوامِ متحدہ ، بین الاقوامی سفارت کاری اور جیو پولیٹیکل سیکیورٹی کے محاذ پر پاکستان کی جانب سے ایک انتہائی مضبوط اور واضح بیانیہ سامنے آیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بین الاقوامی برادری بالخصوص یو این سیکیورٹی کونسل (UNSC) پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے اپنی ہی منظور کردہ تاریخی قراردادوں کو عملی جامہ پہنائیں۔
آج، 17 ستمبر 2026 کو نیویارک میں پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ سیکیورٹی کونسل کے خصوصی اریا فارمولا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل قراردادیں محض کاغذی دستاویزات نہیں ہیں بلکہ یہ مقبوضہ وادی کے لاکھوں معصوم انسانوں کے حقِ خودارادیت کا قانونی ضامن ہیں۔ انہوں نے عالمی مینیجرز کو خبردار کیا کہ جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتوں کے مابین پائیدار امن کا راستہ صرف اور صرف کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق کونسل رولز کے نفاذ سے ہی ممکن ہے۔
Pakistan's Permanent Representative to the #UN Asim Iftikhar Ahmad has called upon the int'l community, particularly the Security Council, to translate its own resolutions into meaningful action towards a just and peaceful settlement of Jammu and #Kashmir dispute@PakistanPR_UN… pic.twitter.com/8Tc26pGdox
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) September 17, 2026
دو جوہری طاقتوں کے مابین تصادم کے لائیو خطرات اور سفارتی جمود کا مینوئل
پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے سیکیورٹی کونسل کے اراکین کے سامنے خطے کے بدلتے ہوئے ملٹری مائنڈ سیٹ اور لائیو خطرات کا سائنسی احاطہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کو حل کرنے میں عالمی برادری کی مسلسل ناکامی سیکیورٹی انڈیکس کو مستقل نقصان پہنچا رہی ہے۔
سفارتی کوریڈور میں پیش کیے گئے پاکستانی موقف کے اہم خدوخال درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
نیوکلئیر فلیش پوائنٹ : پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ریاستیں ہیں اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونا کسی بھی وقت ایک ہولناک فوجی تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔
عالمی قانون کی ساکھ کا امتحان: عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں (OPT) کی موجودہ تشویشناک صورتحال بین الاقوامی قانون کی اتھارٹی اور اقوامِ متحدہ کی کریڈیبلٹی کے لیے ایک مستقل اور کھلا چیلنج بن چکی ہے۔
کشمیر اور فلسطین کا موازنہ اور اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کا مطالبہ
پاکستانی سفیر نے اپنے خطاب کے دوران مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا موازنہ کرتے ہوئے عالمی برادری کے دوہرے معیار کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے واشنگٹن اور نیویارک کے مینیجرز پر زور دیا کہ دنیا اب مزید مینوئل دفتری تاخیر اور جیو پولیٹیکل مصلحتوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
مقبوضہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان نے درج ذیل تین بنیادی مطالبات پیش کیے:
اسرائیلی قبضے کا فوری خاتمہ: اسرائیل کو فلسطینی زمینوں پر اپنے غیر قانونی مینوفیکچرڈ قبضے کو فی الفور ختم کرنا ہوگا۔
آزادی اور وقار کی بحالی: فلسطینی عوام کو ایک خود مختار ریاست میں مکمل آزادی اور انسانی وقار کے ساتھ جینے کا حق فراہم کیا جائے۔
حقِ خودارادیت کا غیر مشروط نفاذ: اقوامِ متحدہ کے سافٹ ویئر اور چارٹر کے عین مطابق دونوں خطوں کے مظلوم عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔
پاکستانی مندوب کا یہ متحرک اور پیپر لیس سفارتی رخ نہ صرف جموں و کشمیر کے مقدمے کو عالمی فورمز پر زندہ رکھتا ہے بلکہ بلیک مارکیٹنگ اور پروپیگنڈا کا خاتمہ کر کے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے سافٹ امیج کو مستقل طور پر فروغ دیتا ہے۔






