پاکستان میں انسانیت کی خدمت، غیر معمولی بہادری اور فرض شناسی کی ایک لازوال مثال قائم کرنے پر وفاقی حکومت کی جانب سے تمغہ شجاعت نرس رضیہ نورین کے لیے ایک تاریخی اور قابلِ فخر فیصلہ سامنے آیا ہے۔ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے باقاعدہ طور پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد کی مایہ ناز اسٹاف نرس رضیہ نورین کو ملکی تاریخ کے معتبر ترین سول اعزاز تمغہ شجاعت سے نوازنے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ صدارتی منظوری پمز ہسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ بلاک کی نوانیٹل نرسری میں 26 اگست 2026 کو لگنے والی ہولناک آگ کے تناظر میں دی گئی ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری نرسری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس کے نتیجے میں 14 نوزائیدہ بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ تاہم اس بھیانک ایمرجنسی کے دوران نرس رضیہ نورین نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر دھوئیں سے بھرے ہوئے وارڈ میں چھلانگ لگائی اور وہاں موجود آخری زندہ بچے کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوئیں۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے بہادری کی توثیق اور انکوائری رپورٹ
اس واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے مینیجرز نے ہسپتال کے سیکیورٹی اور ڈیجیٹل کلاؤڈ سسٹمز کا باریک بینی سے معائنہ کیا ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی لائیو اسکیننگ اور ویڈیو لاگز کے آڈٹ سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ رضیہ نورین آگ کے شعلے بلند ہونے کے باوجود نرسری کے اندر داخل ہوئیں اور چند سیکنڈز کے اندر معصوم بچے کو گود میں لیے باہر نکلیں۔
انکوائری مینوئل کے مطابق انہوں نے پہلی بار بچے کو محفوظ کرنے کے بعد دوبارہ کلوڈ وارڈ کے اندر داخل ہونے کی کوشش بھی کی لیکن اس وقت تک آگ اور زہریلا دھواں اس حد تک پھیل چکا تھا کہ مزید اندر جانا ناممکن ہو گیا تھا۔ اس دستاویزی ثبوت نے سوشل میڈیا پر پھیلی ان افواہوں کومسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز نے بچوں کو لاوارث چھوڑ دیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات اور 1 کروڑ روپے کا فنانشل ریلیف
صدارتی منظوری سے قبل، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی بہادر نرس رضیہ نورین سے وزیراعظم ہاؤس میں خصوصی ملاقات کی تھی۔ وزیراعظم نے ان کی بے لوث لگن، فرض شناسی اور غیر معمولی جرات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کی جانب سے 1 کروڑ (10 ملین) روپے کا فنانشل چیک بطور انعام رضیہ نورین کے حوالے کیا تھا۔
میڈیا مینیجرز سے گفتگو کرتے ہوئے رضیہ نورین کا کہنا تھا:
"میں نے کوئی احسان نہیں کیا، نرسنگ کا شعبہ انسانی جانیں بچانے کا نام ہے۔ اس وقت لوگوں نے اپنے معصوم بچے ہمارے مینوئل بھروسے پر چھوڑے تھے اور ان کی حفاظت میری اولین ذمہ داری تھی۔ مجھے دکھ ہے کہ میں دیگر 14 بچوں کو آگ کے چنگل سے نہیں بچا سکی۔”
ہسپتال مینجمنٹ کے خلاف سخت ایکشن اور کسٹمز سیفٹی رولز کا نفاذ
حکومت نے صرف اعزازات پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انکوائری رپورٹ میں سامنے آنے والے اسٹرکچرل اور لاجسٹک لوپ ہولز پر سخت ترین ریگولیٹری کارروائی کا حکم بھی دیا ہے۔ وزیراعظم نے ہسپتال مینجمنٹ اور سیکیورٹی کمپنی کے مینیجرز کی مجرمانہ غفلت پر پمز کے 8 اعلیٰ افسران کو فوری معطل کر کے ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا مینوئل الرٹ جاری کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے سوگوار خاندانوں کے لیے 50 لاکھ روپے فی کس معاوضے کی فنانشل سبسیڈیز بھی لاک کر دی گئی ہیں۔ یہ نیا اسمارٹ فریم ورک بلیک مارکیٹنگ اور غفلت کا خاتمہ کر کے پاکستان کے ہیلتھ کیئر اور ہاسپٹل سیفٹی انڈیکس کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گا۔






