پاکستان کے تاریخی ورثے، بین الاقوامی سفارت کاری اور قدیم ثقافتی اثاثوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک انتہائی غیر معمولی اور بڑا سفارتی سنگِ میل حاصل کر لیا گیا ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے باقاعدہ طور پر پاکستان سے اسمگل اور غیر قانونی طور پر منتقل کیے جانے والے 36 قیمتی نوادرات کامیابی سے واگزار کروا کر حکومتِ پاکستان کے حوالے کر دیے ہیں۔ اس باضابطہ قانونی اقدام کے بعد چوری شدہ نوادرات واپسی پاکستان کا کوریڈور ایک بار پھر فعال ہو گیا ہے جس کا مقصد ملکی تاریخ کے گمشدہ اور نایاب اثاثوں کو واپس لا کر قومی عجائب گھروں کی رونق بڑھانا ہے۔
نیویارک میں واقع مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس میں منعقدہ ایک پروقار اور اعلیٰ سطحی سفارتی تقریب کے دوران ان نوادرات کی واپسی کا باقاعدہ معاہدہ فائنل کیا گیا۔ نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی نے حکومتِ پاکستان کی طرف سے ان قیمتی نوادرات کا چارج حاصل کیا۔ یہ کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ بین الاقوامی امیگریشن کوریڈورز اور ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز (HSI) کے سوفٹ وئیر مینیجرز کی لائیو ٹریکنگ اور سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں اسمگلنگ مافیا کے مینوئل نیٹ ورکس کو کس طرح جڑ سے اکھاڑا جا رہا ہے۔
گندھارا دور کے نایاب کسٹمز اور نوادرات کا آڈٹ
امریکی حکام کی جانب سے فراہم کردہ آفیشل مینوئل کے مطابق ان واگزار کروائے گئے 36 نوادرات کا تعلق پاکستان کی ہزاروں سال پرانی گندھارا تہذیب اور مہر گڑھ کے قدیم ترین تاریخی ادوار سے ہے۔ ان نوادرات کو پچھلی چند دہائیوں کے دوران مختلف مینوئل کسٹمز لوپ ہولز کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کے آثارِ قدیمہ کے مقامات سے غیر قانونی طور پر کھود کر بیرونِ ملک بلیک مارکیٹ میں بیچا گیا تھا۔
اس اسمارٹ ریکوری پراجیکٹ کے بنیادی دستاویزی خدوخال درج ذیل خطوط پر مینوفیکچر کیے گئے ہیں:
اربوں روپے کی مالیاتی مالیت: انشورنس انڈیکس اور فنانشل مینیجرز کے تخمینے کے مطابق ان 36 نایاب تاریخی اشیاء کی بین الاقوامی منڈی میں قیمت لاکھوں امریکی ڈالرز فکس کی گئی ہے جو کہ پاکستان کا ایک انمول ثقافتی اثاثہ ہے۔
بدھ مت کے مجسمے اور کلے ماڈلز: نوادرات میں بدھ مت کے دور کے گندھارا فرائز، نایاب سٹوکو بوڈھی ستوا کے سر، مٹی کے قدیم برتن اور سکوں کے لائیو ریکارڈ شامل ہیں جنہیں اسمگلر سبھاش کپور اور دیگر مجرمانہ نیٹ ورکس کے کلاؤڈ ریکارڈ سے برآمد کیا گیا تھا۔
نادرا اور آرکیالوجی کلاؤڈ کا انضمام: پاکستان کا محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر (DOAM) اب ان تمام اشیاء کی بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل اسکیننگ مکمل کر کے ان کا ایک پیپر لیس اور سوفٹ وئیر بیسڈ کلاؤڈ ریکارڈ مینوفیکچر کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں ان کی چوری کو ہمیشہ کے لیے روکا جا سکے۔
مین ہٹن ڈی اے اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کا مشترکہ آپریشنل مینوئل
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی میتھیو بوگڈانوس نے پاکستان کے امیر ثقافتی ورثے کو سراہا اور عزم ظاہر کیا کہ امریکی حکومت ثقافتی املاک کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف اپنی کڑی مانیٹرنگ اور لائیو آپریشنز جاری رکھے گی۔ قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی نے امریکی اینٹی ٹریفکنگ یونٹ کے مینیجرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ پانچواں ایسا بڑا موقع ہے جب امریکہ نے پاکستان کی چوری شدہ تاریخ کو واپس کیا ہے۔
ان تمام نوادرات کو بہت جلد کیش لیس کسٹمز کوریڈور کے ذریعے پاکستان ایئرپورٹ منتقل کیا جائے گا جہاں سے انہیں اسلام آباد اور لاہور کے مرکزی عجائب گھروں میں عام شہریوں اور بین الاقوامی سیاحوں کی تعلیمی نمائش کے لیے لائیو پیش کیا جائے گا۔ یہ اقدام دنیا بھر میں پاکستان کے سافٹ امیج کو مستقل طور پر بلند کرے گا۔






