پاکستان اسپورٹس بورڈ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور ملکی کھیلوں کے کوریڈورز سے ایک انتہائی پروقار اور تاریخی اسپورٹس اپڈیٹ سامنے آئی ہے۔ جاپان کے شہر ناگویا میں 19 ستمبر سے 4 اکتوبر 2026 تک منعقد ہونے والے 20ویں ایشین گیمز کے شاندار مقابلوں کے لیے پاکستان کے آفیشل اسکواڈ نے اپنی تیاریاں فائنل کر لی ہیں۔ اس میگا ایونٹ کی افتتاحی تقریب کے لیے باقاعدہ طور پر ایشین گیمز پرچم برداروں کا اعلان کر دیا گیا ہے جو بین الاقوامی کھیلوں کے اسٹیج پر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو لائیو سربلند کریں گے۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) کے مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ اسمارٹ مینوئل کے مطابق اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور قومی ہیرو ارشد ندیم مردوں کے دستے میں پاکستان کی مانیٹرنگ اور قیادت کریں گے۔ دوسری جانب قومی دستے کی چیف ڈی مشن فاطمہ لاکھانی کو مجموعی انتظامی سربراہی کا سوفٹ وئیر کوٹہ الاٹ کیا گیا ہے۔ پاکستان اس بار مجموعی طور پر 23 مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لے رہا ہے اور تمام ایتھلیٹس پیپر لیس رجسٹریشن اور بائیومیٹرک اسکیننگ کے بعد مرحلہ وار جاپان روانہ ہو رہے ہیں۔
ارشد ندیم کی قیادت اور ایتھلیٹکس ٹیم کا اسمارٹ فریم ورک
قومی اسپورٹس فنڈز اور کارپوریٹ مینیجرز کے مطابق ارشد ندیم کا بطور پرچم بردار انتخاب پاکستان کے اسپورٹس انڈیکس کو عالمی سطح پر ایک مضبوط سافٹ امیج فراہم کرے گا۔ پیرس اولمپکس میں ریکارڈ ساز کارکردگی دکھانے والے مایہ ناز ایتھلیٹ اب جاپان کے میدانوں میں بھی پاکستان کے ریوینیو اور میڈلز کے گراف کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
ایتھلیٹکس اسکواڈ کے بنیادی لاجسٹک اور سائنسی پیرامیٹرز درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
ٹاپ ایتھلیٹس کا کوٹہ: ارشد ندیم کے ہمراہ شجر عباس، محمد یاسر اور انصار عباس سمیت ملک کے 6 بہترین اور وائٹ لسٹڈ کھلاڑی دستے کا حصہ ہیں۔
جدید اسکیننگ اور ٹریننگ: تمام کھلاڑیوں نے مینوئل ٹریننگ کے کسٹمز کو بدل کر اسپورٹس بائیومیکانکس اور ڈیجیٹل کلاؤڈ مانیٹرنگ کے تحت سوفٹ وئیر بیسڈ کیمپس میں تیاری مکمل کی ہے۔
کرکٹ اسکواڈز کا انضمام اور پشاور کی علی سسٹرز کا تاریخی اعزاز
اس بار ایشین گیمز کے مینوفیکچرڈ پلان میں کرکٹ اور اسکواش کے شعبوں میں پاکستان کو میڈلز حاصل کرنے کے واضح امکانات حاصل ہیں۔ مینز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے صائم ایوب، صاحبزادہ فرحان، حیدر علی، ابرار احمد، احمد دانیال، عرفات منہاس اور عثمان خان جیسے جارح مزاج کسٹمرز (کھلاڑیوں) کو کلوڈ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے جبکہ مائیک ہیسن ٹیم کے ہیڈ کوچ کے طور پر لائیو مانیٹرنگ سنبھالیں گے۔
اسکواش کے میدان میں بھی پشاور سے تعلق رکھنے والی تین سگی بہنوں نے ایک ہی ایشین گیمز اسکواڈ میں منتخب ہو کر تاریخ رقم کر دی ہے:
مہوش علی: اسکواڈ کی مایہ ناز کھلاڑی جو اس وقت امریکہ کے ہائی ٹیک اسپورٹس سینٹر میں جدید سائنسی آڈٹ کے تحت تربیت حاصل کر رہی ہیں۔
سحرش علی اور ماہ نور علی: یہ دونوں بہنیں بھی پشاور کے کیمپ میں مینوئل خامیاں دور کر کے انٹرنیشنل کونسل رولز کے مطابق شاٹس کی لائیو پریکٹس کر رہی ہیں۔ ان کے والد محمد عارف (سابق اسکواش کھلاڑی) نے اس منفرد کلاؤڈ سلیکشن کو اپنے خاندان اور ملک کے لیے سب سے بڑا فنانشل اور اخلاقی اعزاز قرار دیا ہے۔
ویمنز کرکٹ فائنل کوریڈور اور لائیو سپورٹ ہیلپ ڈیسک
ایشین گیمز کے ویمنز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ فارمیٹ میں پاکستان کی ویمنز کرکٹ ٹیم 20 ستمبر 2026 کو نیشین کے آئچی پریفیکچرل اسپورٹس پارک میں اپنا پہلا اہم ترین سیمی فائنل میچ کھیلنے کے لیے لائیو میدان میں اترے گی۔ عالیہ ریاض، منیہ علی اور فاطمہ ثنا پر مشتمل اسمارٹ ویمنز اسکواڈ کی تمام ٹرانزیکشن لاگز اور اسکور مانیٹرنگ کو اے سی سی کے پورٹل پر لائیو کر دیا گیا ہے۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ نے شائقینِ وطن کی لائیو معلومات کے لیے ایک مخصوص ڈیجیٹل انفارمیشن ڈیسک اور یونیورسل ہیلپ لائن کو چوبیس گھنٹے فعال کر رکھا ہے جہاں سے شہری جاپان میں ہونے والے تمام کھیلوں کے شیڈول، فائنل ٹیرف رولز اور میڈل ٹیبل کا سائنسی آڈٹ گھر بیٹھے کیش لیس موڈ میں حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایونٹ بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کر کے پاکستان کے اسپورٹس کلچر کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گا۔






