پاکستان کے دفاعی انفراسٹرکچر، عسکری ٹیکنالوجی اور پاک امریکہ سفارتی و دفاعی تعلقات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، غیر معمولی اور تزویراتی سنگِ میل حاصل کر لیا گیا ہے۔ پاکستان آرمی نے دفاعی اور پبلک سیکٹر مانیٹرنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے امریکی ڈرون مینوفیکچرنگ کمپنی پاورس (Powerus) کے ساتھ باقاعدہ طور پر ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت کمپنی کو جدید ترین بغیر پائلٹ کے فضائی سسٹمز کا ابتدائی آرڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
اس تاریخی اور اسمارٹ کوریڈور کے نفاذ کے بعد پاک فوج امریکی ڈرون معاہدہ باقاعدہ طور پر عملدرآمد کے فیز میں داخل ہو چکا ہے جس کا بنیادی مقصد روایتی عسکری مانیٹرنگ کے بجائے سوفٹ وئیر بیسڈ اور نیٹ ورک انٹیگریٹڈ ڈرون سسٹمز کے ذریعے سرحدوں کی لائیو پروٹیکشن کو فول پروف بنانا ہے۔ اس اہم ترین پیشرفت کی تصدیق کمپنی کے شریک بانی بریٹ ویلیکووچ نے بین الاقوامی میڈیا مینیجرز کے سامنے ایک لائیو پریس بریفنگ کے دوران کی ہے۔
جی ایچ کیو راولپنڈی میں اہم ترین پبلک میٹنگ اور دفاعی پروڈکشن کا جائزہ
اس اسٹریٹجک دفاعی الائنس کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی کمپنی پاورس کے سی ای او اینڈریو فاکس اور بریٹ ویلیکووچ پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی کا تفصیلی دورہ کیا۔ وفد نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل آصف منیر سے ملاقات کی جس میں علاقائی سیکیورٹی چیلنجز طویل مدتی صلاحیتوں کی تعمیر اور دفاعی سازوسامان کی مشترکہ مینوفیکچرنگ پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
سیکیورٹی کی حساسیت اور کلوڈ ریکارڈ کی کانفیڈنشلیٹی کے باعث فی الحال اس ابتدائی آرڈر کے فنانشل فنڈز اور مجموعی مالیاتی حجم کو پبلک نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم کمپنی مینیجرز کے مطابق یہ ڈرون سسٹمز پاکستان آرمی کے مینوئل بارڈر کنٹرول کو سوفٹ وئیر بیسڈ اسمارٹ کسٹمز اور لائیو تھریٹ مانیٹرنگ ڈیش بورڈ میں تبدیل کرنے کی مکمل سائنسی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستان میں ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ اور جوائنٹ وینچر کا روڈ میپ
امریکی کمپنی پاورس صرف ڈرونز کی فروخت پر ہی اکتفا نہیں کر رہی بلکہ کمپنی کے سی ای او کا ماننا ہے کہ پاکستان کا نجی دفاعی شعبہ ابھی ابھرتا ہوا ہے جس کی وجہ سے امریکی فرمز کے لیے یہاں سوفٹ وئیر کوریڈورز بنانے کے بہترین مواقع موجود ہیں۔ کمپنی اب پاکستان کے اندر ہی ڈرون ٹیکنالوجی پروڈکشن پلانٹس قائم کرنے کے سائنسی امکانات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔
اس دور رس مینوفیکچرڈ پلان کے دو اہم اسمارٹ فیچرز درج ذیل ہیں:
بہترین سائنسی ملاپ: اس شراکت داری کا اصل مقصد امریکہ کی ہائی ٹیک اور بیسٹ ان بریڈ ٹیکنالوجی کو پاکستان کی مقامی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔
بحری اور فضائی ڈرونز کا انضمام: پاورس کمپنی عسکری اور صنعتی استعمال کے لیے کلاؤڈ نیٹ ورک سے منسلک فضائی اور بحری ڈرونز مینوفیکچر کرتی ہے جو بحیرہ عرب میں پاکستان نیوی کے جے ایم آئی سی سی پورٹل کے لیے بھی انتہائی سودمند ثابت ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کے بیٹوں کی کمپنی کے ساتھ انضمام کا مالیاتی منظرنامہ
فنانشل مینیجرز اور بین الاقوامی ریگولیٹری فائلنگز کے مطابق، ڈرون میکر کمپنی پاورس بہت جلد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹوں (ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ) کی مالیاتی معاونت سے چلنے والی پبلک ٹریڈڈ کمپنی اوریس گرین وے ہولڈنگز کے ساتھ سائنسی انضمام مکمل کرنے جا رہی ہے۔ یہ کارپوریٹ مرجر اکتوبر 2026 کے اوائل میں مکمل ہونے کی توقع ہے جس کے تحت ٹرمپ جونیئر کا انویسٹمنٹ فنڈ اس مشترکہ کمپنی میں 9.9 فیصد کے فنانشل شیئرز کا مالک بن جائے گا
اگرچہ وائٹ ہاؤس اور کمپنی مینیجرز نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ہوا ہے اور اس میں کوئی سیاسی لوپ ہول یا مفادات کا ٹکراؤ شامل نہیں ہے تاہم بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے مابین گرمجوشی سے بڑھتے ہوئے نئے سفارتی و معاشی کوریڈورز کا منہ بولتا ثبوت ہے۔






