پاکستان اور سعودی عرب کے مابین قائم تزویراتی، دفاعی اور اقتصادی برادرانہ تعلقات اب محض روایتی سفارت کاری تک محدود نہیں رہے بلکہ ایس آئی ایف سی سعودی سرمایہ کاری کے ذریعے باقاعدہ طور پر ایک بڑے اور پائیدار جیو اکنامک بلاک کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں قائم خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے ایک اعلیٰ سطحی اور انتہائی کامیاب مشاورتی اجلاس کے بعد سعودی عرب کے شاہی اور نجی شعبے کے سرمایہ کاروں نے پاکستان کے ترجیحی شعبوں میں اپنی سرمایے کے حجم کو ریکارڈ حد تک بڑھانے کے عزم کا پختہ اعادہ کیا ہے۔
سعودی-پاک جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی سربراہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے ایک اعلیٰ سطحی تجارتی وفد نے ایس آئی ایف سی (SIFC) کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران وفد نے مختلف وفاقی وزارتوں، نجی شعبے کے مینیجرز اور عسکری حکام کے ساتھ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (G2G) اور بزنس ٹو بزنس (B2B) فریم ورک کے تحت طویل البنیاد اور تفصیلی سیشنز کا انعقاد کیا، جس کا واحد مقصد دونوں ممالک کی معیشت کو مینو فیکچرنگ اور ڈیجیٹل کوریڈورز کے ذریعے باہم مربوط بنانا ہے۔
توانائی، پٹرولیم اور لاجسٹکس کوریڈورز میں نئے منصوبوں کا روڈ میپ
ایس آئی ایف سی (SIFC) کے حکام نے سعودی وفد کو پاکستان کی معیشت میں موجود مینوفیکچرنگ اور سائنسی مواقع پر تفصیلی بریفنگ فراہم کی۔ اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے مابین مالیاتی کسٹمز اور مینوئل تاخیر کو ختم کرنے کے لیے ایک خودکار نظام پر اتفاق کیا گیا۔ سعودی مینیجرز نے درج ذیل اہم ترین شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری بڑھانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے:
پاور اور پٹرولیم کا شعبہ: سعودی عرب پاکستان میں جدید ترین گرین انرجی، شمسی توانائی کے گرڈز، اسمارٹ میٹرنگ انفراسٹرکچر اور ایک بڑے ریفائنری پروجیکٹ کے قیام کے لیے کام کر رہا ہے۔
مینوفیکچرنگ اور نجکاری : حکومتِ پاکستان کی نجکاری مہم کے تحت مختلف خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی ملکیت اور انتظام میں سعودی سرمائے کی شمولیت پر سٹرکچرل بات چیت کی گئی۔
کمیونیکیشنز اور ہائی ویز: ملک کے اندر سپلائی چین اور لاجسٹکس کو بہتر بنانے کے لیے موٹر ویز (جیسے کراچی-حیدرآباد موٹر وے منصوبہ) اور مواصلاتی نیٹ ورکس کی ڈیجیٹل اسکیننگ اور اپ گریڈیشن۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اور تین ٹریلین ڈالر کا معاشی وژن
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں سعودی عرب کے اس ہائی ٹیک تجارتی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے مطابق ایک جامع اور تزویراتی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق رواں ماہ مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والے تاریخی مکہ جوائنٹ ڈیفنس اگریمنٹ نے اس معاشی شراکت داری کو مزید گہرا اور سیکیورٹی کور فراہم کیا ہے۔ ان تینوں ممالک کا یہ عسکری و اسٹریٹجک اتحاد اب ایک ایسے 3 ٹریلین (3000 ارب) ڈالر کے معاشی بلاک کی بنیاد رکھ رہا ہے جس سے نہ صرف خطے میں پائیدار امن قائم ہوگا بلکہ پاکستان کی آئی ٹی، مائیننگ (جیسے ریکوڈک تانبے کا منصوبہ) اور کارپوریٹ زراعت کو کلاؤڈ اور سوفٹ وئیر بیسڈ ریسرچ کی بدولت نئی زندگی ملے گی۔
سرمایہ کاروں کی شکایات کا خاتمہ اور باہمی نفاذ کا ڈیجیٹل مینوئل
ایس آئی ایف سی (SIFC) کے اجلاس کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ سعودی وفد نے پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کے بدلتے ہوئے ماحول اور ماضی کے روایتی کسٹمز و قانونی تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے پر کونسل کے کردار کی تعریف کی۔ پاکستان کی جانب سے مینیجرز نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کسی بھی بیوروکریٹک ریڈ ٹیپ (Red Tape) کو آڑے نہیں آنے دے گی اور تمام تر کلیئرنس ڈیجیٹل ہب کے ذریعے منٹوں میں فراہم کی جائے گی۔ دونوں ممالک نے ان تمام حکومتی وعدوں کو زمین پر حقیقی معاشی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ایک باقاعدہ باہمی نفاذ کا مینوئل بھی فائنل کر لیا ہے۔






