پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اسٹریٹجک، اقتصادی اور عسکری شراکت داری کو تاریخی بلندیوں پر پہنچانے اور خطے میں پائیدار سفارت کاری کو فعال بنانے کے سلسلے میں ایک اہم ترین ملاقات منعقد ہوئی ہے گ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان میں اپنی آٹھ سالہ کامیاب ترین سفارتی مدت مکمل کرنے والے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں پاک سعودی برادرانہ سفارتی تعلقات کو ایک ناقابلِ تسخیر کوریڈور میں تبدیل کر دیا ہے گ۔
یہ ملاقات آج، 27 اگست 2026 کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں سعودی سفیر نے وزیراعظم شہباز شریف سے الوداعی ملاقات (Farewell Call) کی گ۔ وزیراعظم نے سفیر نواف بن سعید المالکی کو پاکستان میں ان کی طویل اور تاریخی اسائنمنٹ کی کامیابی سے تکمیل پر دلی مبارکباد پیش کی اور دونوں برادر ممالک کے عوام کو باہم مربوط کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
علاقائی امن، استحکام اور ایران-امریکہ مذاکرات میں سعودی عرب کا کلیدی کردار
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ہائی لیول اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژنری اور اصولی کردار کی شدید تعریف کی گ۔
ملاقات کے دوران درج ذیل تزویراتی سیکیورٹی اور سفارتی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی:
خطے میں پائیدار امن کا وژن: وزیراعظم نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مسلم امہ کے مابین تنازعات کو دور کرنے اور خطے کو جنگ کے بادلوں سے بچانے کے لیے ایک بڑے اور معتبر ثالث کا کردار ادا کیا ہے گ۔
تہران امن عمل کی کڑی: آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران اور امریکہ-ایران امن مذاکرات کی بحالی کے تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب نے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل انٹیلی جنس اور سفارتی شیئرنگ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے گ۔
غیر مشروط معاشی مدد: وزیراعظم نے پاکستان کے مالیاتی نظام کو سہارا دینے، اسٹیٹ بینک میں ڈپازٹس برقرار رکھنے اور معاشی منتقلی کے دوران سعودی عرب کی جانب سے دی جانے والی سخی امداد پر شکریہ ادا کیا ۔
سفیر نواف بن سعید المالکی کے آٹھ سالہ دورِ اقتدار کی معاشی کامیابیاں
سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے 2018 سے لے کر 2026 تک اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں جو کہ پاک سعودی سفارت کاری کی تاریخ کا سب سے فعال اور پائیدار ترین دور مانا جاتا ہے۔ ان کے دورِ اقتدار میں دونوں ممالک کے مابین روایتی مینوئل تعلقات کو ڈیجیٹل اور ٹھوس معاشی نتائج میں تبدیل کیا گیا گ۔
ان کے دورِ ملازمت کے چند بڑے تاریخی سنگِ میل درج ذیل ہیں:
ایس آئی ایف سی (SIFC) کے تحت سرمایہ کاری: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے زراعت، انفراسٹرکچر، اور مائیننگ (جیسے ریکوڈک تانبے کا منصوبہ) میں سعودی عرب کی جانب سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی حتمی منظوری گ۔
نیشنل اولیو پالیسی کا آغاز: پاکستان میں زیتون کی کاشت کو کمرشل انڈسٹری بنانے کے لیے 100 ملین ڈالر کے ڈیٹ سویپ پروگرام کے تحت 70 لاکھ سے زائد پودوں کی مینوفیکچرنگ اور نفاذ گ۔
رواداری اور عوامی روابط: پاکستانی کارپوریٹ ورکرز اور ہنر مندوں کے لیے ملائیشیا کی طرح سعودی عرب میں بھی ورک کوٹہ بڑھانے اور ویزا مینوئل کو کیش لیس و آن لائن سافٹ ویئر پر منتقل کرنے میں کلیدی کردار گ۔
الوداعی کلمات اور پاکستان کو ہمیشہ یاد رکھنے کا عزم
سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی کابینہ کے مینیجرز، عسکری قیادت اور پاکستان کے عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے آٹھ سالہ قیام کے دوران انہیں غیر معمولی پروٹوکول اور بے پناہ محبت فراہم کی گ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اپنے نئے سفارتی مشن پر جہاں بھی جائیں پاکستان ان کے دل کے قریب رہے گا اور وہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت پاکستان میں آنے والی نئی انویسٹمنٹ کی مانیٹرنگ اور سرپرستی جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ممالک کا یہ اسٹریٹجک اتحاد ہمیشہ قائم رہے۔






