جنوبی ایشیا کے پہاڑی ملک نیپال میں سیلاب کے باعث مون سون کی حالیہ شدید بارشوں نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ نیپال کے مختلف اضلاع، خصوصاً دارالحکومت کاٹھمنڈو اور اس کے قریبی کوہساری علاقوں میں اچانک آنے والے سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث اب تک درجنوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں لاپتہ ہو چکے ہیں۔ نیپالی وزارتِ داخلہ اور قدرتی آفت سے نمٹنے کے قومی ادارے نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے فوج اور امدادی ٹیموں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔
ان سيلابی ریلوں کی وجہ سے پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے اور پانی بستیوں کے اندر داخل ہو چکا ہے جس سے ہزاروں مکانات زمین بوس ہو گئے ہیں۔ مینوئل دفتری رپورٹوں کے مطابق مواصلات کا نظام اور سڑکوں کا نیٹ ورک مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے، جس کے باعث دور دراز کے علاقوں میں پھنسے ہوئے شہریوں تک امدادی سامان پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا شدید مالی نقصان
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مینیجرز نے اب تک ہونے والے جانی و مالی نقصان کے جو ابتدائی سائنسی اعداد و شمار شیئر کیے ہیں ان کے مطابق صورتحال انتہائی تشویشناک ہے:
جانی نقصان: حالیہ فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک 70 سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔
مٹی کے تودے گرنے کے واقعات: پہاڑی علاقوں میں سڑکوں پر مٹی کے تودے گرنے سے شاہراہیں بلاک ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے سیاح اور مقامی مسافر گاڑیوں سمیت راستوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
بجلی اور انٹرنیٹ کی بندش: سیلابی پانی پاور ہاؤسز اور کلاؤڈ نیٹ ورکس کے انفراسٹرکچر میں داخل ہونے کی وجہ سے درجنوں اضلاع اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں اور سوفٹ وئیر بیسڈ مواصلاتی نظام معطل ہے۔
کٹھمنڈو ویلی کی صورتحال اور ندیوں میں ریکارڈ طغیانی
دارالحکومت کاٹھمنڈو اور اس کے گردونواح کی وادیوں میں باگمتی اور وشنومتی ندیوں میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے کہیں اوپر جا چکی ہے۔ ندیوں کے کنارے قائم کچی بستیاں اور مارکیٹیں مکمل طور پر زیرِ آب آ گئی ہیں جس کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ نے کیو آر کوڈ بیسڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات اور عارضی ریلیف کیمپوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
مقامی مینیجرز کا کہنا ہے کہ ماضی کے روایتی کسٹمز کے برعکس اس سال بارشوں کا مینوفیکچرنگ پیٹرن بہت زیادہ شدید تھا جس نے پرانے نکاسیٔ آب کے نظام کو بری طرح فیل کر دیا۔ شہر کے کئی بڑے اسپتالوں اور سرکاری اسکولوں کے زمینی حصوں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے مینوئل امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں آ رہی ہیں۔
نیپالی فوج کا ریسکیو آپریشن اور بین الاقوامی امداد کی اپیل
نیپال کے وزیراعظم نے کٹھمنڈو میں ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن کو تیز کرنے کے احکامات جاری کیے۔ نیپالی فوج، پولیس اور مقامی رضاکار ہیلی کاپٹروں اور لائف بوٹس کی مدد سے سیلاب میں گھرے افراد کو نکالنے کے مینوئل کام میں مصروف ہیں۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق ہندوکش اور ہمالیہ کے خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشیئرز پگھلنے اور بادل پھٹنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان، چین اور دیگر ہمسایہ ممالک نے نیپال کو اس مشکل گھڑی میں ہر ممکن سفارتی، مالیاتی اور لاجسٹک امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔






