پاکستان اس وقت تاریخ کے سنگین ترین معاشی اور توانائی کے بحرانوں کی زد میں ہے۔ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں مسلسل اضافہ، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) اور نیشنل گرڈ کے گردشی قرضے (Circular Debt) نے عام شہری کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ایسے حالات میں بجلی اب ایک بنیادی انسانی ضرورت نہیں بلکہ ایک عیاشی بن چکی ہے۔ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے کروڑوں پاکستانیوں کے لیے ماہانہ بجلی کا بل ادا کرنا یا اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا ایک کٹھن انتخاب بن چکا ہے۔
اس ابتر صورتحال کے جواب میں پاکستان کے مختلف صوبوں بالخصوص حکومتِ سندھ کی جانب سے 18.20 ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ 75 ہزار مستحق خاندانوں میں مفت سولر ہوم سسٹمز کی تقسیم جیسے اقدامات سامنے آئے ہیں۔ یہ غیر مرکزی (Decentralized) اور خود مختار منصوبے روایتی نیشنل گرڈ پر بوجھ ڈالے بغیر پسماندہ طبقات کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک گرین انرجی سولر ویلفیئر اسکیم مستقل طور پر توانائی کی غربت (Energy Poverty) کا خاتمہ کر سکتی ہے یا یہ محض ایک عارضی سیاسی مرہم ہے؟ اس کا تفصیلی، سائنسی اور معاشی جائزہ ذیل میں پیش کیا گیا ہے۔
1۔ روایتی گرڈ کا بحران اور توانائی کی غربت
پاکستان کا موجودہ پاور سیکٹر ایک ایسے ڈھانچے پر کھڑا ہے جو اب معاشی طور پر پائیدار نہیں رہا۔ جب ہم توانائی کی غربت کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد صرف بجلی کی عدم دستیابی نہیں بلکہ بجلی کی قیمتوں کا اس حد تک بڑھ جانا ہے کہ وہ غریب کی پہنچ سے باہر ہو جائیں۔
روایتی گرڈ (National Grid) پر انحصار کے تین بڑے نقصانات ہیں جن کا شکار پسماندہ طبقات ہوتے ہیں:
لائن لاسز اور بجلی چوری کا بوجھ: وہ علاقے جہاں بجلی چوری یا لائن لاسز زیادہ ہیں، وہاں کا خمیازہ بل ادا کرنے والے غریب صارفین کو ‘اضافی ٹیکسز‘ کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔
لوڈ شیڈنگ کا عذاب: پسماندہ اور دور دراز دیہی علاقوں میں اب بھی 12 سے 16 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے، جس سے وہاں کی معاشی زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔
بھاری ٹیکسیشن: ایک غریب صارف جو صرف دو پنکھے اور تین بلب چلاتا ہے اس کے بل میں بھی آدھے سے زیادہ رقم مختلف قسم کے حکومتی ٹیکسز کی ہوتی ہے۔
ان حالات میں غیر مرکزی نظام یعنی گھر کی چھت پر نصب ایک خود مختار سولر کٹ غریب خاندان کو اس ظالمانہ معاشی چکر سے فوری نجات دلاتی ہے۔
2۔ مالیاتی آزادی اور سماجی و معاشی تبدیلی (Economic Equalization)
جب ایک مستحق خاندان کو گرین انرجی سولر ویلفیئر اسکیم کے تحت 180 واٹ کا سولر پینل، جدید لیتھیم بیٹری اور ڈی سی پنکھے پر مشتمل کٹ بالکل مفت فراہم کی جاتی ہے تو اس کے دور رس سماجی اور معاشی نتائج برآمد ہوتے ہیں:
گھریلو بجٹ میں فوری بچت
ایک ایسا خاندان جس کی کل ماہانہ آمدنی 25 سے 30 ہزار روپے ہو، اگر اس کا بجلی کا بل 4 سے 5 ہزار روپے ماہانہ آنے لگے تو وہ شدید غذائی اور طبی بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔ سولر سسٹم لگنے کے بعد ان کا گرڈ سے انحصار تقریباً ختم ہو جاتا ہے جس سے بچنے والی رقم وہ بچوں کی تعلیم، صحت اور بہتر غذا پر خرچ کر سکتے ہیں۔
گھریلو صنعتوں اور روزگار کا فروغ
پاکستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین گھروں میں سلائی کڑھائی کا کام کرتی ہیں، جبکہ مرد چھوٹے موٹے ریپیرنگ یا دستکاری کے کام کرتے ہیں۔ بجلی نہ ہونے کے باعث ان کا کام صرف دن کے چند گھنٹوں تک محدود رہتا ہے۔ سولر ہوم سسٹم رات کے وقت بھی روشنی فراہم کرتا ہے جس سے ان کے کام کے گھنٹے بڑھ جاتے ہیں اور ان کی آمدنی میں براہِ راست اضافہ ہوتا ہے۔
بچوں کی تعلیم پر مثبت اثرات
لوڈ شیڈنگ کا سب سے بڑا نشانہ غریب کے بچے بنتے ہیں جو گرمی اور اندھیرے کے باعث رات کو پڑھ نہیں پاتے۔ لیتھیم بیٹری کے بیک اپ کے ساتھ ایل ای ڈی بلب جلنے سے بچوں کو پڑھنے کا یکساں ماحول ملتا ہے جو طویل مدت میں ملک میں خواندگی کی شرح بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔
3۔ آپریشنل چیلنجز: "نصب کرو اور بھول جاؤ” کا خطرناک رجحان
جہاں غیر مرکزی گرین انرجی کے بے شمار فوائد ہیں، وہاں ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ ایسی اسکیمیں اکثر ایک بڑے بلائنڈ اسپاٹ یعنی دیکھ بھال (Maintenance Trap) کا شکار ہو کر ناکام ہو جاتی ہیں۔ جنوبی ایشیا اور افریقہ میں ماضی میں کیے گئے ایسے کئی سرکاری اور غیر سرکاری منصوبے 24 سے 36 ماہ کے اندر ناکام ہو گئے اور کروڑوں روپے مالیت کے سولر پینلز کباڑ بن گئے۔ اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
تکنیکی شعور کی کمی
پسماندہ طبقات کو جب یہ کٹس دی جاتی ہیں تو انہیں ان کے استعمال اور دیکھ بھال کی بنیادی تربیت نہیں دی جاتی۔ مثال کے طور پر تھرپارکر یا عمرکوٹ جیسے گرد آلود اور صحرائی علاقوں میں اگر سولر پینل پر مٹی جم جائے تو اس کی کارکردگی 50 فیصد تک گر جاتی ہے۔ پینلز کو مستقل صاف نہ رکھنا پورے سسٹم کی لائف کم کر دیتا ہے۔
پرزہ جات کی تبدیلی کا معاشی بوجھ
اگرچہ جدید لیتھیم بیٹریاں لیڈ ایسڈ (تزاب والی) بیٹریوں کے مقابلے میں زیادہ چلتی ہیں، لیکن ان کی بھی ایک مخصوص عمر ہوتی ہے۔ دو یا تین سال بعد جب ان کا چارج کنٹرولر، انورٹر یا بیٹری کا کوئی پرزہ خراب ہوتا ہے تو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والا خاندان مارکیٹ سے 10 یا 15 ہزار روپے کا نیا پرزہ خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اگر حکومت کا کوئی سپورٹ سسٹم موجود نہ ہوتو وہ سسٹم ناکارہ ہو کر پڑا رہتا ہے۔
4۔ پائیدار حل کے لیے تین بنیادی اسٹریٹجک اصلاحات
اگر پاکستان کو توانائی کی غربت کا مستقل خاتمہ کرنا ہے تو حکومتوں کو صرف مفت سامان بانٹنے کے مائنڈ سیٹ سے نکل کر ایک پائیدار اور خود کفیل ایکو سسٹم (Ecosystem) بنانا ہوگا۔ اس کے لیے درج ذیل تین اقدامات ناگزیر ہیں:
مقامی سطح پر ٹیکنیشنز کی تیاری
حکومت کو چاہیے کہ وہ ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر مقامی نوجوانوں کو (بالخصوص فنی تربیت کے اداروں جیسے TEVTA کے ذریعے) سولر ریپیرنگ اور مینٹیننس کا شارٹ کورس کروائے۔ ان نوجوانوں کو ٹول کٹس دی جائیں تاکہ وہ اپنے ہی علاقے میں ان سولر کٹس کی سروسنگ کا ذمہ لے سکیں۔ اس سے ایک طرف سرکاری اثاثوں کی حفاظت ہوگی اور دوسری طرف مقامی سطح پر ‘سبز روزگار’ (Green Jobs) پیدا ہوں گے۔
مقامی مینوفیکچرنگ کی شرط
پاکستان اس وقت اربوں روپے کے سولر پینلز اور بیٹریاں چین اور دیگر ممالک سے امپورٹ کر رہا ہے۔ ویلفیئر اسکیموں کے لیے اربوں روپے کے جو ٹینڈرز جاری کیے جاتے ہیں ان میں یہ شرط ہونی چاہیے کہ کم از کم 40 سے 50 فیصد پرزے پاکستان کے اندر اسمبل یا تیار کیے جائیں۔ اس سے ملکی معیشت پر بوجھ کم ہوگا اور پرزہ جات سستے داموں مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہوں گے۔
مائیکرو گرڈز کی طرف منتقلی
طویل مدتی حل یہ ہے کہ انفرادی گھروں کو الگ الگ کٹس دینے کے بجائے، پورے پورے دیہات کو چھوٹے مائیکرو گرڈز (Micro-Grids) پر منتقل کیا جائے۔ ایک گاؤں کے مرکز میں ایک بڑا سولر پاور پلانٹ لگا کر اس کی لائنیں پورے گاؤں میں بچھا دی جائیں۔ اس گرڈ کا انتظام ایک مقامی کمیٹی کے سپرد کیا جائے جو ہر گھر سے نام برائے نام (مثلاً 200 روپے ماہانہ) مینٹیننس فنڈ جمع کرے، تاکہ جب بھی کوئی پرزہ خراب ہو، تو کمیٹی کے اکاؤنٹ سے فوری مرمت کی جا سکے۔
غیر مرکزی گرین انرجی سولر ویلفیئر اسکیمیں بلاشبہ پسماندہ طبقات کو توانائی کی غربت اور مہنگی بجلی کے لامتناہی عذاب سے نکالنے کا ایک بہترین اور تیز ترین ذریعہ ہیں۔ یہ منصوبے غریب عوام کو فوری معاشی تحفظ فراہم کرتے ہیں اور ان کی سماجی زندگی کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم ان کی حقیقی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ حکومتیں انہیں صرف ایک بار کا سیاسی تحفہ سمجھ کر نہ بانٹیں بلکہ ان کے ساتھ طویل مدتی دیکھ بھال، مقامی مینوفیکچرنگ اور کمیٹی بیسڈ مائیکرو گرڈز کا ایک مضبوط نظام بھی تشکیل دیں۔ اگر پاکستان اس ماڈل کو کامیابی سے اپنا لیتا ہے تو یہ نہ صرف توانائی کے بحران کا حل ثابت ہوگا بلکہ ملک میں ایک گرین اور پائیدار معاشی انقلاب کی بنیاد بنے گا۔






