صوبہ پنجاب کے غریب اور مستحق مریضوں کو مفت جگر اور گردے کا ٹرانسپلانٹ فراہم کرنے، مہلک امراض سے نجات دلانے اور صحت عامہ کی مینوفیکچرنگ اور سائنسی اپ گریڈیشن کے لیے حکومتِ پنجاب نے ایک تاریخی فلاحی اقدام اٹھایا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (PKLI) راولپنڈی کا ایک اہم دورہ کیا جہاں انہوں نے ہسپتال کے کلینکل آپریشنز کا جائزہ لیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت پنجاب جلد ہی ہسپتال میں مفت جگر اور گردے کا ٹرانسپلانٹ پروگرام باقاعدہ طور پر لانچ کرنے جا رہی ہے۔
آج، 27 اگست 2026 کو ہونے والے اس دورے کے دوران صوبائی وزیر نے ہسپتال کے مختلف شعبوں، انڈور وارڈز اور آئی سی یو (ICU) کا تفصیلی معائنہ کیا اور وہاں زیرِ علاج مریضوں سے ملاقات کر کے انہیں ملنے والی طبی سہولیات کا مینوئل فیڈ بیک حاصل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے پی کے ایل آئی راولپنڈی کی انتظامیہ اور مینیجرز کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں ہسپتال کی کارکردگی، بجٹ اور مستقبل کی توسیعی اسکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
پی کے ایل آئی راولپنڈی میں جگر کے دو کامیاب ٹرانسپلانٹس کا سنگِ میل
اجلاس کے دوران وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کو بتایا گیا کہ ہسپتال کے سرجنز اور کلاؤڈ نیٹ ورک کے ماہرین نے حال ہی میں جگر کے دو انتہائی پیچیدہ اور کامیاب ٹرانسپلانٹس مینوفیکچر کیے ہیں۔ اس شاندار کامیابی پر صوبائی وزیر نے میڈیکل اسٹاف، ڈاکٹروں اور نرسنگ مینیجرز کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس کامیابی کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے خطے کے لیے ایک بہت بڑا ہیلتھ کیئر سنگِ میل قرار دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اب تک جگر اور گردے کی پیوند کاری کے لیے مریضوں کو لاہور منتقل ہونا پڑتا تھا یا مینوئل دفتری تاخیر کے باعث نجی ہسپتالوں کو لاکھوں روپے ریوینیو کسٹمز کے مطابق ادا کرنے پڑتے تھے لیکن اب راولپنڈی کا یہ مرکز جدید سافٹ ویئر اور بائیومیٹرک اسکیننگ کے تحت مریضوں کو مقامی سطح پر ہی بین الاقوامی معیار کا علاج فراہم کر رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا وژن اور ہیلتھ سیکٹر کی ترجیحات
خواجہ سلمان رفیق نے پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا کہ پنجاب کے شہریوں کو عالمی معیار کی مفت اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی اولین ترجیح ہے۔ اس نئے ٹرانسپلانٹ پروگرام کے اہم خدوخال درج ذیل سائنسی پیرامیٹرز پر مبنی ہیں:
مکمل مفت علاج :
ایسے تمام مستحق مریض جو نجی شعبے میں 40 سے 50 لاکھ روپے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے ان کے تمام تر ٹرانسپلانٹ آپریشنز، ادویات اور بعد از آپریشن کیئر کے اخراجات پنجاب حکومت خود برداشت کرے گی۔
ڈیجیٹل میرٹ سسٹم: نادرا (NADRA) کے پورٹل اور کیو آر کوڈ بیسڈ سافٹ ویئر کے ذریعے مریضوں کا ہیلتھ کارڈ ڈیٹا اسکین کیا جائے گا تاکہ بغیر کسی سفارش اور مینوئل تاخیر کے صرف حقدار کسٹمرز کو ہی اس لائف سیونگ سروس تک رسائی ملے۔
انفراسٹرکچر کی توسیع: پی کے ایل آئی راولپنڈی میں گردے اور جگر کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے جدید تشخیصی لیبارٹریز اور لائیو مانیٹرنگ یونٹس کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
حکومت کے اس انقلابی ہیلتھ روڈ میپ سے نہ صرف ہیلتھ ٹورازم کو فروغ ملے گا بلکہ پسماندہ اضلاع کے غریب خاندانوں کو ایک نئی زندگی میسر آئے گی۔






