پاکستان میں کم آمدنی والے طبقے کو اپنے گھر کی فراہمی، زرعی شعبے کی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو بڑھانے اور چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں (SMEs) کو کلاؤڈ اور مالیاتی نیٹ ورکس سے جوڑنے کے لیے وفاقی حکومت کے مالیاتی اقدامات میں ریکارڈ پیشرفت ریکارڈ کی گئی ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اسٹریٹجک اپڈیٹ کے مطابق حکومت کے فلیگ شپ پروگرام پی ایم اپنا گھر لون اسکیم کے تحت منظور شدہ ہاؤسنگ فنانسنگ کا حجم تقریباً دوگنا ہو چکا ہے جبکہ اب تک ہزاروں خاندانوں کو اربوں روپے کے نقد قرضے کامیابی سے منتقل کیے جا چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جون 2026 سے لے کر اب تک کے قلیل عرصے میں اس اسکیم کے تحت ہاؤسنگ سیکٹر نے غیر معمولی نمو دکھائی ہے۔ اس ڈیجیٹل کوریڈور اور خودکار مالیاتی نظام کی بدولت مینوئل دفتری تاخیر اور سفارش کے روایتی کسٹمز کا خاتمہ ہوا ہے جس سے عام شہریوں کو بینکوں سے آسان شرائط پر قرضوں کا حصول ممکن ہوا ہے۔
ہاؤسنگ سیکٹر کی زبردست کارکردگی اور درخواستوں میں 52 فیصد اضافہ
مشیرِ خزانہ خرم شہزاد کی رپورٹ کے مطابق ہاؤسنگ لون اسکیم کے مینوئل اور سافٹ ویئر ریکارڈز میں درج ذیل حیرت انگیز سائنسی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں:
درخواستوں کا انبار: جون سے لے کر اب تک پی ایم اپنا گھر پروگرام کے تحت وصول ہونے والی درخواستوں میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد کل درخواستوں کی تعداد 139,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔
منظور شدہ درخواستیں: حکومت کی جانب سے منظور شدہ درخواستوں کی تعداد 84 فیصد اضافے کے ساتھ 46,000 سے زائد ہو گئی ہے۔
منظور شدہ فنانسنگ کا حجم: کونسل رولز کے مطابق منظور شدہ قرضوں کا کل حجم 144 ارب روپے سے تقریباً دوگنا ہو کر 280 ارب روپے کی سطح کو چھو رہا ہے۔
قرضوں کی فراہمی : اب تک ملک بھر کے 7,600 سے زائد مستحق خاندانوں کو براہِ راست 38 ارب روپے سے زائد کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں جو کہ پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں 59 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہے۔
زرخیزی پروگرام اور کسانوں کے لیے 1.26 ٹریلین روپے کا فنڈ
ہاؤسنگ سیکٹر کے ساتھ ساتھ، پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید مینوفیکچرنگ اور سائنسی خطوط پر استوار کرنے کے لیے وفاقی حکومت کا کسان دوست روڈ میپ بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اگست 2026 کے وسط تک ملکی تاریخ میں پہلی بار زرعی قرضہ جات کا مجموعی حجم 1.26 ٹریلین (1,260 ارب) روپے کی ریکارڈ سطح پر برقرار رہا ہے۔
حکومت کے مخصوص زرخیزی پروگرام کے تحت اب تک 58,000 سے زائد کسان ڈیجیٹل پورٹل پر لاگ ان کر کے اپنی رجسٹریشن مکمل کرا چکے ہیں۔ بینکوں کی جانب سے کسانوں کے لیے لون کی منظوریوں میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد 16,700 سے زائد کسانوں کے لیے 7.2 ارب روپے سے زائد کی فنانسنگ منظور کی گئی ہے، اور تقریباً 5,000 کسانوں کو نقد رقم فراہم کی جا چکی ہے تاکہ وہ مینوئل طریقوں کو چھوڑ کر جدید بیج اور ٹیکنالوجی خرید سکیں۔
چھوٹے تاجروں (SMEs) کے لیے بغیر ضمانت کے قرضے اور نیا کریڈٹ اسکورنگ ماڈل
ملک کے اندر معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے بھی رسمی فنانسنگ کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا گیا ہے۔ اس وقت ملک بھر کے تقریباً 330,000 چھوٹے تاجر اور ایس ایم ایز مجموعی طور پر 1.05 ٹریلین روپے کے سستے تجارتی قرضوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔
اس نظام کی سب سے بڑی مینوفیکچرنگ تبدیلی یہ ہے کہ پاکستان کے 13 بڑے کمرشل بینکوں میں روایتی کسٹمز اور بھاری ضمانتوں کے مینوئل کلچر کو ختم کرتے ہوئے نیا ڈیجیٹل کریڈٹ اسکورنگ ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس سوفٹ وئیر بیسڈ سسٹم کے تحت اب چھوٹے دکانداروں، مینوفیکچررز اور تاجروں کو بینکوں میں اپنی جائیداد یا سونا گروی رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ان کے کاروبار کے ڈیجیٹل ریکارڈ اور کیش فلو کو دیکھ کر نادرا کے بائیومیٹرک اسکیننگ کے بعد فوری طور پر لون جاری کر دیا جائے گا۔






