آج، 25 اپریل 2026 کی صبح پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پاکستانی عوام کے لیے ایک زوردار فیول شاک لے کر آئی ہے۔سوشل میڈیا اور مارکیٹ کے حلقوں میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ حکومت نے خاموشی سے پیٹرول کی قیمتوں میں 27 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اچانک فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ اپنے اگلے بیل آؤٹ پیکج کی شرائط پوری کرنے کے لیے مئی کی ڈیڈ لائنز کا سامنا کر رہا ہے۔
پاکستانی معیشت اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے جہاں ایک طرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہیں لیکن دوسری طرف مقامی سطح پر پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کی چیخیں نکال رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اضافہ محض اتفاق نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے مئی 2026 کے اہداف کو حاصل کرنے کی ایک کڑی ہے تاکہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کے اہداف کو پورا کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف (IMF) کی مئی ڈیڈ لائن
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان کے لیے مئی 2026 تک کچھ سخت معاشی اہداف مقرر کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم انرجی سیکٹر کے گردشی قرضوں میں کمی اور ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ پر یہ دباؤ تھا کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کو مکمل ختم کرے اور لیوی کی شرح کو زیادہ سے زیادہ حد تک لے جائے۔
(OGRA) کا نوٹیفیکیشن اور عوامی ردِعمل
عام طور پر پیٹرول کی قیمتوں کا اعلان پندرہ روزہ بنیادوں پر پندرہ تاریخ یا مہینے کی آخری تاریخ کو کیا جاتا ہے لیکن اس بار پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے حوالے سے ایک خاموش طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کی ویب سائٹ پر ٹریفک کا غیر معمولی دباؤ دیکھا گیا کیونکہ لوگ نئی قیمتوں کی تصدیق کرنا چاہتے تھے۔
اس اضافے کے براہِ راست اثرات درج ذیل شعبوں پر پڑیں گے:
ٹرانسپورٹیشن: کرایوں میں 10 سے 15 فیصد فوری اضافہ متوقع ہے۔
اشیائے خوردونوش: مال برداری مہنگی ہونے سے سبزیوں اور دالوں کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔
بجلی کے بل: فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) کے ذریعے صارفین کو مزید بوجھ اٹھانا پڑے گا۔
کیا مزید اضافہ متوقع ہے؟
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف شروعات ہے۔ مئی کی ڈیڈ لائنز قریب آتے ہی حکومت کو مزید سخت فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مقامی قیمتوں میں مزید 15 سے 20 روپے کا اضافہ خارج از امکان نہیں ہے۔
تازہ خبریں اور مزید اہم اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar کا رخ کریں۔






