فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے آئی ٹی برآمدات (IT Exports) کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل افرادی قوت کو معیشت کے دائرے میں لانے کے لیے ٹیکس قوانین کو انتہائی آسان اور واضح کر دیا ہے۔ بہت سے پاکستانی فری لانسرز جو Upwork اور Fiverr جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر کام کرتے ہیں اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ چونکہ ان کی کمائی ڈالرز کی شکل میں بیرونِ ملک سے آتی ہے اس لیے انہیں ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی ضرورت نہیں۔
یاد رہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت ہر اس شہری پر سالانہ ٹیکس گوشوارے جمع کروانا قانونی طور پر لازم ہے جس کی سالانہ آمدن 6 لاکھ روپے سے زائد ہو۔ اگر آپ اپنی غیر ملکی آمدن کو وقت پر رپورٹ نہیں کرتے تو ایف بی آر کی طرف سے آڈٹ نوٹسز اور بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان قوانین کے مطابق چل کر آپ انتہائی معمولی ٹیکس کے عوض اپنی ڈالرز کی کمائی کو قانونی طور پر محفوظ کر سکتے ہیں۔
آئی ٹی ایکسپورٹس پر لاگو ہونے والے رعایتی ٹیکس ریٹس
ایف بی آر فری لانسنگ سے ہونے والی آمدنی کو انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) اور آئی ٹی سے منسلک خدمات (ITeS) کی برآمد شمار کرتا ہے۔ ان ڈیجیٹل سروسز کو بڑھانے کے لیے حکومت نے روایتی کاروباری یا تنخواہ دار طبقے کے مقابلے میں بہت ہی کم فکسڈ ٹیکس ریٹس رکھے ہیں:
0.25% فائنل ٹیکس ریٹ (PSEB رجسٹرڈ): اگر آپ نے اپنے فری لانس بزنس کو پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) سے رجسٹر کروایا ہوا ہے تو آپ کا بینک پاکستان آنے والی رقم پر صرف 0.25 فیصد فائنل ٹیکس کاٹے گا جس کے بعد آپ اس رقم پر مزید کسی ٹیکس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔
1.0% فائنل ٹیکس ریٹ (غیر رجسٹرڈ): ایسے فری لانسرز جو پی ایس ای بی (PSEB) سے رجسٹرڈ نہیں ہیں، لیکن ان کی آمدن بینکنگ چینلز کے ذریعے آئی ٹی ایکسپورٹ کوڈ کے تحت پاکستان آ رہی ہے، ان کی رقم پر 1 فیصد فکسڈ ٹیکس کاٹا جاتا ہے۔
لوکل کلائنٹس کی آمدن پر عام ٹیکس: یاد رہے کہ اگر آپ پاکستان کے اندر موجود کلائنٹس کے لیے کام کرتے ہیں تو وہ آمدن ایکسپورٹ شمار نہیں ہوگی۔ اس پر عام سیلریڈ یا بزنس سلیب ریٹس (0% سے لے کر 45% تک) کے مطابق ٹیکس لاگو ہوگا۔
غیر ملکی آمدن کے لیے 80 فیصد کا لازمی اصول
ایف بی آر کی رعایتی ٹیکس اسکیم (0.25% یا 1%) کا فائدہ اٹھانے اور اپنی رقم کو بھاری ٹیکس سلیبس سے بچانے کے لیے فری لانسرز کو 80 فیصد برآمدی اصول پر سختی سے عمل کرنا ہوتا ہے:
آفیشل بینکنگ چینل کا استعمال: آپ کے سالانہ فری لانس ریونیو کا کم از کم 80 فیصد حصہ اسٹیٹ بینک سے منظور شدہ بینکنگ چینلز یا آفیشل ڈیجیٹل پیمنٹ پارٹنرز (جیسے Payoneer، Wise یا ڈائریکٹ بینک وائر ٹرانسفر) کے ذریعے ہر صورت پاکستان کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہونا ضروری ہے۔
بیرونِ ملک اکاؤنٹس میں رقم روکنا: اپنی کمائی کا بڑا حصہ بین الاقوامی ڈیجیٹل والٹس یا بیرونِ ملک اکاؤنٹس میں مستقل روک کر رکھنے کی صورت میں آپ ایف بی آر کی اس رعایتی فکسڈ ٹیکس اسکیم سے محروم ہو سکتے ہیں۔
آئرس (Iris) پورٹل پر آمدن ڈکلیئر کرنے کا مرحلہ وار طریقہ
اپنی فری لانس آمدن کی قانونی رجسٹریشن اور ریٹرن فائلنگ کے لیے آپ کو کسی ایف بی آر کے دفتر جانے کی ضرورت نہیں۔ یہ سارا عمل آن لائن پورٹل پر مکمل کیا جا سکتا ہے:
نیشنل ٹیکس نمبر (NTN) بنائیں: اگر آپ پہلی بار ریٹرن فائل کر رہے ہیں، تو ایف بی آر کے آفیشل آئرس ویب پورٹل (Iris Web Portal) پر جائیں اور اپنے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کے ذریعے اپنا این ٹی این رجسٹر کریں۔
بینک سے پی آر سی (PRC) حاصل کریں: جب بھی ڈالرز Upwork یا Fiverr سے آپ کے پاکستانی بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہوں، اپنے بینک سے Proceed Realization Certificate (PRC) لازمی حاصل کریں۔ یہ سرٹیفکیٹ اس بات کا حتمی اور قانونی ثبوت ہے کہ یہ پیسہ جائز آئی ٹی سروسز کی برآمد سے کمایا گیا ہے۔
فکسڈ/فائنل ٹیکس کے تحت اندراج: آئرس پورٹل پر سالانہ فارم بھرتے وقت اپنی فری لانس آمدن کو سیلری کے خانے میں نہ لکھیں، بلکہ اسے Foreign Source Income / Export of Services کے مخصوص سیکشن میں درج کریں جو فکسڈ/فائنل ٹیکس کے تحت آتی ہے۔
ویلتھ اسٹیٹمنٹ (Wealth Statement) جمع کریں: ریٹرن کے ساتھ اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ بھی لازمی فائل کریں۔ اس میں سال بھر کے دوران خریدے گئے اثاثے (جیسے لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون، ورک سٹیشن یا گاڑی) اور کل بینک بیلنس کی درست تفصیلات فراہم کریں تاکہ آپ کے اثاثوں اور آمدن کا حساب برابر رہے۔
ان فری لانسرز ٹیکس قوانین کے مطابق فائلنگ کرنے سے آپ کا نام ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) میں شامل ہو جاتا ہے، جس کی بدولت آپ فائلر بن جاتے ہیں اور گاڑی، جائیداد کی خریداری یا بینک ٹرانزیکشنز پر نان-فائلر کے مقابلے میں آدھا ٹیکس دیتے ہیں۔






