ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے بیرون ملک سے آن لائن یا ہائبرڈ طریقے سے ڈگریاں حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ اور سمندر پار پاکستانیوں کو خبردار کرتے ہوئے ایک ہنگامی پبلک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ایچ ای سی کے مطابق وہ تمام غیر ملکی یونیورسٹیاں جو روایتی آن کیمپس پروگرامز کے نام پر داخلہ دیتی ہیں لیکن ان کی تعلیم مکمل طور پر آن لائن یا بلینڈڈ لرننگ کے ذریعے کروائی جاتی ہے ان کی اسناد کو اب قبول نہیں کیا جائے گا۔ اگر آپ بیرون ملک کی کسی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا داخلے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ان فارن ڈگری ایکویلنس قوانین کو سمجھنا آپ کے مستقبل کے لیے بے حد ضروری ہے۔
ایچ ای سی فارن ڈگری ایکویلنس قوانین 2026 کی اہم شرائط
نئی تعلیمی پالیسی کے تحت غیر ملکی ڈگریوں کی منظوری اور مساوی حیثیت (Equivalence) کو بین الاقوامی تعلیمی معیارات سے مشروط کر دیا گیا ہے جس کی اہم شرائط درج ذیل ہیں:
فزیکل ریسیڈنسی (Physical Residency) لازمی: اگر کوئی ڈگری آن کیمپس کورس کے طور پر رجسٹرڈ ہے تو طالب علم کے لیے اس ملک میں جا کر فزیکل حاضری اور قیام کی شرط کو پورا کرنا لازمی ہوگا۔ ڈگری کی جانچ پڑتال کے دوران پاسپورٹ پر موجود ایگزٹ اور اینٹری اسٹیمپس کو باقاعدہ وریفائی کیا جائے گا۔
آن لائن اور بلینڈڈ موڈ کے لیے شرط: آن لائن یا مکسڈ لرننگ ڈگریوں کو صرف اس صورت میں مساوی حیثیت دی جائے گی جب وہ مخصوص ڈیجیٹل طریقہ کار متعلقہ ملک کی اپنی ریگولیٹری اتھارٹی یا سرکاری کونسل سے باقاعدہ منظور شدہ اور لائسنس یافتہ ہو۔
ٹرانس نیشنل ایجوکیشن (TNE) کی خلاف ورزی: پاکستان میں غیر ملکی یونیورسٹیوں کے اشتراک سے چلنے والے ایسے مقامی ادارے جو ایچ ای سی کی ٹی این ای پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر منظور شدہ شارٹ کٹ یا آن لائن راستے فراہم کر رہے ہیں ان کا نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے گا۔
غیر ملکی ڈگری کی آن لائن تصدیق اور ایکویلنس کا طریقہ کار
ایچ ای سی کے نئے رولز کے تحت اب شہریوں کو مینوئل یا دفتری چکر کاٹنے کے بجائے مکمل طور پر ڈیجیٹل پورٹل کا استعمال کرنا ہوگا جہاں صرف کاپیاں اپلوڈ کی جاتی ہیں:
پورٹل پر اکاؤنٹ بنانا: سب سے پہلے ایچ ای سی کے آفیشل ای-سروسز ویب پورٹل (e-Services Portal) پر جائیں اور اپنے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) یا نائیکوپ (NICOP) کا استعمال کر کے بائیومیٹرک وریفائیڈ اکاؤنٹ بنائیں۔
تعلیمی ریکارڈ اپلوڈ کرنا: بیچلر ڈگری سے لے کر ماسٹرز یا پی ایچ ڈی تک کے تمام تعلیمی اسناد اور ٹرانسکرپٹس کو ترتیب وار اپلوڈ کریں۔ اگر آپ کی سیکنڈری یا ہائر سیکنڈری تعلیم بھی بیرون ملک کی ہے تو آئی بی سی سی (IBCC) کا ایکویلنس سرٹیفکیٹ ساتھ منسلک کرنا لازمی ہے۔
یونیورسٹی سے براہِ راست تصدیق (Genuineness): عالمی ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے تحت، طالب علم کو اپنی غیر ملکی یونیورسٹی کو ہدایات دینی ہوں گی کہ وہ ڈگری کی تصدیق کا آفیشل ای میل براہِ راست ایچ ای سی کے مخصوص انٹرنیشنل اپریزل میل باکس پر بھیجیں یا ایک سیلڈ اور اسٹیمپیڈ لفافے میں کورئیر کریں۔
فیس کی ادائیگی: جیسے ہی پورٹل آپ کی ابتدائی دستاویزات کو پروسیس کرے گا ایک کنزیومر آئی ڈی جنریٹ ہوگی۔ آپ 1-Link نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی موبائل بینکنگ ایپ، انٹرنیٹ بینکنگ یا اے ٹی ایم سے پروسیسنگ فیس ادا کر سکتے ہیں۔
یونیورسٹی اور پروگرام کی قانونی حیثیت جانچنے کے طریقے
کسی بھی بین الاقوامی پروگرام میں سرمایہ اور وقت لگانے سے پہلے اس کی قانونی حیثیت جاننا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں الحاق کا مسئلہ نہ بنے:
عالمی ڈیٹا بیس کا استعمال: ایچ ای سی طلبہ کو سختی سے ہدایت کرتا ہے کہ وہ کسی بھی غیر ملکی ادارے میں داخلہ لینے سے پہلے ورلڈ ہائر ایجوکیشن ڈیٹا بیس (WHED Portal) پر جا کر اس یونیورسٹی کا ایکریڈیٹیشن اسٹیٹس لازمی چیک کریں کہ آیا وہ اس ملک کی وزارتِ تعلیم سے منظور شدہ ہے یا نہیں۔
پروفیشنل کونسلز کی منظوری: ٹیکنیکل یا باقاعدہ ریگولیٹڈ شعبوں جیسے کہ انجینئرنگ، میڈیسن یا قانون کے لیے غیر ملکی پروگرام کو پاکستان کی متعلقہ کونسلز (جیسے پی ایم ڈی سی، پی ای سی یا پاکستان بار کونسل) کے مقرر کردہ تعلیمی معیار پر بھی پورا اترنا چاہیے۔
ان فارن ڈگری ایکویلنس قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا مقصد پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی ساکھ کو برقرار رکھنا اور طلبہ کو جعلی، غیر معیاری یا غیر منظور شدہ بین الاقوامی آن لائن کورسز سے بچانا ہے تاکہ ان کی ڈگری مقامی مارکیٹ اور سول سروسز میں قابلِ قبول ہو۔






