آج، 23 اپریل 2026 کی صبح شمالی پاکستان میں پیٹرول کی کمی کے حوالے سے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ اٹک ریفائنری لمیٹڈ (ARL) جو خطے میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے نے اپنی پیداوار عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اچانک فیصلے نے اسلام آباد، راولپنڈی اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آنے والے ہفتہ تک پمپ خشک ہو جائیں گے؟
کیا شمالی پاکستان میں پیٹرول کا بحران پیدا ہو جائے گا؟
اٹک ریفائنری پاکستان کی اہم ترین ریفائنریوں میں سے ایک ہے جو مقامی خام تیل (Crude Oil) کو صاف کر کے ڈیزل اور پیٹرول تیار کرتی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ریفائنری کو فرنس آئل کے اسٹوریج کے مسائل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے آپریشنز جاری رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔ اس بندش کا براہِ راست اثر ان علاقوں پر پڑے گا جو اپنی یومیہ ایندھن کی ضرورت کے لیے مکمل طور پر اے آر ایل (ARL) پر منحصر ہیں۔
ریفائنری کی بندش کی وجوہات اور اسٹوریج کا بحران
اٹک ریفائنری لمیٹڈ (ARL) کے ذرائع کے مطابق بجلی گھروں کی جانب سے فرنس آئل کی طلب میں کمی کے باعث ریفائنری کے ٹینک بھر چکے ہیں۔ جب تک اضافی تیل نکالا نہیں جاتا نیا تیل صاف کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اگرچہ ریفائنری انتظامیہ نے اسے ایک تکنیکی ضرورت قرار دیا ہے لیکن مارکیٹ میں اس کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
شمالی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بیشتر پیٹرول پمپس کو یومیہ بنیادوں پر سپلائی دی جاتی ہے۔ ریفائنری کی ایک دن کی بندش کا مطلب ہے کہ سپلائی چین میں لاکھوں لیٹر کا شارٹ فال پیدا ہونا۔
اوگرا (OGRA) کا موقف اور ہفتہ وار ڈیڈ لائن
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا (OGRA) نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ملک میں ایندھن کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔ تاہم لاجسٹک مسائل کی وجہ سے جنوبی پاکستان (کراچی) سے شمالی علاقوں تک تیل پہنچانے میں وقت لگتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اٹک ریفائنری جمعہ تک بحال نہ ہوئی تو ہفتہ، 25 اپریل تک پیٹرول پمپس پر لمبی لائنیں لگ سکتی ہیں۔
حکومت نے وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کو فوری طور پر کراچی سے سپلائی بڑھانے کا حکم دیں۔
شمالی پاکستان کے خریداروں کے لیے انتباہ
اس وقت پینک (Panic) پھیلانے کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ خریدار احتیاط برتیں۔ پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ سپلائی میں تاخیر کی وجہ سے وہ "پہلے آؤ، پہلے پاؤ” کی بنیاد پر ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ اگر آپ راولپنڈی یا گردونواح میں مقیم ہیں، تو بہتر ہے کہ اپنی گاڑیوں کے ٹینک آج ہی بھروا لیں تاکہ ہفتہ وار ممکنہ تعطل سے بچا جا سکے۔
اہم خبروں اور تازہ اپڈیٹس سے باخبر رہنے کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔






