آج صبح 17 اپریل 2026 کو ایک اہم سیاسی پیش رفت میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی کے لیے باضابطہ طور پر فوری مطالبہ کر دیا ہے۔ پشاور میں ایک اعلیٰ سطح کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قدم وسیع تر قومی مفاد اور پاکستان میں سیاسی و معاشی استحکام کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
پاکستان کا سیاسی درجہ حرارت آج اس وقت ایک نئی بلندی پر پہنچ گیا جب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے سابق وزیر اعظم کی مسلسل حراست کے حوالے سے ایک سخت مگر مفاہمانہ بیان جاری کیا۔ آفریدی نے دلیل دی کہ ایک ایسے لیڈر کی طویل قید، جو ووٹرز کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرتا ہے قومی تقسیم کو گہرا کر رہی ہے اور عالمی سطح پر ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
عمران خان کی رہائی اور وسیع تر قومی مفاد کی اہمیت
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے اندرونی محاذ آرائی اور بیرونی معاشی دباؤ دونوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب تک ملک کی مقبول ترین سیاسی شخصیت سلاخوں کے پیچھے ہے حقیقی قومی مفاہمت ممکن نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق عمران خان کی رہائی ایک پل کا کردار ادا کر سکتی ہے جس سے نہ صرف سیاسی ماحول کی گرمی کم ہوگی بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک اہم قومی ڈائیلاگ کے لیے میز پر آنے کا موقع ملے گا۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ سیاسی مسائل کا حل قانونی تعطل کے بجائے سیاسی بات چیت میں ہی چھپا ہے۔
وفاقی اور صوبائی تعلقات پر اثرات
یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بجٹ کی تقسیم اور سیکیورٹی خدشات پر خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ اس مطالبے کو قومی مفاد کے طور پر پیش کر کے، سہیل آفریدی یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اگر وفاقی حکام سیاسی قیدیوں کے معاملے پر لچک دکھائیں تو کے پی حکومت وسیع تر حکومتی امور پر تعاون کے لیے تیار ہے۔
حکومتِ خیبر پختونخوا نے اکثر یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وفاق میں سیاسی عدم استحکام براہِ راست صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کو متاثر کرتا ہے، جس سے ترقیاتی کاموں اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
قانونی پہلو اور مستقبل کا لائحہ عمل
اگرچہ وزیر اعلیٰ کا یہ مطالبہ سیاسی نوعیت کا ہے، لیکن اس نے عدلیہ اور سپریم کورٹ آف پاکستان پر نئے سرے سے دباؤ ڈال دیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں انتظامیہ مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتی ہے، وہیں حتمی فیصلہ عدالتوں کے پاس ہے جہاں کئی کیسز ابھی زیرِ التوا ہیں۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی اجتماعی بھلائی کو ترجیح دے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی جذبات کو طویل عرصے تک نظر انداز کرنے سے نوجوانوں میں مزید مایوسی پھیل سکتی ہے جو آبادی کا اکثریتی حصہ ہیں۔
مزید نئی خبروں اور تازہ اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں






