پاکستان کے مالیاتی ریگولیٹری نظام، کارپوریٹ سیکٹر اور انشورنس انڈسٹری میں شفافیت لانے کے لیے ایک انتہائی اہم جیو اکنامک بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے باقاعدہ طور پر انشورنس بانڈز اور کاروباری معاہدوں کو فول پروف بنانے کے لیے انشورنس گارنٹی نئے قوانین کے نفاذ کی تجویز پیش کر دی ہے۔
آج، 16 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والے آفیشل کونسل مینوئل کے مطابق ایس ای سی پی نے مارکیٹ کے اسٹیک ہولڈرز، ٹھیکیداروں اور سرکاری اداروں سے ایک تفصیلی مشاورتی پیپر پر لائیو آراء طلب کی ہیں۔ ان مجوزہ اصلاحات کا بنیادی مقصد کاروباری معاہدوں میں پائی جانے والی مینوئل ابہام، انشورنس کلیمز کی ادائیگیوں میں بلاجواز دفتری تاخیر، اور طویل عرصے تک چلنے والی عدالتی چارہ جوئی کے لوپ ہولز کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے۔
بِڈ بانڈز اور کسٹمز گارنٹی کے لیے سخت مالیاتی معیار کا نفاذ
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کی جانب سے جاری کردہ اسمارٹ گائیڈ لائنز کے مطابق، یہ نیا ریگولیٹری فریم ورک سرکاری محکموں، پراجیکٹ مالکان اور تجارتی اداروں کو مکمل مالیاتی تحفظ فراہم کرے گا۔ اگر کوئی ٹھیکیدار یا بزنس مینیجر اپنے معاہدے کی شرائط پوری کرنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ قوانین انشورنس کمپنی کو فوری ادائیگی کا پابند بنائیں گے۔
اس نئے سوفٹ وئیر بیسڈ فائنینشل فریم ورک کے تحت درج ذیل تین بنیادی پیرامیٹرز وضع کیے گئے ہیں:
مشروط اور غیر مشروط معاہدوں کی اسکیننگ: انشورنس کمپنیوں کی طرف سے جاری ہونے والے بِڈ بانڈز ، پرفارمنس بانڈز، موبی لائزیشن ایڈوانس گارنٹی اور کسٹمز گارنٹی کے قوانین کو بالکل واضح اور پیپر لیس کیا جائے گا۔
رسک بیسڈ پرائسنگ : کمپنیوں کو کسٹمرز کے ماضی کے فنانشل انڈیکس اور رسک پروفائل کا سائنسی آڈٹ کرنے کے بعد ہی انشورنس بانڈز جاری کرنے کی اجازت ہوگی۔
سخت سالوینسی شرائط: انشورنس فرمز کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ کسی بھی ناگہانی معاشی جھٹکے سے نمٹنے کے لیے اپنے پاس مضبوط مالیاتی فنڈز اور مناسب ری انشورنس کا کلاؤڈ ریکارڈ برقرار رکھیں۔
شوریٹی شپ انشورنس کو مخصوص کلاس میں شامل کرنے کا فیصلہ
انفراسٹرکچر مینیجرز اور کارپوریٹ مینیجرز کے مالیاتی ڈیش بورڈ کو محفوظ بنانے کے لیے ایس ای سی پی نے ایک بڑا سٹرکچرل فیصلہ تجویز کیا ہے۔ کمیشن نے کریڈٹ اینڈ شوریٹی شپ انشورنس کو انشورنس بزنس کی ایک مخصوص اور محدود کلاس کے طور پر درجہ بند کرنے کی سفارش کی ہے۔
اس سخت سیکیورٹی مینوفیکچرنگ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مارکیٹ میں موجود ہر چھوٹی انشورنس کمپنی کو اتنے بڑے مالیاتی رسک لینے کی مینوئل اجازت نہ ہو۔ اس محدود کلاس کے نفاذ کے بعد ایس ای سی پی کی ٹیمیں لائیو سوفٹ ویئر آڈٹ کے ذریعے صرف انہی کمپنیوں کو یہ بزنس کرنے کا پورٹل فراہم کریں گی جو مالیاتی طور پر 100 فیصد مستحکم، کیش لیس ریوینیو کی حامل اور بڑے کلیمز سیٹل کرنے کی سائنسی صلاحیت رکھتی ہوں گی۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے واضح کیا ہے کہ یہ اصلاحات انشورنس کمپنیوں کی مالیاتی صلاحیت کو بڑھا کر انشورنس سے حمایت یافتہ بانڈز پر عوامی اور کارپوریٹ کسٹمرز کے اعتماد کو ریکارڈ حد تک بلند کریں گی۔






