خیبر پختونخوا بھر کے اسکولوں، اساتذہ، طلبہ اور والدین کے لیے سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر تیزی سے گردش کرنے والی ایک ہنگامی خبر پر صوبائی حکومت کی جانب سے حتمی اور آفیشل بیانیہ سامنے آیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے باقاعدہ پریس ریلیز کے ذریعے واضح کیا ہے کہ صوبے کے تعلیمی اداروں میں جمعہ اور ہفتہ کو دو ہفتہ وار چھٹیاں دینے کا نوٹیفکیشن سراسر جعلی اور من گھڑت ہے۔
اس اسمارٹ اور بروقت کارروائی کا بنیادی ہدف خیبر پختونخوا اسکول ہفتہ وار تعطیلات کے حوالے سے پھیلی ہوئی شدید بے یقینی کا خاتمہ کرنا ہے جس نے صوبے کے پورے تعلیمی انفراسٹرکچر، نجی اسکولوں کے مینیجرز اور عام کسٹمرز (والدین) کو شدید شکوک و شبہات میں مبتلا کر رکھا تھا۔ محکمہ تعلیم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ اس طرح کی ڈیجیٹل بلیک مارکیٹنگ اور افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے معمول کے مطابق اسکول حاضری کے مینوئل کو فالو کریں۔
وائرل ہونے والے جعلی نوٹیفکیشن کے من گھڑت دعوے
سوشل میڈیا کے مختلف کلاؤڈ پلیٹ فارمز (جیسے واٹس ایپ اور فیس بک) پر وائرل ہونے والے اس جعلی دستاویزی فارمیٹ میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایندھن کی بچت کے تحت صوبے کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کو دو ماہ کے لیے ہر جمعہ اور ہفتہ کو بند رکھا جائے گا۔
اس فیک سافٹ ویئر ڈرافٹ کے اندر درج ذیل تین لرزہ خیز دعوے مینوفیکچر کیے گئے تھے:
دو ماہ کی بندش کا کوٹہ: نوٹیفکیشن میں دعویٰ تھا کہ پٹرولیم کی قیمتوں کے مالیاتی دباؤ کو کم کرنے کے لیے اسکولوں کا ہفتہ وار شیڈول مستقل تبدیل کیا جا رہا ہے۔
آن لائن ہوم اسکولنگ کا آپشن: اس فیک مینوئل میں یہ مضحکہ خیز اجازت بھی شامل کی گئی تھی کہ اسکولوں کے سربراہان جمعہ اور ہفتہ کو گھر بیٹھے آن لائن پڑھائی یا ہوم اسکولنگ کا سوفٹ وئیر سسٹم نافذ کر سکتے ہیں۔
جعلی سرکاری مہر کا استعمال: پبلک کو گمراہ کرنے کے لیے اس پیپر پر محکمہ تعلیم کی آٹو جنریٹڈ جعلی مہر اور دستخط بھی مینوفیکچر کیے گئے تھے۔
محکمہ تعلیم کا سخت ریگولیٹری ایکشن اور مسافروں و والدین کے لیے گائیڈ لائنز
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے مینیجرز نے اس کلوڈ پروپیگنڈا کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کا اسکولوں کے ورکنگ ڈیز کو کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ریگولیٹری فریم ورک زیرِ غور ہے۔
حکومت نے اس ڈیجیٹل وائرس اور افواہ سازی کا سراغ لگانے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سائبر کرائم کوریڈور سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ جعلی نوٹیفکیشن بنانے والے کمپیوٹر نیٹ ورکس کا منٹوں میں سراغ لگا کر ان کے خلاف سخت ترین تعزیراتی کارروائی کی جا سکے۔ والدین اور اساتذہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ناگہانی الجھن سے بچنے کے لیے صرف اور صرف محکمے کے آفیشل پورٹل پر لائیو اپڈیٹس کو ہی سچ تسلیم کریں۔






