خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے صوبے کے مختلف اضلاع میں حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام (EPI) کو مضبوط بنانے کے لیے 830 سے زائد ویکسینیٹرز کی بھرتیوں کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ بھرتیاں مالی سال 2025-26 کے لیے عارضی کنٹریکٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔
بھرتیوں کی تفصیلات اور مراعات
صوبائی حکومت نے اس بھرتی مہم کے لیے 253.16 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ منتخب ہونے والے امیدواروں کو ماہانہ 40,000 روپے تنخواہ دی جائے گی۔ یہ بھرتیاں "سول سرونٹس انیشل اپائنٹمنٹ رولز 2026” کے تحت کی جائیں گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ صحت نے تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (DHOs) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں خالی اسامیوں کی فہرست کے مطابق بھرتی کا عمل جلد از جلد مکمل کریں۔
ضلع وار اسامیاں اور پولیو کی صورتحال
خیبر پختونخوا میں پولیو کے حالیہ کیسز خاص طور پر بنوں اور شمالی وزیرستان میں رپورٹ ہونے کے بعد ان بھرتیوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ رواں ماہ بنوں کے علاقے جانی خیل اور شمالی وزیرستان کے علاقے گڑیوم سے پولیو کیسز سامنے آئے ہیں، جس سے ملک میں کل کیسز کی تعداد تین ہو گئی ہے۔
ان نوکریوں کا مقصد ان ہائی رسک علاقوں میں ویکسینیشن کی کوریج کو بہتر بنانا ہے جہاں سیکیورٹی یا افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے مہمات متاثر ہوتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ویکسینیٹر کی نوکریاں ان نوجوانوں کے لیے ایک بہترین موقع ہے جو صحت کے شعبے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
درخواست دینے کا طریقہ (How to Apply)
امیدواروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ درج ذیل مراحل پر عمل کریں:
اشتہار کا معائنہ: اپنے متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) کے دفتر سے یا مقامی اخبارات میں شائع ہونے والے باضابطہ اشتہار کو دیکھیں۔
درخواست فارم: درخواست فارم محکمہ صحت کی ویب سائٹ یا متعلقہ DHO آفس سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
دستاویزات: تعلیمی اسناد، ڈومیسائل، شناختی کارڈ کی کاپی اور پاسپورٹ سائز تصاویر درخواست کے ساتھ منسلک کریں۔
اہلیت: عام طور پر ان اسامیوں کے لیے میٹرک (سائنس) اور متعلقہ فیلڈ میں ڈپلومہ یا تجربہ رکھنے والے مقامی امیدواروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔
مزید سرکاری معلومات اور اپ ڈیٹس کے لیے آپ محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کی تفصیلات کے لیے EPI پاکستان کے وسائل سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
حکومت کا یہ اقدام نہ صرف بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرے گا بلکہ صوبے سے پولیو اور دیگر بیماریوں کے خاتمے میں بھی کلیدی ثابت ہوگا۔ امیدواروں کو چاہیے کہ وہ آخری تاریخ کا انتظار کیے بغیر اپنی درخواستیں جمع کروائیں۔






