لاہور کے لاکھوں روزمرہ مسافروں کے لیے ایک انتہائی تشویشناک خبر سامنے آئی ہے کیونکہ صوبائی دارالحکومت کی سب سے بڑی اور سستی پبلک ٹرانسپورٹ، یعنی لاہور میٹرو بس سروس کو فنڈز کی عدم فراہمی اور ایندھن کے شدید مالی بحران کے باعث بند کیے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ میٹرو بسوں کا بیڑا چلانے والے نجی آپریٹر ‘ویڈا ٹرانزٹ سلوشنز’ (VEDA) نے پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (PMA) کو ایک حتمی اور آفیشل نوٹس بھیج دیا ہے۔ اس نوٹس کے مطابق اگر ایندھن کی فراہمی کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو لاہور میٹرو بس سروس معطلی کا باقاعدہ آغاز 11 اگست سے ہو جائے گا، جس سے پورے شہر کا ٹرانسپورٹ نظام شدید متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
نجی آپریٹر اور پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے درمیان تنازع کی وجوہات
میٹرو بس سروس کو بند کرنے کے اچانک فیصلے کے پیچھے طویل عرصے سے جاری مالیاتی اور انتظامی تنازعات ہیں۔ نجی کمپنی (VEDA) کی جانب سے جاری کردہ حتمی نوٹس میں درج ذیل وجوہات بیان کی گئی ہیں:
مالی وسائل کا خاتمہ: کمپنی کا کہنا ہے کہ ڈیزل اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ان کے تمام مالیاتی ذخائر مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور اب وہ اپنے فنڈز سے آپریشنز جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی: آپریٹر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 29 جولائی کو عدالت نے پی ایم اے (PMA) کو اپنے ذرائع سے بلا تعطل ایندھن فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
ری ایمبرسمنٹ فارمولا کا مسئلہ: کمپنی کے مطابق حکومت کا ایندھن کی قیمتوں کی واپسی (Reimbursement) کا موجودہ فارمولا مارکیٹ کی حقیقی قیمتوں سے مطابقت نہیں رکھتا جس کی وجہ سے کمپنی کو ہر ماہ لاکھوں روپے کا خسارہ اٹھانا پڑ رہا تھا۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا ردِعمل اور مسافروں کے لیے متبادل انتظامات
دوسری جانب پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (PMA) کے سینیئر حکام نے نجی کمپنی کے اس اقدام کو حکومت پر دباؤ ڈالنے اور بلیک میل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ پی ایم اے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے عدالتی فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے اور معاہدے کے تحت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ثالثی (Arbitration) کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
شہریوں کی سہولت کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ وہ سروس کو مکمل طور پر بند نہیں ہونے دیں گے۔ اگر نجی کمپنی 11 اگست کو اپنی بسیں کھڑی کر دیتی ہے تو پی ایم اے نے نظام کو چلاتے رہنے کے لیے موجودہ سسٹم سے باہر سے کچھ متبادل بسوں کا انتظام کر لیا ہے۔ تاہم حکام نے اعتراف کیا ہے کہ متبادل بسوں کے باوجود 11 اگست سے مسافروں کو شدید رش اور سفری تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
روزمرہ مسافروں پر اس ممکنہ شٹ ڈاؤن کے اثرات
لاہور میٹرو بس سروس شہر کی معاشی لائف لائن مانی جاتی ہے جس کے ذریعے روزانہ تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ سے زائد طلبہ، سرکاری و نجی ملازمین اور مزدور طبقہ انتہائی سستے کرائے میں شاہدرہ سے گجو متہ تک سفر کرتے ہیں۔ اگر 11 اگست سے یہ سروس معطل ہوتی ہے تو شہریوں کو چنگچی رکشوں، ویگنوں اور مہنگی بائیک رائیڈنگ ایپس کا سہارا لینا پڑے گا جس سے ان کے ماہانہ سفری اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ شہری انتظامیہ اور مسافروں کی نظریں اب پنجاب حکومت اور آپریٹر کے مابین ہونے والے حتمی مذاکرات پر ٹکی ہیں۔






