ہر سال 9 اگست کو دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام قدیم مقامی لوگوں کا عالمی دن (International Day of the World’s Indigenous Peoples) منایا جاتا ہے۔ اس سال کے عالمی دن کے موقع پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے اپنے ایک باقاعدہ پیغام میں پاکستان میں آباد تمام منفرد قدیم قبائل اور مقامی برادریوں کے حقوق، ثقافت، منفرد روایات اور ان کی فلاح و بہبود کے تحفظ کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم ان مقامی لوگوں کی لازوال خدمات کا اعتراف کریں جنہوں نے نسل در نسل اپنے قدیم علم، طرزِ زندگی اور فطری روایات کو کامیابی سے محفوظ رکھا ہے۔
پاکستان کا ثقافتی گلدستہ: کالاش سے لے کر تھر اور چولستان تک
پاکستان کا جغرافیہ اور ثقافت ایک خوبصورت گلدستے کی مانند ہے جس میں مختلف رنگوں کے قدیم قبائل آباد ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں پاکستان کی اس بھرپور ثقافتی رنگارنگی کو نمایاں کرتے ہوئے درج ذیل اہم برادریوں اور علاقوں کا ذکر کیا:
وادی کالاش کے قبائل: چترال میں آباد کالاش برادری اپنی منفرد مذہبی، لسانی اور ثقافتی روایات کے باعث دنیا بھر میں جانی جاتی ہے اور یہ پاکستان کا ایک انمول اثاثہ ہے۔
شمالی پہاڑی سلسلے اور گلگت بلتستان: گلگت، بلتستان اور ہنزہ کے پہاڑی علاقوں میں آباد قدیم لوگ جو اپنے سخت ماحول کے باوجود اپنی قدیم زبانوں اور طرزِ زندگی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
تھر اور چولستان کے صحرائی قبائل: سندھ کے صحرائے تھر اور پنجاب کے صحرائے چولستان میں صدیوں سے آباد وہ خانہ بدوش اور کسان برادریاں جو شدید موسم میں بھی اپنی روایتی موسیقی، فنون اور اقدار کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
گوادر اور ساحلی برادریاں: بلوچستان کے ساحلی علاقوں بالخصوص گوادر کے قدیم ماہی گیر، جن کی اپنی ایک الگ تاریخ اور منفرد تمدن ہے۔
President @AAliZardari has reaffirmed Pakistan's commitment to protecting the rights, cultures, traditions and well-being of indigenous peoples@PresOfPakistan @ForeignOfficePk #IntlDayoftheWorldsIndigenousPeoples #RadioPakistan #News https://t.co/uiUE5Z7qcQ pic.twitter.com/mGS8RiwQFt
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 9, 2026
قدیم روایات اور علم کا اعتراف کیوں ضروری ہے؟
صدرِ پاکستان نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ ان مقامی اور قدیم قبائل کے پاس فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر رہنے کا ایک وسیع روایتی علم موجود ہے۔ چونکہ یہ لوگ صدیوں سے پہاڑوں، جنگلات اور صحراؤں میں رہ رہے ہیں اس لیے یہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے، جنگلی حیات کے تحفظ اور پائیدار زراعت کے طریقوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کا یہ علم جدید دنیا کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ حکومتِ پاکستان ان کی آوازوں کو عالمی اور قومی سطح پر سننے اور ان کے اس روایتی ورثے کا احترام کرنے کے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔
مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ اور حکومت کے آئینی فرائض
پاکستان کے آئین کے مطابق ملک میں بسنے والے تمام شہریوں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی نسل، زبان یا قدیم قبیلے سے ہو کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ صدر زرداری نے اس عزم کو دہرایا کہ حکومتِ پاکستان ان پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی برادریوں کو ترقی کے یکساں مواقع اور بنیادی خدمات فراہم کرے گی۔ ان اقدامات میں درج ذیل دائرہ کار شامل ہیں:
بنیادی خدمات تک رسائی: تھر، چولستان اور شمالی علاقہ جات کے مقامی لوگوں کو صحت، تعلیم اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا۔
وقار اور سلامتی کی ضمانت: ان کی آبائی زمینوں، جنگلات اور قدرتی وسائل کا تحفظ کرنا تاکہ وہ کسی خوف یا معاشی دباؤ کے بغیر اپنی زندگی گزار سکیں۔
لسانی اور ثقافتی تحفظ: مقامی اور قدیم زبانوں کو مٹنے سے بچانے کے لیے تعلیمی نصاب اور ثقافتی پروگرامز کا انعقاد






