کچھ سال پہلے تک جب نوجوانوں کے ہاتھوں میں ویپنگ کے نقصانات اور کینسر کے خدشات سے لاعلمی کے باعث دھوئیں کے بڑے بڑے بادل اڑاتی ہوئی رنگ برنگی اور جدید ڈیزائن کی برقی ڈیوائسز نظر آنا شروع ہوئیں تو اسے ایک انقلابی ایجاد سمجھا گیا۔ اسے ویپ یا ای سگریٹ کا نام دیا گیا اور یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ یہ سگریٹ نوشی چھوڑنے کا سب سے بہترین اور بے ضرر طریقہ ہے۔ اشتہارات اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے اس کے پھلوں، چاکلیٹ اور پودینے جیسے دلکش ذائقوں کو اس طرح پیش کیا جیسے یہ کوئی نقصان دہ چیز نہیں بلکہ محض ایک جدید طرزِ زندگی کا حصہ ہے۔ لیکن حال ہی میں سامنے آنے والی ایک مایہ ناز بین الاقوامی طبی تحقیق نے اس خوبصورت سراب کو چکنا چور کر دیا ہے۔ سائنسی شواہد نے یہ ثابت کیا ہے کہ ویپنگ منہ اور پھیپھڑوں کے اندرونی خلیات میں کینسر سے وابستہ ابتدائی جینیاتی اور ساختی تبدیلیاں پیدا کر رہی ہے۔
یہ تحقیق ہمارے لیے ایک سائرن کی مانند ہے جو یہ باور کرواتی ہے کہ ہم جسے ایک بے ضرر دھواں سمجھ کر پھیپھڑوں میں اتار رہے ہیں وہ دراصل کینسر جیسے موذی مرض کا بچھا ہوا ابتدائی جال ہے۔
نئی طبی تحقیق کا بنیادی نچوڑ اور سائنسی حقائق
بین الاقوامی طبی جریدوں میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں جدید مالیکیولر اور جینیاتی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ای سگریٹ پینے والے افراد کے منہ کے اندرونی حصوں اور پھیپھڑوں کے خلیات کا گہرا مطالعہ کیا گیا۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ جو لوگ باقاعدگی سے ویپنگ کرتے ہیں ان کے خلیات کے ڈی این اے (DNA) میں وہی مخصوص تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو ایک روایتی سگریٹ پینے والے شخص کے جسم میں کینسر کی شروعات سے پہلے دیکھی جاتی ہیں۔
خلیات کے اندر ہونے والی اس تبدیلی کو طبی زبان میں ایپی جینیٹک الٹریشن کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ویپنگ کرنے سے فوری طور پر خلیات مرتے نہیں ہیں، لیکن ان کے کام کرنے کا قدرتی طریقہ کار بدل جاتا ہے۔ خلیات کا یہ بدلا ہوا رویہ مستقبل میں انہیں کینسر کی رسولیوں میں تبدیل کرنے کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں منہ کے حصوں اور پھیپھڑوں کے ان راستوں میں پائی گئیں جہاں سے ویپ کا کیمیکل آمیز دھواں براہِ راست گزرتا ہے۔
ذائقوں کے پیچھے چھپا کیمیکلز کا مہلک کھیل
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ویپ میں صرف پانی کا دھواں اور ہلکی سی نیکوٹین ہوتی ہے اس لیے یہ نقصان دہ نہیں ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک مفروضہ ہے۔ ویپ کے اندر موجود مائع کو جب برقی کوائل کے ذریعے گرم کیا جاتا ہے تو وہ صرف دھواں نہیں بنتا بلکہ ایک پیچیدہ کیمیکل ایروسول میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس مائع میں درج ذیل انتہائی خطرناک اجزاء شامل ہوتے ہیں:
پروپیلین گلائیکول اور گلیسرین: یہ وہ کیمیکلز ہیں جو دھواں پیدا کرنے کے لیے بنیادی سالوینٹ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ جب انہیں تیز درجہ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے، تو یہ فارملڈیہائڈ (Formaldehyde) جیسے کینسر پیدا کرنے والے زہر میں بدل جاتے ہیں۔
مصنوعی فلیورز: پودینے، آم، اسٹرابیری اور دیگر ذائقوں کو بنانے کے لیے جو کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں وہ کھانے کے لیے تو شاید محفوظ ہوں، لیکن پھیپھڑوں کے اندر سانس کے ذریعے لے جانے کے لیے شدید نقصان دہ ہیں۔ مثال کے طور پر ‘ڈائی ایسیٹائل’ نامی کیمیکل پھیپھڑوں کی نالیوں کو مستقل طور پر بند کرنے والی بیماری ‘پاپ کارن لنگ’ کا باعث بنتا ہے۔
بھاری دھاتیں : ویپنگ ڈیوائس کے اندر موجود گرم ہونے والی دھاتی کوائل سے نکلنے والے باریک ذرات جیسے کہ نکل، کیڈمیم، اور لیڈ (سیسہ) دھوئیں کے ساتھ براہِ راست کینسر کی شکل میں پھیپھڑوں کی گہرائیوں میں جا کر جم جاتے ہیں۔
نوجوان نسل: اس پوشیدہ وباء کا سب سے آسان ہدف
اگر ہم اپنے اردگرد خصوصاً پاکستان کے بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں اور کیفے کلچر پر نظر دوڑائیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ برقی سگریٹ ہمارے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ میں ایک وباء کی طرح پھیل چکی ہے۔ مینوفیکچررز نے جان بوجھ کر ان ڈیوائسز کو یو ایس بی (USB) ڈرائیو یا فینسی گجٹس جیسا ڈیزائن دیا ہے تاکہ نوجوان اسے فیشن کی علامت سمجھیں اور والدین یا اساتذہ کی نظروں سے بھی چھپا سکیں گے۔
اس وقت ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ روایتی سگریٹ پینے والے کو تو حقارت یا تشویش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، لیکن ہاتھ میں ویپ پکڑ کر دھواں اڑانے والے نوجوان کو ‘کول’ (Cool) یا جدید سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ سماجی قبولیت ہے جو ہماری نوجوان نسل کو آہستہ آہستہ موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔ نیکوٹین کی لت اتنی شدید ہوتی ہے کہ اس کی جکڑ میں آنے کے بعد نوجوانوں کے دماغی افعال، توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور موڈ میں شدید تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
عالمی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات اور سدِباب
اس نئی تحقیق کے سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کے طبی ماہرین اور عالمی ادارہ صحت (WHO) نے ای سگریٹ پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ تیز کر دیا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک، بشمول بھارت، برازیل اور کئی یورپی ممالک نے پہلے ہی ویپنگ مصنوعات کی فروخت اور درآمد پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں فلیورڈ ویپس پر پابندیاں لگانے کے قوانین منظور کیے جا رہے ہیں تاکہ بچوں کو اس کی کشش سے دور رکھا جا سکے۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں تاحال ویپنگ کی ریگولیشن کے حوالے سے کوئی سخت قوانین موجود نہیں ہیں۔ یہ مصنوعات ہر چھوٹی بڑی دکان، آن لائن اسٹورز اور شاپنگ مالز میں بغیر کسی عمر کی تصدیق کے کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومتِ پاکستان اور وزارتِ صحت اس نئی طبی تحقیق کی روشنی میں فوری طور پر ایک جامع پالیسی وضع کریں۔
اس نئی طبی تحقیق نے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ ویپنگ سگریٹ کا کوئی محفوظ متبادل نہیں ہے بلکہ یہ کینسر کے سفر کا ایک مختلف راستہ ہے۔ منہ اور پھیپھڑوں کے خلیات میں ہونے والی یہ ابتدائی تبدیلیاں اس بات کی گواہی ہیں کہ جسم کے اندر خاموشی سے ایک لاوا پک رہا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
ہمیں بطور معاشرہ، والدین اور اساتذہ اپنی ذمہ داریوں کو پہچاننا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ دھوئیں کے ان خوشبودار بادلوں کے پیچھے کینسر کا ایک بھیانک چہرہ چھپا ہوا ہے۔ فیشن اور جدت کے نام پر اپنی صحت کا سودا کرنا سراسر نادانی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کی اشتہار بازی پر فوری پابندی لگائے اور تعلیمی اداروں کے اردگرد اس کی فروخت کو جرم قرار دے۔ یاد رکھیے، صحت مند پھیپھڑے ہی ایک صحت مند قوم کی ضمانت ہوتے ہیں۔






