پاکستان کے پاور سیکٹر میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت نجکاری کی کابینہ کمیٹی (CCoP) نے 15 مئی 2026 کو اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (GEPCO) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO) کی نجکاری کے اسٹرکچر کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس فیصلے کے تحت حکومت نے ان تینوں منافع بخش ڈسکوز (DISCOs) کے 51 سے 100 فیصد حصص (Shares) نجی شعبے کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر آپ ان علاقوں کے رہائشی ہیں تو یہ فیصلہ آپ کی جیب اور روزگار پر براہ راست اثر انداز ہوگا۔ آئیے اس اہم پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
نجکاری کا ماڈل: 100 فیصد کنٹرول نجی ہاتھوں میں؟
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صرف انتظامی کنٹرول (Management Control) ہی نہیں بلکہ کمپنی کی ملکیت بھی نجی شعبے کو دی جائے گی۔
حصص کی فروخت: حکومت 51 فیصد سے لے کر 100 فیصد تک شیئرز فروخت کرے گی جس کا مطلب ہے کہ حکومت کا ان کمپنیوں پر کنٹرول عملی طور پر ختم ہو جائے گا۔
انتظامی اختیارات: خریدار کمپنی کو مکمل انتظامی اختیارات حاصل ہوں گے یعنی بلنگ، ریکوری، کنکشنز اور ملازمین کے حوالے سے فیصلے نجی کمپنی خود کرے گی۔
مقصد: اس کا بنیادی مقصد گردشی قرضوں (Circular Debt) کا خاتمہ اور بجلی کے شعبے میں پرائیویٹ سیکٹر ایفیشینسی لانا ہے۔
کیا بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ ہوگا؟
عوام کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا نجکاری کے بعد بجلی مزید مہنگی ہو جائے گی؟ ماہرین اور حالیہ رپورٹس کی روشنی میں اس کے چند اہم پہلو یہ ہیں:
یونیفارم ٹیرف کا مسئلہ: حکومت چاہتی ہے کہ ملک بھر میں بجلی کا ریٹ ایک جیسا رہے (Uniform Tariff) لیکن سرمایہ کاروں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سرمایہ کار ڈالر انڈیکسڈ ٹیرف کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ڈالر مہنگا ہونے پر بجلی خود بخود مہنگی ہو جائے گی۔
سبسڈی کا خاتمہ: نجی کمپنیاں منافع کے لیے کام کرتی ہیں۔ نجکاری کے بعد حکومت کی جانب سے دی جانے والی کراس سبسڈی ختم ہو سکتی ہے جس سے 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
سخت ریکوری مہم: نجی کمپنیاں بلوں کی وصولی کے لیے سخت اقدامات کریں گی۔ بجلی چوری یا بل ادا نہ کرنے کی صورت میں کنکشن کاٹنا اور بھاری جرمانے عائد کرنا معمول بن سکتا ہے۔
فوری طور پر شاید بہت بڑا جمپ نہ آئے لیکن طویل مدت میں سبسڈیز کے خاتمے اور ڈالر کے ساتھ ریٹ منسلک ہونے سے بلوں میں 20 سے 30 فیصد تک اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
Deputy Prime Minister / Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar chaired a meeting of the Cabinet Committee on Privatisation to review key power sector matters.
— Office of the Deputy Prime Minister (@DPM_PK) May 15, 2026
The committee considered the privatisation of three DISCOs — IESCO (Islamabad), GEPCO (Gujranwala) and FESCO… pic.twitter.com/0UAkWIOono
ملازمتوں پر خطرے کی گھنٹی؟ (Jobs Market Crash)
آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کی نجکاری کا سب سے زیادہ اثر وہاں کام کرنے والے سرکاری ملازمین پر پڑ سکتا ہے۔
رائٹ سائزنگ (Rightsizing): نجی کمپنیاں اخراجات کم کرنے کے لیے اکثر فالتوعملے کو فارغ کرتی ہیں۔ نجکاری کے بعد محکموں میں ری اسٹرکچرنگ ہوگی، جس سے ہزاروں ملازمین کی نوکریاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
مراعات کا خاتمہ: سرکاری ملازمین کو ملنے والی مفت بجلی (Free Electricity Units) اور دیگر مراعات پر نجی انتظامیہ کٹ لگا سکتی ہے۔
نئی بھرتیاں: دوسری جانب نجی کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی لائیں گی جس سے ہنر مند افراد (Skilled Labor) اور ٹیکنیکل ایکسپرٹس کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
حکومت یہ قدم کیوں اٹھا رہی ہے؟
یہ فیصلہ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ اس کے پیچھے آئی ایم ایف (IMF) کی سخت شرائط اور ملکی معیشت کی مجبوری کارفرما ہے۔
گردشی قرضہ: پاکستان کا پاور سیکٹر اربوں روپے کے خسارے کا شکار ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ نجی شعبہ بجلی چوری روک کر اور لائن لاسز کم کر کے اس نقصان کو ختم کر سکتا ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام: عالمی مالیاتی فنڈ نے قرض کی قسطیں جاری کرنے کے لیے سرکاری اداروں کی نجکاری کی شرط عائد کر رکھی ہے۔
کارکردگی میں بہتری: حکومت کے مطابق نجی شعبہ جدید میٹرنگ اور بہتر سروس ڈیلیوری کے ذریعے صارفین کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلا سکتا ہے
آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کی نجکاری ایک دو دھاری تلوار ہے۔ جہاں اس سے بجلی کی سپلائی اور سروس کا معیار بہتر ہونے کی امید ہے وہیں مہنگی بجلی اور بے روزگاری کا خدشہ بھی سر اٹھا رہا ہے۔ صارفین کو اب سخت ڈسپلن اور زیادہ بلوں کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے کیونکہ اب بجلی سہولت نہیں بلکہ ایک مہنگی پروڈکٹ بننے جا رہی ہے۔






