حکومتِ پنجاب نے بجلی کے صارفین کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے اپنی فلیگ شپ مفت سولر پینل اسکیم کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایت پر اس پروگرام کو اب سال کے آخر تک جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کی بڑی تعداد اس سے فائدہ اٹھا سکے۔
یہ اقدام کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اب اس کے بجٹ اور دائرہ کار کو مزید بڑھا دیا گیا ہے تاکہ صوبے بھر کے زیادہ سے زیادہ گھرانوں تک پہنچا جا سکے۔
مفت سولر پینل اسکیم: نئی ڈیڈ لائن اور بجٹ کی تفصیل
پہلے یہ اسکیم جون 2026 میں ختم ہونی تھی لیکن اب اس کی آخری تاریخ بڑھا کر دسمبر 2026 کر دی گئی ہے۔ اس توسیع کو سپورٹ کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے تقریباً 10 ارب روپے کے اضافی فنڈز مختص کیے ہیں۔
ترمیم شدہ منصوبے کے تحت کم آمدنی والے شہریوں میں 94,000 سے زائد سولر سسٹمز تقسیم کیے جائیں گے۔ اس توسیع کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے فوائد پنجاب کے دور دراز اضلاع اور تحصیلوں تک پہنچ سکیں۔
سولر پینل اسکیم کی تقسیم کا طریقہ کار
درخواستوں کی غیر معمولی تعداد کے پیش نظر حکومت نے مستحقین کے انتخاب کے لیے ایک شفاف کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی (Balloting) کا طریقہ کار اپنایا ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ عوام کا ردعمل حیران کن رہا ہے اور اب تک 8 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
سولر پینل اسکیم کی نمایاں خصوصیات
مستحقین: کم آمدنی والے صارفین جن کے بجلی کے بل زیادہ آتے ہیں۔
جغرافیائی دائرہ کار: پنجاب کے تمام اضلاع اور تحصیلیں۔
صارفین کے لیے قیمت: منتخب خوش نصیبوں کے لیے یہ سسٹمز بالکل مفت فراہم کیے جائیں گے۔
انتخاب کا طریقہ: منصفانہ اور شفاف کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی۔
سولر پینل اسکیم: ایک نظر میں
| کیٹیگری | تفصیلات |
| نئی آخری تاریخ | دسمبر 2026 |
| کل تقسیم کیے جانے والے سسٹمز | 94,000 سے زائد |
| منصوبے کی تخمینہ لاگت | 10 ارب روپے |
| کل موصول شدہ درخواستیں | 800,000 سے زائد |
| وزیر اعلیٰ | مریم نواز |
سولر پینل اسکیم میں توسیع کی اہمیت
ڈیڈ لائن میں یہ توسیع توانائی کے بحران اور عوام کی جانب سے بڑھتی ہوئی مانگ کے براہِ راست جواب میں کی گئی ہے۔ ان سسٹمز کی فراہمی سے پنجاب حکومت کا مقصد نیشنل گرڈ پر بوجھ کم کرنا اور ان ہزاروں خاندانوں کو مستقل مالی ریلیف فراہم کرنا ہے جو ماہانہ یوٹیلیٹی اخراجات کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
مزید خبروں کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں






