خیبر پختونخوا (KP) کی قانون ساز اسمبلی نے صوبے میں مقیم اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ اور سماجی فلاح و بہبود کی جانب ایک بڑا تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں ہندو میرج ترمیمی بل 2026ء کو کثرتِ رائے سے باضابطہ طور پر پاس کر دیا گیا ہے۔ اس اہم ترین بل کی منظوری کے ساتھ ہی کے پی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ملاکنڈ اور سابقہ قبائلی اضلاع (فاٹا اور پاٹا) میں ٹیکس چھوٹ کے معاملے پر غیر معمولی اتحاد اور گرما گرم بحث بھی دیکھنے کو ملی۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم قانون کی نئی شقوں، اقلیتی حقوق پر اس کے اثرات اور اسمبلی کی دیگر کارروائی کا احاطہ کریں گے۔
ہندو میرج ترمیمی بل 2026ء کی اہم ترین دفعات اور رجسٹریشن کا طریقہ
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے بلدیات، مینا خان آفریدی نے اسمبلی کے فلور پر ہندو میرج ترمیمی بل 2026ء ایوان کے سامنے پیش کیا، جسے بغیر کسی بڑی مخالفت کے فوری طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس نئے ترمیمی قانون کا بنیادی مقصد ہندو برادری کی شادیوں کے اندراج اور رجسٹریشن کے مینوئل نظام کو مقامی سطح پر خود مختار اور آسان بنانا ہے۔
اس قانون کے تحت متعارف کروائی جانے والی چند اہم تبدیلیاں درج ذیل ہیں:
اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی: نئے بل کے مطابق ہندو شادیوں کے اندراج کے لیے خصوصی رجسٹرار مقرر کرنے کا اختیار اب براہِ راست ضلعی حکومتوں (District Governments) کو سونپ دیا گیا ہے۔
یونین کونسل کا کردار: ایسی تمام یونین کونسلز جہاں ہندو آبادی کی قابلِ ذکر تعداد رہتی ہے وہاں کی لوکل گورنمنٹ مقامی رجسٹرارز کو باضابطہ لائسنس جاری کرنے کی مجاز ہوگی۔
قانونی دستاویزات کا حصول: اس ترمیم سے ہندو برادری کو اپنی شادیوں کے قانونی اندراج، نادرا (NADRA) سے میرج سرٹیفکیٹ کے حصول اور وراثت یا طلاق جیسے خاندانی مسائل کو حل کرنے میں بے پناہ آسانی ہوگی۔
ملاکنڈ اور قبائلی اضلاع میں ٹیکس کا تنازعہ: حکومتی و اپوزیشن اتحاد
اجلاس کا سب سے ہنگامہ خیز اور اہم موڑ اس وقت آیا جب ایوان میں موجود حکومتی بینچوں اور اپوزیشن جماعتوں نے اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملاکنڈ ڈویژن اور نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ٹیکس نافذ کرنے کی کوششوں کے خلاف مشترکہ آواز بلند کی۔ دونوں اطراف کے اراکین نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ ان پسماندہ علاقوں کے عوام کو دی گئی ٹیکس چھوٹ کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔
اس بحث کے دوران درج ذیل سیاسی بیانات اور فیصلے سامنے آئے:
اسپیکر کی رولنگ: اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اس سنگین معاملے پر ایوان میں مکمل بحث کرانے کا اعلان کیا اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے دونوں جانب کے پارلیمانی لیڈروں کا مشترکہ اجلاس بلانے کا اشارہ دیا۔
سیاسی الزامات کا تبادلہ: صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد نے اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے اصرار کیا کہ تحریک انصاف (PTI) کے دورِ حکومت میں ملاکنڈ پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) پر ڈرامہ بازی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایک ہوٹل پر عائد کیا گیا ٹیکس وفاقی حکومت کی پالیسی کا نتیجہ تھا۔
ماضی کے وعدوں کا تذکرہ: ایوان کو یاد دلایا گیا کہ سابق وزرائے اعظم شاہد خاقان عباسی اور عمران خان دونوں نے اپنے ادوار میں ملاکنڈ کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ان علاقوں پر کسی قسم کا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔
مائن ورکرز کے لیے ‘ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز ترمیمی بل’ کی تیاری
ہندو میرج بل کی منظوری کے علاوہ صوبائی حکومت نے کان کنوں (Mine Workers) کی فلاح و بہبود کے لیے ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز (ترمیمی) بل 2026ء بھی تیار کر لیا ہے جسے جلد ہی ایوان میں پیش کیا جائے گا۔
اس بل کے تحت "مائنز لیبر ویلفیئر بورڈ” کی نئے سرے سے تشکیل نو کی تجویز دی گئی ہے جس کی سربراہی سیکرٹری منرلز کریں گے جبکہ چیف کمشنر مائنز لیبر ویلفیئر اس کے وائس چیئرمین ہوں گے۔ اس نو تشکیل شدہ بورڈ میں فنانس، ہیلتھ، لیبر، ایجوکیشن، زکوٰۃ، سوشل ویلفیئر اور سی اینڈ ڈبلیو (C&W) کے محکموں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ کان مالکان اور مزدوروں کے 4، 4 نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
خلاصہ یہ کہ جہاں ہندو میرج ترمیمی بل 2026ء کے پی میں مذہبی ہم آہنگی اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا، وہیں ٹیکس چھوٹ کے معاملے پر صوبائی اسمبلی کا متحدہ موقف وفاق اور صوبے کے درمیان آنے والے دنوں میں ایک اہم بحث کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔






