سندھ اسمبلی نے صوبے میں صدیوں سے نظر انداز کیے جانے والے طبقے کے لیے "گھریلو ملازمین کا بل” منظور کر کے ایک تاریخی اور انتہائی اہم قدم اٹھایا ہے۔ صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور پر سندھ ڈومیسٹک ورکرز ویلفیئر بل(Sindh Domestic Workers Welfare Bill) منظور کر لیا ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد گھروں میں کام کرنے والے مرد و خواتین، ماسیوں، ڈرائیورز اور مالیوں جیسے محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کرنا، ان کے اوقاتِ کار کا تعین کرنا اور ان کے استحصال کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے صوبائی وزیرِ قانون ضیاء الحسن لنجار نے یہ بل اسمبلی میں پیش کیا جسے تفصیلی بحث اور ترامیم کے بعد منظور کر لیا گیا۔ اس مضمون میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے کہ اس نئے قانون کے تحت گھریلو ملازمین کو کون سے حقوق فراہم کیے گئے ہیں اور مالکان پر کیا شرائط عائد کی گئی ہیں۔
چائلڈ لیبر کا خاتمہ: 16 سال سے کم عمر بچوں کے کام پر مکمل پابندی
اس بل کی سب سے اہم اور انقلابی شق بچوں کے تحفظ سے متعلق ہے۔ نئے قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر کسی بھی بچے کو گھریلو ملازم کے طور پر رکھنا جرم قرار دیا گیا ہے۔
ماضی میں کم عمر بچوں پر گھروں میں تشدد کے متعدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جن کے تدارک کے لیے یہ سخت فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اپنے گھر میں 16 سال سے کم عمر بچے یا بچی کو ملازم رکھے گا تو اسے بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ملازمت کے اوقاتِ کار اور ہفتہ وار چھٹی کا تعین
اس بل کے ذریعے گھریلو ملازمین کے کام کرنے کے اوقات کو باقاعدہ منظم کیا گیا ہے:
روزانہ کے اوقاتِ کار: فل ٹائم یا گھر میں رہائش پذیر (Live-in) ملازمین کو دن میں 8 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
ہفتہ وار چھٹی: کسی بھی ملازم سے ہفتے میں 6 دن سے زیادہ کام نہیں لیا جا سکتا۔ ہر گھریلو ملازم ہفتے میں ایک دن کی بامعاوضہ چھٹی کا قانونی حقدار ہوگا۔
سالانہ چھٹیاں: ملازمین کو سال بھر میں 10 اتفاقی (Casual) چھٹیاں اور 8 طبی (Sick) چھٹیاں پوری تنخواہ کے ساتھ دی جائیں گی۔
خواتین ملازمین کے لیے میٹرنٹی لیو (Maternity Leave)
سندھ حکومت نے خواتین گھریلو ملازمین کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بل میں ایک اور بہترین شق شامل کی ہے۔ اب گھروں میں کام کرنے والی حاملہ خواتین کو 6 ہفتوں کی بامعاوضہ زچگی کی چھٹی (Paid Maternity Leave) مل سکے گی، جس دوران ان کی تنخواہ سے کوئی کٹوتی نہیں کی جا سکے گی۔
Update |
— South Asia Times (@_southasiatimes) May 19, 2026
The Sindh Assembly on Monday passed the Domestic Workers Welfare Bill 2025, providing formal legal protections to household workers across the province. The law sets an eight-hour workday, six-day week, paid maternity leave, casual and sick leave, mandatory employment… pic.twitter.com/YvYeMvgsXQ
تحریری معاہدہ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی
اب زبانی کلامی نوکری رکھنے کا رواج ختم ہو جائے گا۔ قانون کے تحت مالکان کے لیے درج ذیل امور لازمی قرار دیے گئے ہیں:
تحریری تقرر نامہ (Employment Letter): نوکری پر رکھتے وقت مالک مقررہ فارمیٹ پر ملازم کو تحریری لیٹر دے گا جس کی ایک کاپی دستی یا ڈیجیٹل طریقے سے محکمہ لیبر کے انسپکٹر کو جمع کروانا ہوگی۔
کھانا اور طبی دیکھ بھال: گھر میں رہنے والے ملازمین کو مناسب آرام کے وقفے، طبی سہولیات اور معیاری کھانا فراہم کرنا مالک کی ذمہ داری ہوگی۔
کم از کم اجرت کی پابندی: ملازمین کو دی جانے والی تنخواہ حکومتِ سندھ کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت کے قوانین کے مطابق ہونی چاہیے۔
شکایات کے ازالے کے لیے منصفانہ نظام
مالک اور ملازم کے درمیان کسی بھی قسم کے تنازع یا تنخواہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں شکایت درج کرانے کے لیے ایک ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (Dispute Resolution Committee) قائم کی جائے گی۔ اس کمیٹی کی سربراہی گریڈ 16 کا سرکاری افسر کرے گا۔ اگر کوئی فریق کمیٹی کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہوگا تو وہ ہر ضلع میں قائم اپیلٹ اتھارٹی کے پاس اپیل دائر کرنے کا حق رکھے گا۔صوبائی حکومت کے اس اقدام کو سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے۔ بل سے متعلق مزید سرکاری نوٹیفیکیشنز اور لیبر قوانین کی تفصیلات جاننے کے لیے آپ Provincial Assembly of Sindh کی آفیشل ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔ ملازمین کی فلاح و بہبود کے اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کروانا اب حکومت اور معاشرے دونوں کی اولین ذمہ داری ہے۔
تازہ ترین خبریں اور اہم معلومات حاصل کرنے کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں۔






