پاکستان میں بڑھتے ہوئے توانائی کے بحران، بجلی کے بھاری بلوں پر عوامی احتجاج اور آزاد پاور پروڈیوسرز کو دی جانے والی کیپیسٹی چارجز کی ادائیگیوں کے دباؤ کے بعد وفاقی حکومت نے ایک بڑا اور تزویراتی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے پاور ڈویژن کے اعلیٰ بیوروکریٹس اور افسران کو ملنے والی مفت بجلی کی طویل ترین اور روایتی سہولت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرتے ہوئے مفت بجلی کی مانیٹائزیشن پالیسی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
پاور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ آفیشل مینوئل اور گائیڈ لائنز کے مطابق، گریڈ 17 سے لے کر گریڈ 21 تک کے تمام اعلیٰ افسران کو اب مفت بجلی کے یونٹس فراہم نہیں کیے جائیں گے اس کے بجائے ان افسران کو ان کے سابقہ الاٹ کردہ یونٹس کے متبادل کے طور پر ہر ماہ فکسڈ کیش الاؤنس دیا جائے گا جو براہِ راست ان کی ماہانہ تنخواہوں کا حصہ بنے گا اور وہ اپنے گھروں کے بجلی کے بل عام شہریوں کی طرح خود ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔
گریڈ کے لحاظ سے کیش الاؤنس کی تفصیلی تقسیم اور فی یونٹ قیمت
حکومتِ پاکستان نے اس نئی مانیٹائزیشن پالیسی کے تحت فی یونٹ قیمت 30 روپے مقرر کی ہے。 اسی حساب سے مختلف گریڈز کے افسران کے لیے ماہانہ کیش رقم کا جو اسٹرکچرل فریم ورک وضع کیا گیا ہے، اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
گریڈ 17 (BS-17): اس گریڈ کے افسران کو پہلے 450 مفت یونٹس ملتے تھے، جن کے متبادل کے طور پر اب انہیں ہر ماہ 15,858 روپے کیش الاؤنس ملے گا۔
گریڈ 18 (BS-18): سابقہ 600 یونٹس کے بدلے ان افسران کو ماہانہ 21,990 روپے کی ادائیگی کی جائے گی۔
گریڈ 19 (BS-19): ان مینیجرز کو پہلے 880 یونٹس الاٹ تھے جن کی جگہ اب تنخواہ میں 37,594 روپے شامل کیے جائیں گے۔
گریڈ 20 (BS-20): سابقہ 1,100 یونٹس کے عوض ان افسران کو ہر ماہ 46,992 روپے کا الاؤنس دیا جائے گا۔
گریڈ 21 (BS-21): سب سے اعلیٰ سطح کے ان بیوروکریٹس کو اب ماہانہ زیادہ سے زیادہ 55,536 روپے نقد فراہم کیے جائیں گے۔
لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ اور پالیسی کو قانونی تحفظ
یاد رہے کہ وفاقی حکومت کا یہ اقدام لاہور ہائی کورٹ کے ایک حالیہ تاریخی اور تفصیلی فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی افسران ایسوسی ایشن کی جانب سے اس مانیٹائزیشن پالیسی کے خلاف دائر کردہ آئینی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے واضح کیا تھا کہ مفت بجلی حاصل کرنا سرکاری ملازمین کا کوئی مستقل آئینی یا قانونی حق نہیں ہے بلکہ یہ صرف سروس سے منسلک ایک عارضی مینوئل سہولت تھی۔
عدالتِ عالیہ نے اپنے رولنگ مینوئل میں درج ذیل اہم نکات کا اعادہ کیا:
انتظامیہ کا قانونی دائرہ اختیار: وفاقی کابینہ اور پاور منسٹری کو یہ پورا آئینی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے انتظامی کنٹرول میں کام کرنے والے اداروں (جیسے ڈسکوز، جینکوز اور واپڈا) کے مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے پالیسیاں وضع کرے۔
قومی خزانے پر بوجھ میں کمی: سابقہ مینوئل رولز کے تحت گریڈ 18 سے 22 کے افسران سالانہ تقریباً 7 کروڑ 50 لاکھ یونٹس مفت استعمال کر رہے تھے جس سے قومی خزانے پر سالانہ 4 سے 4.5 ارب روپے کا بھاری بوجھ پڑ رہا تھا۔ اس نئی پالیسی سے کرپشن اور یونٹس کی ڈوپلیکیشن کا خاتمہ ہوگا۔
پاور سیکٹر کے اصلاحاتی روڈ میپ اور آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط
پاور سیکٹر کے سیکریٹری راشد لنگڑیال نے ایک پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ یہ ڈیجیٹل اور مالیاتی منتقلی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ طے پانے والے معاشی اصلاحاتی روڈ میپ کا حصہ ہے انہوں نے بتایا کہ حکومت بجلی کی چوری روکنے اور ریونیو ریکوری کو سوفٹ وئیر کی مدد سے خودکار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اب بجلی کے ٹیرف کے تعین کا تمام تر اختیار صرف نیپرا (NEPRA) کے پاس ہے جو ایندھن کی قیمتوں کے مطابق فیصلے کرتا ہے حکومت کا یہ اقدام معیشت کو کلاؤڈ اور کیش لیس مینوئل پر لانے کی ایک کڑی ہے۔






