پاکستان میں موبائل فون ٹیکس میں کمی کے مطالبے کے باوجود گزشتہ کئی سالوں سے بھاری درآمدی ڈیوٹیز اور رجسٹریشن فیسوں نے اسمارٹ فونز کو ایک پرتعیش چیز (Luxury Item) بنا دیا ہے۔ تاہم آج کی سفارش حکومت کی مالیاتی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ کمیٹی نے دلیل دی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے موجودہ ٹیکس ڈھانچے نے ایک ایسی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے جو ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی راہ میں حائل ہے۔ ان ٹیکسوں میں کمی کے ذریعے حکومت کا مقصد ملک میں اسمارٹ فونز کے استعمال کو بڑھانا ہے جس کا براہ راست تعلق معاشی پیداواری صلاحیت سے ہے۔
طالب علموں کو سستے ہارڈویئر کی ضرورت کیوں ہے؟
موجودہ تعلیمی ماحول میں اسمارٹ فون تک رسائی اب اختیاری نہیں رہی۔ لرننگ مینجمنٹ سسٹم (LMS) کے انتظام سے لے کر جدید AI ٹولز کے استعمال تک تمام شعبوں کے طالب علم بشمول فزیکل تھراپی اور بائیو انجینئرنگ جیسے مشکل شعبہ جات موبائل ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں۔
قومی اسمبلی کے پینل نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ کم آمدنی والے ہونہار طالب علم موجودہ قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ تجویز میں مڈ رینج اور بجٹ فرینڈلی آلات (خاص طور پر 100 سے 300 ڈالر کی قیمت والے فونز) کے لیے بڑے ٹیکس ریلیف کی سفارش کی گئی ہے۔ اس سے یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ طالب علم ایسے پروڈکٹیوٹی ڈیوائسز خرید سکیں گے جو بھاری پی ٹی اے (PTA) رجسٹریشن اخراجات کے بغیر جدید تعلیمی سافٹ ویئر چلانے کے قابل ہوں۔
متوسط طبقے کے لیے معاشی ریلیف
روپے کی قدر میں کمی اور بھاری ٹیکسوں کے امتزاج نے متوسط طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ اس وقت ایک مڈ رینج فون کی قیمت کسٹمز ڈیوٹی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے ٹیکس شامل ہونے کے بعد تقریباً دگنی ہو جاتی ہے۔
کمیٹی نے ٹیکسوں میں کمی کے لیے کئی اہم دلائل پیش کیے:
قانونی درآمدات کی حوصلہ افزائی: انتہائی زیادہ ٹیکسوں نے نادانستہ طور پر اسمگل شدہ اور "نان پی ٹی اے” (Non-PTA) فونز کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔ ٹیکس کم ہونے سے صارفین قانونی ذرائع سے خریداری کریں گے۔
ڈیجیٹل دستاویزات کا فروغ: اسمارٹ فون کے بڑھتے ہوئے استعمال سے موبائل بینکنگ اور دستاویزی ڈیجیٹل لین دین میں اضافہ ہوگا۔
فری لانس معیشت کی حمایت: پاکستان کے نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ موبائل ایپس کے ذریعے فری لانسنگ کر کے زرمبادلہ کماتا ہے ان کے لیے کام کی لاگت کم کرنا قومی خزانے میں ایک سرمایہ کاری ہے۔
بجٹ 2026 اور عمل درآمد
اگرچہ قومی اسمبلی کے پینل کی یہ سفارش ایک بڑا سنگ میل ہے، لیکن حتمی عمل درآمد کا انحصار وزارتِ خزانہ پر ہے۔ تجویز میں ایک مرحلہ وار ٹیکس نظام (Tiered tax system) تجویز کیا گیا ہے: جہاں مہنگے اور لگژری فونز پر زیادہ ٹیکس برقرار رہے گا، وہیں تعلیم اور کام کے لیے استعمال ہونے والے آلات کے ٹیکس میں 30% سے 40% تک کمی کی جائے گی۔ اگر اس کی منظوری مل جاتی ہے، تو یہ تبدیلی آئندہ مالیاتی بجٹ میں نظر آسکتی ہے جس سے مقامی موبائل مارکیٹ میں قیمتیں مستحکم ہو جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس حاصل کرنے کے لیے Urdu Khabar کا رخ کریں






