پاکستان بھر کے شہریوں اور سرکاری و نجی ملازمین کے لیے ایک بڑی اور اہم ترین خبر سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت نے جشنِ عید میلاد النبی ﷺ (12 ربیع الاول 1448 ہجری) کے مقدس اور بابرکت موقع پر ملک بھر میں باقاعدہ طور پر عید میلاد النبی پر عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ وفاقی کابینہ کی منظوری اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت کے بعد کیبنٹ ڈویژن نے اس حوالے سے ایک باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق 26 اگست 2026 بروز بدھ کو پورے ملک میں عام تعطیل ہوگی۔ یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے سالِ رواں کے آغاز میں جاری کیے جانے والے پبلک اور آپشنل چھٹیوں کے مروجہ مینوئل اور شیڈول کے تسلسل میں کیا گیا ہے۔ وفاق کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں، بشمول حکومتِ سندھ نے بھی اپنے اپنے دائرہ کار میں 26 اگست کو صوبائی سطح پر عام تعطیل کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
کیبنٹ ڈویژن کا آفیشل نوٹیفکیشن اور بینکوں کی بندش کا شیڈول
کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ آفیشل سرکولر کے مطابق، بدھ 26 اگست کو ملک بھر کے تمام سرکاری، نیم سرکاری، نجی ادارے اور تعلیمی ادارے (اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں) مکمل طور پر بند رہیں گے۔
اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے مروجہ قوانین کے مطابق پاکستان بھر کے تمام تجارتی بینک، ترقیاتی مالیاتی ادارے (DFIs)، اور مائیکرو فنانس بینک بھی اس دن کسٹمرز کے لیے بند رہیں گے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے بھی تجارتی نیٹ ورکس کو مینوئل تاخیر سے بچانے اور اس مقدس دن کی مناسبت سے 26 اگست کو ٹریڈنگ بند رکھنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ تاہم شہریوں کی سہولت کے لیے تمام بینکوں کے اے ٹی ایم (ATM) نیٹ ورکس اور آن لائن ڈیجیٹل بینکنگ ایپس چوبیس گھنٹے فعال رہیں گی۔
مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کا فیصلہ اور مذہبی جوش و خروش
اس سال ربیع الاول کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی صدارت میں منعقد ہوا تھا۔ اجلاس میں ملک بھر سے زونل کمیٹیوں اور محکمہ موسمیات کے سائنسی ماہرین نے شرکت کی۔ 13 اگست کو چاند نظر نہ آنے کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر اعلان کیا تھا کہ 12 ربیع الاول یعنی عید میلاد النبی ﷺ کا مبارک دن 26 اگست کو ہوگا۔
پاکستان بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں (لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، اور کوئٹہ) میں اس مبارک دن کو منانے کے لیے تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں:
چراغاں اور سجاوٹ: ملک بھر کی تمام بڑی سرکاری عمارات، مساجد، شاہراہوں اور بازاروں کو رنگ برنگی برقی قمیقموں اور آرائشی لائٹس سے دلہن کی طرح سجایا جا رہا ہے۔
مقدس اجتماعات: اس دن کی مناسبت سے ملک گیر سطح پر محافلِ نعت، قرآنی قرائت، درود و سلام کی مجالس اور سیرت النبی ﷺ کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا۔
جلوسوں کا انعقاد: تمام اضلاع کی انتظامیہ اور پولیس مینیجرز نے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات وضع کر دیے ہیں تاکہ میلاد کے روایتی جلوس پرامن طریقے سے اپنے مقررہ راستوں پر گامزن ہو سکیں۔
علماء کرام اور مذہبی اسکالرز اس اہم ترین دن کے موقع پر مسلمانوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی پاکیزہ زندگی، بہترین اسوۂ حسنہ، اخلاقِ حمیدہ اور امن و آشتی کی تعلیمات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔






