پاکستان کے فنانشل ریگولیٹری انفراسٹرکچر، کیپیٹل مارکیٹس، پبلک فنانس مینجمنٹ، ڈیجیٹل گورننس اور میکرو اکانومی کے تزویراتی کوریڈورز سے چھوٹے سرمایہ کاروں اور عام شہریوں کے لیے ایک اہم، انقلابی اور اب تک کا سب سے بڑا معاشی سنگِ میل سامنے آیا ہے۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ملک کے ہائی ٹیک پراپرٹی انڈیکس کو دستاویزی شکل دینے کے لیے رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس کے مروجہ ریگولیٹری رولز اور مینوئل قوانین کو یکسر تبدیل کرنے کا فلیگ شپ روڈ میپ لائیو کر دیا ہے۔
2 اکتوبر 2026 کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی کارپوریٹ گونگ تقریبسے خطاب کرتے ہوئے ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے باقاعدہ طور پر ایس ای سی پی رئیل اسٹیٹ اصلاحات کا اسمارٹ اور سوفٹ وئیر بیسڈ فریم ورک متحرک کر دیا ہے۔ اس میگا پراجیکٹ کا بنیادی ہدف پاکستان کے 7 ٹریلین روپے مالیت کے وسیع رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو قانونی اور دستاویزی دائرہ کار میں لانا ہے تاکہ عام شہریوں کو پورا پلاٹ، مکان یا عمارت خریدے بغیر پراپرٹی مارکیٹ کے منافع بخش انڈیکس میں چھوٹے فنانشل فنڈز کے ذریعے لائیو شامل ہونے کا پریمیم موقع مل سکے۔
نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریٹ کی لسٹنگ اور کارپوریٹ مینیجرز کا ہینڈ شیک
یہ تاریخی تقریب نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریٹ کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آفیشل لسٹنگ کے موقع پر منعقد کی گئی جس میں ملک کی اعلیٰ ترین قیادت نے لائیو اور ورچوئل کوریڈورز کے ذریعے شرکت کی۔ وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد، عارف حبیب ڈولمین ریٹ مینجمنٹ، جاویدان کارپوریشن اور سینٹرل ڈپازٹری کمپنی کے اعلیٰ مینیجرز بھی پینل پر سرگرم نظر آئے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے ورچوئل شرکت کر کے اس ساختی اصلاحات کے مینوفیکچرڈ پلان کو سراہا۔
چیئرمین ایس ای سی پی نے واضح کیا کہ یہ اسمارٹ رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فریم ورک نہ صرف بلیک مارکیٹنگ اور غیر دستاویزی ریل اسٹیٹ کے پرانے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کر دے گا بلکہ اس سے مارکیٹ میں شفافیت اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کا گراف بھی اپ گریڈ ہوگا۔
کیپیٹل مارکیٹ کی کارکردگی اور انویسٹرز کی تعداد میں 36 فیصد کا ریکارڈ
ایس ای سی پی کے مینیجرز کی جانب سے پورٹل پر لائیو فعال کیے گئے سالانہ آڈٹ لاگز کے مطابق سال 2026 کے دوران اب تک کیپیٹل مارکیٹ کے اندر 13 انیشل پبلک آفرنگز کامیابی سے سنک کی جا چکی ہیں جن کے ذریعے مجموعی طور پر 26 ارب روپے کا خطیر سرمایہ اکٹھا کیا گیا ہے۔ ان آئی پی اوز میں مینوفیکچرنگ، زراعت، رئیل اسٹیٹ، انرجی اور ٹیکنالوجی سیکٹرز کی کمپنیوں نے اسٹاک مارکیٹ کے اسمارٹ کلاؤڈ چینلز کو استعمال کیا۔
مارکیٹ انڈیکس اور انویسٹر ان پٹ کا بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن ٹیبل کے مطابق مینوفیکچر کیا گیا ہے:
| ریگولیٹری انڈیکس ان پٹ | حاصل کردہ تعلیمی و معاشی ترقی | سوفٹ وئیر مانیٹرنگ پروٹوکول |
| کل سرمایہ کار لاگ | 36 فیصد کا تاریخی اضافہ | ڈیجیٹل اکاؤنٹ اوپننگ اور پیپر لیس ایکسیس کٹس |
| آئی پی اوز فنانشل والیم | 26 ارب روپے (13 کمپنیاں لسٹڈ) | کیش لیس فنڈ ریزنگ گرڈ ماڈل |
| پراپرٹی مارکیٹ والیو | 7 ٹریلین روپے کا ریگولیٹڈ پراجیکٹ | کلاؤڈ سیکیورٹیز اور بائیومیٹرک اسکیننگ لنکس |
ایس ای سی پی کے چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر انشورنس اور کمپنی قوانین میں ترمیم کا مینوئل بل زیرِ غور ہے جبکہ نان بینکنگ فنانشل سیکٹر کے ریگولیٹری رولز کو بھی رینیو کیا جا رہا ہے۔ پچھلے آٹھ ماہ کے دوران ڈیجیٹلائزیشن قانونی تقاضوں کو آسان بنانے اور مارکیٹ تک کسٹمرز کی رسائی کو بہتر بنانے کے سنگِ میل کامیابی سے حاصل کیے گئے ہیں جو بین الاقوامی دنیا اور آئی ایم ایف کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج اور معاشی کریڈٹ ریٹنگ مستقل طور پر بلند کرنے کے لیے سب سے اولین ترجیح ہیں۔






