پاکستان کے ہائیر ایجوکیشن انفراسٹرکچر، میڈیکل ریگولیٹری مانیٹرنگ، صوبائی پبلک سروس ڈیلیوری اور عدالتی کوریڈورز سے ڈاکٹر بننے کے خواہش مند لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایک اہم، ہنگامی اور بڑا قانونی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ سندھ کے 10 متاثرہ طلبہ نے مشترکہ طور پر مروجہ داخلہ ٹیسٹ ماڈل کے لوپ ہولز کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں ایک پریمیم آئینی درخواست دائر کر دی ہے جس میں حکام کو پابند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انٹری ٹیسٹ کا اصل سوالنامہ اور آفیشل انسر کیز فوری طور پر پبلک پورٹل پر لائیو فعال کریں۔
2 اکتوبر 2026 کو عدالتی ڈیش بورڈ پر رجسٹرڈ ہونے والے آفیشل لاگز کے مطابق اس تزویراتی قانونی جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر سندھ ہائیکورٹ ایم ڈی کیٹ پٹیشن کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک سرگرم ہو چکا ہے۔ طلبہ کے مایہ ناز مینیجر اور قانونی مشیر ایڈووکیٹ محمد نواز ڈاہری کے ذریعے دائر کی گئی اس پٹیشن میں عدالتِ عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ جب تک شفافیت کا آڈٹ مکمل نہیں ہو جاتا تب تک میڈیکل کالجوں کی فائنل میرٹ لسٹنگ اور تمام داخلہ پروٹوکولز کو عارضی طور پر ہالٹ رکھا جائے۔ اس کارروائی کا بنیادی ہدف سسٹم کے اندر موجود اینٹی چیٹنگ اور میرٹ شارٹ فالز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کر کے پاکستان کا سافٹ امیج اور تعلیمی معیار مستقل طور پر فروغ دینا ہے۔
پی ایم ڈی سی اور جامعات کے خلاف چالان، 3 دن میں سوالنامہ اپ لوڈ کرنے کا مطالبہ
درخواست گزار طلبہ نے اپنے سوفٹ وئیر بیسڈ شواہد پیش کرتے ہوئے کیس کے اندر 6 مختلف ریگولیٹری اور تعلیمی اداروں کو فریق بنایا ہے۔ ان میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، سکھر آئی بی اے یونیورسٹی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے ٹاپ مینیجرز شامل ہیں۔
مینوفیکچرڈ پریفیس کے تحت طلبہ نے عدالت سے درج ذیل تین بنیادی سیکیورٹی ریلیف مانگے ہیں:
3 روزہ ہنگامی ڈیڈ لائن: عدالت حکام کو سخت آرڈر جاری کرے کہ وہ ٹیسٹ پورٹل پر محض 3 روز کے اندر اصل سوالنامہ اور آفیشل انسر کیز اپ لوڈ کریں تاکہ طلبہ لائیو اسکیننگ کر سکیں۔
اعتراضات جمع کرانے کا اسمارٹ موقع: اگر آفیشل جوابی کیز کے اندر نیسکام یا یونیورسٹی لیول پر کوئی مینوئل لوپ ہول یا غلطی پائی جائے تو طلبہ کو ڈیجیٹل ہیلپ ڈیسک کے ذریعے چیلنج کرنے کا وائٹ لسٹڈ حق دیا جائے۔
کاربن کاپی کی لاحاڈل تصدیق: 20 ستمبر کو منعقد ہونے والے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے بعد عملے نے طلبہ کو جوابات کی مینوئل کاربن کاپی تو پے کر دی تھی لیکن اصل سوالنامہ اپنے پاس لاک کر لیا تھا جس کے بغیر کاربن کاپی کا آڈٹ کرنا سراسر ناممکن ہے۔
میرٹ انڈیکس پر کڑی مانیٹرنگ اور مستقبل کے کیریئر لاگز کا فائننشل تحفظ
ایڈووکیٹ محمد نواز ڈاہری نے پینل کے سامنے اصرار کیا کہ میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں محض ایک یا دو مارکس کا مینوئل فرق بھی طالب علم کے میرٹ پوزیشن کے گراف کو سیکنڈوں میں تبدیل کر سکتا ہے جس سے ان کا کسی سرکاری میڈیکل کالج میں سستے فنانشل ٹیرف پر داخلہ لینے کا سنہری خواب مستقل طور پر فیز آؤٹ ہو سکتا ہے۔
| امتحانی پیرامیٹر لاگ | موجودہ ریگولیٹری لوپ ہول | طلبہ کا مجوزہ سائنسی حل |
| اصل سوالنامہ | امتحانی عملے کی طرف سے بحقِ سرکار ضبط | پورٹل پر پی ڈی ایف فارمیٹ میں لائیو اپ لوڈنگ |
| جوابی کیز | سوالنامے کے بغیر اندھی تصدیق کا دباؤ | کاربن شیٹ کے ساتھ لائیو کلاؤڈ سنکنگ |
| میڈیکل ایڈمیشن لسٹ | مینوئل التوا کے بغیر جاری کرنے کا مائنڈ سیٹ | آڈٹ مکمل ہونے تک مکمل ہالٹ |
طلبہ کا پراعتماد موقف ہے کہ ان دونوں دستاویزی فائلوں کو پبلک کرنے سے پورے ایم ڈی کیٹ انفراسٹرکچر کے اندر پیپر لیس شفافیت اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کا گراف اپ گریڈ ہوگا جو ملکی ہیومن انڈیکس اور میرٹ کریڈٹ ریٹنگ کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ہنگامی نوٹسز جاری ہونے کے بعد اگلا لائیو سیشن متوقع ہے۔






