پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ربیع الاول کا مہینہ اور عید میلاد النبیؐ کا دن انتہائی بابرکت اور خوشیوں بھرا ہوتا ہے۔ سال 2026 میں اس مقدس ترین دن کی آمد کے حوالے سے وفاقی حکومت اور ماہرینِ فلکیات نے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ پاکستان کے کروڑوں عاشقانِ رسولؐ بڑی بے صبری سے 12 ربیع الاول کی حتمی تاریخ کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ولادتِ باسعادت کا جشن شایانِ شان طریقے سے منایا جا سکے۔ اس سلسلے میں محکمہ موسمیات (PMD) کی جانب سے ایک اہم ترین پیش گوئی سامنے آئی ہے جس میں عید میلاد النبی 2026 کی متوقع تاریخ کا واضح اشارہ دیا گیا ہے
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی اور متوقع تاریخ
پاکستان کے ماہرینِ فلکیات کے مطابق سال 2026 میں ربیع الاول کا چاند نظر آنے اور عید میلاد النبیؐ کی مناسبت سے سائنسی حساب کتاب مکمل کر لیا گیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں عید میلاد النبی 2026 کا باقاعدہ آغاز بدھ، 26 اگست 2026 کو ہونے کا قوی امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگست کے وسط میں ربیع الاول کے چاند کی پیدائش ہوگی اور اگر مطلع صاف رہا تو چاند مقررہ وقت پر دیکھا جا سکے گا۔ تاہم پاکستان میں اسلامی مہینوں کا حتمی اور شرعی فیصلہ ہمیشہ کی طرح مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے باضابطہ اجلاس کے بعد ہی کیا جائے گا جو ملک بھر سے موصول ہونے والی شرعی شہادتوں کی بنیاد پر چاند کا اعلان کرتی ہے۔
عید میلاد النبیؐ پر عام تعطیل کا اعلان
حکومتِ پاکستان کی روایات کے مطابق 12 ربیع الاول کے تاریخی اور مبارک دن پر ملک بھر میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس سال بھی متوقع تاریخ یعنی 26 اگست 2026 (بدھ) کے روز تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ادارے، بشمول اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند رہیں گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اس دن کی مناسبت سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جاتے ہیں تاکہ عاشقانِ رسولؐ اپنے جلوس، محافلِ نعت اور دیگر مذہبی اجتماعات پرامن ماحول میں منعقد کر سکیں۔
پاکستان میں جشنِ آمدِ رسولؐ کی تیاریاں اور رونقیں
پاکستان میں عید میلاد النبی 2026 کی تیاریاں چاند نظر آتے ہی عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، گلیوں اور بازاروں کو خوبصورت برقی قمقموں، ہری جھنڈیوں اور آرائشی دروازوں سے سجایا جاتا ہے۔ اس دن کی بڑی رونقیں درج ذیل سرگرمیوں پر مشتمل ہوتی ہیں:
سرکاری سطح پر تقریبات: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوتا ہے جس کے بعد قومی سیرت کانفرنس منعقد کی جاتی ہے جہاں علمائے کرام نبی کریمؐ کی حیاتِ طیبہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔
ملک گیر جلوس: کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور ملتان سمیت تمام شہروں میں 12 ربیع الاول کے مرکزی جلوس نکالے جاتے ہیں جہاں نعت خوانی اور درود و سلام کی صدائیں گونجتی ہیں۔
چراغاں اور لنگر کا اہتمام: مساجد، سرکاری عمارتوں اور گھروں پر شاندار چراغاں کیا جاتا ہے جبکہ غریبوں اور مسافروں کے لیے وسیع پیمانے پر لنگر اور مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔
بلاشبہ یہ مبارک دن امتِ مسلمہ کے لیے ایک تجدیدِ عہد کا دن ہے جہاں ہر مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات، امن، محبت اور بھائی چارے کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کا عزم کرتا ہے۔






