پاکستان کے ڈیجیٹل گورننس انفراسٹرکچر، صوبائی پبلک سروس ڈیلیوری، لا انفورسمنٹ مانیٹرنگ اور شہری ترقی کے تزویراتی کوریڈورز سے لاہور کے لاکھوں گاڑی مالکان اور ڈرائیورز کے لیے ایک اہم، انقلابی اور پریمیم انتظامی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ سٹی ٹریفک پولیس لاہور نے ان تمام شہریوں کے مسائل کو فوری حل کرنے کے لیے ایک بالکل نیا ہیلپ لائن سسٹم متعارف کروا دیا ہے جنہوں نے ڈرائیونگ لائسنس کا مروجہ امتحانی اور فائننشل فریم ورک تو مکمل کر لیا تھا لیکن انہیں ان کا فزیکل لائسنس کارڈ موصول نہیں ہو سکا تھا۔
1 اکتوبر 2026 کو ٹریفک پولیس کے مرکزی مانیٹرنگ سیل کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ریگولیٹری مینوئل کے مطابق اس اسمارٹ سروس کے فعال ہوتے ہی باقاعدہ طور پر لاہور ٹریفک پولیس ڈرائیونگ لائسنس کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک لائیو ہو چکا ہے۔ اس انقلابی پراجیکٹ کا بنیادی ہدف لائسنس پرنٹنگ اور ڈیلیوری کوریڈورز میں موجود مینوئل لوپ ہولز دفتری تاخیر اور کلرک مافیا کے دباؤ کو ہمیشہ کے لیے بلاک کرنا ہے۔ اب شہری گھر بیٹھے صرف ایک کال کے ذریعے اپنے لائسنس کارڈ کا لائیو اسٹیٹس اسکین کر سکتے ہیں جو پاکستان کا سافٹ امیج بین الاقوامی دنیا کے سامنے ایک جدید اور صارف دوست اسٹیٹ کے طور پر مستقل طور پر فروغ دینے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔
آفیشل ہیلپ لائن نمبرز کا اجرا اور شکایات کا سوفٹ وئیر بیسڈ ٹریکنگ لاگ
ٹریفک پولیس کے اعلیٰ مینیجرز کی جانب سے پورٹل پر اپ لوڈ کی گئی دستاویزی گائیڈ لائنز کے مطابق شہریوں کی سہولت کے لیے دو پریمیم موبائل ہیلپ لائن نمبرز مخصوص کیے گئے ہیں جہاں چوبیس گھنٹے لائیو ہیلپ ڈیسک سرگرم رہے گا۔
شہری درج ذیل ہائی ٹیک نمبرز پر فوری رابطہ کر کے اپنے بائیو ڈیٹا لاگز کو سنک کر سکتے ہیں:
بنیادی ہیلپ لائن نمبر ون: 0322-5638888 ڈیجیٹل کالز کے لیے لائیو
ثانوی ہیلپ لائن نمبر ٹو: 0325-5638888 شکایات کے اندراج اور فوری تصدیق کے لیے فعال
ان نمبرز پر کال کر کے کسٹمرز اپنا نادرا شناختی کارڈ نمبر اور لائسنس فیس رسید کا ٹرانزیکشن لاگ آٹو لاک کروا سکتے ہیں جس کے بعد سسٹم فوری طور پر بتائے گا کہ ان کا کارڈ کس پرنٹنگ زون یا پوسٹل کوریڈور میں ہالٹ ہے۔
پیپر لیس شکایات کا نظام اور طویل ڈیلیوری التوا کا سدِ باب
پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور ٹریفک کونسل رولز کے مطابق اس ڈیجیٹل اقدام کا اصل مقصد لائسنس کے حصول کے عمل کو شہریوں کے لیے یکسر پیپر لیس اور آسان بنانا ہے۔ ماضی میں کارڈز کی ڈیلیوری میں ہونے والی تاخیر کی وجہ سے شہریوں کو بار بار مینوئل ٹریفک اسکولز اور تھانوں کے چکر کاٹنے پڑتے تھے جس سے غیر ضروری سفری اخراجات اور ذہنی دباؤ مینوفیکچر ہوتا تھا۔
اب اس اسمارٹ ہیلپ لائن کے ذریعے درج ہونے والی ہر شکایت کو ایک خودکار کمپیوٹرائزڈ لاگ نمبر تفویض کیا جائے گا اور متعلقہ پرنٹنگ مینیجرز پابند ہوں گے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر کارڈ پے کر کے رپورٹ پورٹل پر اپ لوڈ کریں۔ یہ پائیدار اور مربوط انتظامی رخ ملکی ہیومن انڈیکس اور لا انفورسمنٹ رینکنگ کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا






