وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) نے اسلام آباد کے معروف ترین ہاؤسنگ اور کمرشل پروجیکٹ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو اسکینڈل کی انکوائری رپورٹ جاری کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو اس پورے کیس کا مبینہ مرکزی ماسٹر مائنڈ نامزد کر دیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کے کئی سابق اعلٰی حکام کو بھی اس بڑے مالیاتی اسکینڈل میں براہِ راست معاونت فراہم کرنے پر مجرم قرار دیا گیا ہے۔
جے آئی ٹی کی تحقیقات اور سی ڈی اے حکام کا گٹھ جوڑ
سرکاری ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ عبدالحفیظ شیخ نے سی ڈی اے کے سابق چیئرمین کامران لاشاری، فیصل اعوان اور اظہر علی چوہدری سمیت دیگر سرکاری افسران کے ساتھ مل کر باقاعدہ گٹھ جوڑ کے تحت کام کیا۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس پروجیکٹ میں غیر قانونی رعایتیں دینے اور قوانین کو پسِ پشت ڈالنے کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا بھاری مالی نقصان پہنچایا گیا جبکہ چند مخصوص افراد اور ان کے کاروباری شراکت داروں کو ناجائز معاشی فوائد فراہم کیے گئے۔ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو اسکینڈل کا ماسٹر مائنڈ سامنے آنے کے بعد جے آئی ٹی نے سفارش کی ہے کہ عبدالحفیظ شیخ کو مستقبل میں کسی بھی سرکاری منصوبے یا پروجیکٹ میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے فوری طور پر بلیک لسٹ کیا جائے۔
نیب کو کارروائی کا حکم اور پروجیکٹ کی دوبارہ نیلامی
وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران جے آئی ٹی کی ان تمام تحقیقاتی نتائج کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت قومی خزانے کو لوٹنے والے کسی بھی بااثر شخص کو تحفظ فراہم نہیں کرے گی۔ جے آئی ٹی نے قومی احتساب بیورو (NAB) کو سفارش کی ہے کہ وہ اس کیس کی تحقیقات کو تیز کرے اور اگلے تین ماہ کے اندر ملوث ملزمان کے خلاف احتساب عدالت میں باقاعدہ ریفرنس دائر کرے۔
اس کے ساتھ ہی وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ حکومت اس متنازعہ پروجیکٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل کو شفاف طریقے سے حل کرنے کے لیے اس منصوبے کی نئے سرے سے شفاف اور اوپن ری نیلامی کا بندوبست کرے گی۔ حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جے آئی ٹی کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف فوری اور سخت قانونی ایکشن لیں۔






