اسلام آباد کے قلب میں واقع ون کنسٹی ٹیوشن ایونیو (One Constitution Avenue) کا منصوبہ ایک بار پھر ملکی سیاست اور قانونی حلقوں میں گرما گرم بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ مئی 2026 میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کے تازہ ترین آپریشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد اس پرتعیش عمارت کے مستقبل اور یہاں موجود ہائی پروفائل اپارٹمنٹس بشمول سابق وزیراعظم عمران خان کے سابقہ اپارٹمنٹ کی ملکیت پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
ون کنسٹی ٹیوشن ایونیو کیس: حالیہ عدالتی فیصلہ اور سی ڈی اے آپریشن
اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے 4 مئی 2026 کو اپنے ایک سنگ میل فیصلے میں بلڈر (BNP پرائیویٹ لمیٹڈ) کی لیز منسوخی کے سی ڈی اے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ اس منصوبے میں اپارٹمنٹ خریدنے والوں کے پاس ملکیت کے کوئی آزادانہ حقوق نہیں ہیں۔
عدالتی فیصلے کے فوراً بعد سی ڈی اے اور اسلام آباد پولیس نے عمارت کو خالی کرانے کے لیے آپریشن شروع کیا جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے مداخلت کرتے ہوئے آپریشن روکنے اور ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا تاکہ متاثرین کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
عمران خان کے اپارٹمنٹ (C11E) کی موجودہ صورتحال
عوام میں سب سے زیادہ تجسس عمران خان کے اپارٹمنٹ کے بارے میں پایا جاتا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق:
عمران خان نے یہ اپارٹمنٹ (نمبر C11E) 2022 میں فروخت کر دیا تھا۔
یہ جائیداد اب شاہد نصیر نامی شہری کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
قانونی طور پر چونکہ پوری عمارت کی لیز منسوخ ہو چکی ہے اس لیے موجودہ خریدار کے پاس بھی اس وقت کوئی قانونی ٹائٹل موجود نہیں ہے جب تک کہ حکومت کوئی نیا ریلیف پیکج متعارف نہ کرائے۔
حکومتی کمیٹی اور معاوضے کا منصوبہ
وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی جس کی سربراہی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کر رہے ہیں اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ خریداروں کو ان کی اصل رقم واپس کی جائے یا لیز کو ریگولرائز کیا جائے۔ حکومت نے اصولی طور پر متاثرہ خریداروں کو ان کی اصل خریداری کی قیمت پر معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
نمایاں مالکان کی فہرست
اس عمارت میں صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ کئی دیگر اہم شخصیات نے بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جن میں شامل ہیں:
سابق چیف جسٹس ناصر الملک
اعتزاز احسن
شندانہ گلزار اورنگزیب
سابق وفاقی وزیر برجیس طاہر
مزید اپڈیٹس اور اہم خبروں کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں






